از قلم :-ذیشان افضل
یکم مئی کو دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی اس دن سرکاری سطح پر چھٹی کا اعلان ہوتا ہے۔ دفاتر بند ہوتے ہیں، اسکول اور کالجز میں تعطیل ہوتی ہے اور عمومی زندگی ایک وقتی سکون میں آ جاتی ہے۔ لیکن اس سکون کے پیچھے ایک ایسی حقیقت بھی موجود ہوتی ہے جس پر کم ہی غور کیا جاتا ہے۔
یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک بڑا طبقہ آرام کرتا ہے مگر دیہاڑی دار مزدور کے لیے یہ آرام نہیں بل کہ ایک نئی بے یقینی ہوتی ہے۔ اس کے لیے چھٹی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ گھر میں بیٹھ کر سکون کرے بل کہ اس کے لیے اس دن کا مطلب ہوتا ہے کہ شاید آج کام نہ ملے اور اگر کام نہ ملے تو دن کے اختتام پر گھر خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے۔
پاکستان میں مزدور کی زندگی پہلے ہی غیر یقینی حالات سے گزرتی ہے۔ روزانہ کی کمائی پر چلنے والے اس طبقے کے لیے ہر دن روزگار کی تلاش کا دن ہوتا ہے۔ لیکن یکم مئی اس تلاش کو مزید سخت کر دیتا ہے۔ کیوں کہ تعمیراتی کام، دکانیں، چھوٹے کاروبار اور کئی نجی سرگرمیاں بند ہو جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ مزدور صبح امید لے کر نکلتا ہے مگر شام تک وہ امید بھی تھک جاتی ہے۔
یہ منظر ایک تلخ سوال چھوڑ جاتا ہے کہ کیا مزدور کے لیے یہ دن واقعی خوشی کا دن ہے یا محرومی کا ایک اور عنوان؟ جب باقی معاشرہ آرام کر رہا ہوتا ہے اس وقت مزدور کی سوچ صرف روزی کے گرد گھوم رہی ہوتی ہے۔ اس کے ذہن میں یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ آج گھر کا خرچ کیسے چلے گا، بچوں کی ضروریات کیسے پوری ہوں گی اور کل کا دن کیسے شروع ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں مزدور کے حقوق پر بات بہت ہوتی ہے مگر اس کی عملی زندگی میں بہت کم تبدیلی آتی ہے۔ تقریریں، سیمینار اور بیانات اپنی جگہ، لیکن اصل مسئلہ وہی رہتا ہے کہ مزدور کی آمدنی اور اس کی ضروریات کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔
یکم مئی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا صرف چھٹی دینا ہی مزدور کا احترام ہے؟ یا پھر اس کے لیے ایسا نظام بنانا بھی ضروری ہے جس میں اس کی روزانہ کی زندگی محفوظ ہو، اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملے اور اس کے بچوں کا مستقبل غیر یقینی نہ ہو۔
مزدور کسی ہمدردی کا محتاج نہیں ہے وہ اپنے حق کا طالب ہے۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی محنت کو عزت دی جائے اور اس کی زندگی کو اتنا مستحکم بنایا جائے کہ ایک دن کی چھٹی بھی اس کے لیے پریشانی نہ بنے۔
یکم مئی کا اصل پیغام یہی ہے کہ معاشرے کی بنیاد وہ ہاتھ ہیں جو محنت کرتے ہیں۔ اگر ان ہاتھوں کو سہارا دیا جائے تو پورا نظام مضبوط ہوتا ہے اور اگر انہیں نظر انداز کیا جائے تو پورا معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔
Latest Posts
عالمی برادری کی چین اور امریکا کے صدور کی ملاقات پر گہری توجہچینی صدر کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں استقبالیہ ضیافتچین-افغانستان-پاکستان یوتھ کرکٹ دوستانہ تبادلے کی تقریب کا ہانگ چو میں انعقادچینی صدر اور امریکی صدر ٹرمپ کا ٹیمپل آف ہیون کا دورہچین امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات باہمی فائدے اور جیت جیت پر مبنی ہیں، چینی صدر
