از قلم رائے ظہیر حسین کھرل۔
یکم مئی محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ پسینے کی خوشبو، ٹوٹے ہوئے ہاتھوں کی ہمت اور ان جفاکشوں کی داستان ہے جن کے دم سے دنیا کی رنگینیاں قائم ہیں۔ جب ہم اونچی عمارتوں، چمکتی سڑکوں اور پرتعیش زندگی کو دیکھتے ہیں، تو اکثر ان ہاتھوں کو بھول جاتے ہیں جنہوں نے ایک ایک اینٹ رکھ کر یہ خواب تعمیر کیے۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہِ مزدور کے اوقات
یومِ مزدور کا آغاز 1886 میں امریکہ کے شہر شکاگو سے ہوا۔ جب مزدوروں نے آٹھ گھنٹے کام کے مطالبے کے لیے آواز اٹھائی، تو ان کے لہو سے ہیمارکیٹ اسکوائر کی زمین سرخ ہو گئی۔ وہ قربانی رائیگاں نہیں گئی اور آج دنیا بھر میں یکم مئی کو مزدوروں کے حقوق کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کا مزدور واقعی آزاد ہے؟ آج بھی ہمارے اردگرد ایسے لاکھوں مزدور ہیں جو صبح سے شام تک تپتی دھوپ میں ہڈیاں پگھلاتے ہیں تاکہ ان کے گھر کا چولہا جل سکے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ جو محل بناتا ہے، اس کا اپنا گھر کچا ہوتا ہے؛ جو کپڑا بنتا ہے، اس کے اپنے بچے پیوند لگے کپڑے پہنتے ہیں۔ کسی شاعر نے اس صورتحال کی عکاسی یوں کی ہے:
سو گیا وہ بھی ہتھوڑی ہاتھ میں پکڑے ہوئے
آج شاید اس کے خوابوں میں بھی کچھ تعمیر تھا
ہمارا دین اسلام مزدور کی عظمت کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے: “مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو۔” یہ صرف معاوضے کی ادائیگی کی بات نہیں، بلکہ اس کے احترام اور وقار کی ضمانت ہے۔ موجودہ دور میں مزدور کو صرف کم تنخواہ کا ہی مسئلہ نہیں، بلکہ اسے سماجی تحفظ، صحت کی سہولیات اور اپنے بچوں کے لیے تعلیم کی بھی ضرورت ہے۔ ہم جب تک محنت کش کو کم تر سمجھنا نہیں چھوڑیں گے، معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ یکم مئی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقوق کے لیے جدوجہد ضروری ہے، مگر اس کے لیے اتحاد لازم ہے۔ مزدور طبقہ کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ اگر یہ طبقہ خوشحال نہیں، تو ریاست کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔موجودہ دور کی مہنگائی نے مزدور کی کمر توڑ دی ہے، معاشی مجبوریوں کے باعث معصوم ہاتھ قلم کی جگہ اوزار تھامنے پر مجبور ہیں اور فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات کا فقدان ہے۔ مزدور کی محنت ہی وہ کیمیا ہے جو مٹی کو سونا بناتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ صرف ایک دن کی چھٹی یا تقاریب تک محدود نہ رہیں، بلکہ عملی طور پر ان کے حالاتِ زندگی بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں، جس معاشرے میں محنت کی قدر نہیں ہوتی، وہاں برکت اٹھ جاتی ہے۔ جوش ملیح آبادی نے کیا خوب کہا تھا:
اے کہ تیری محنتوں سے ہے جہاں کا انتظام
اے کہ تیرے دم سے ہے دنیا کے رونق کا دوام
تیری ہمت سے رواں ہے زندگی کا کارواں
اے جفاکش، اے ہنرور، تجھ کو میرا ہے سلام
آئیے اس یومِ مزدور پر عہد کریں کہ ہم اپنے ماتحت کام کرنے والوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کریں گے اور ان کے جائز حقوق کی ادائیگی میں کبھی دیر نہیں کریں گے۔ کیونکہ جب مزدور کا چولہا جلتا ہے، تبھی ملک کا پہیہ چلتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو مئی کی یہ تپتی دوپہر ہمیں ہر سال سناتی ہے۔
Latest Posts
عالمی برادری کی چین اور امریکا کے صدور کی ملاقات پر گہری توجہچینی صدر کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں استقبالیہ ضیافتچین-افغانستان-پاکستان یوتھ کرکٹ دوستانہ تبادلے کی تقریب کا ہانگ چو میں انعقادچینی صدر اور امریکی صدر ٹرمپ کا ٹیمپل آف ہیون کا دورہچین امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات باہمی فائدے اور جیت جیت پر مبنی ہیں، چینی صدر
