نیند صحت مند زندگی

ندیم یعقوب گوہر
انسانی زندگی کے جملہ معمولات میں نیند وہ کلیدی ستون ہے جس پر ہماری جسمانی صحت، ذہنی توازن اور جذباتی استحکام کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ قدرت نے رات کا سکون محض آرام کے لیے نہیں بلکہ جسم کے اندرونی نظام کی مرمت اور ذہنی گتھیاں سلجھانے کے لیے تخلیق کیا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو نیند ایک ایسا حیاتیاتی عمل ہے جس کے دوران ہمارا دماغ دن بھر کی معلومات کو ترتیب دیتا ہے، زہریلے مواد کا اخراج کرتا ہے اور جسمانی خلیات اپنی بازیافت کرتے ہیں۔ اگر یہ عمل متاثر ہو جائے تو انسانی مشینری نہ صرف سست پڑ جاتی ہے بلکہ اس کے مختلف پرزے وقت سے پہلے ناکارہ ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیند کو بھوک اور پیاس کی طرح ایک لازمی بقائی ضرورت تسلیم کیا گیا ہے۔جب ہم مختلف طبقات بالخصوص بچوں، عورتوں اور مردوں میں نیند کے معیار اور مقدار کا جائزہ لیتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ ہر ایک کی ضروریات جداگانہ ہیں۔ بچوں کے لیے نیند ان کی نشوونما کا بنیادی جزو ہے۔ ایک بڑھتے ہوئے بچے کو نو سے بارہ گھنٹے کی نیند درکار ہوتی ہے تاکہ اس کے جسم میں گروتھ ہارمونز اپنا کام کر سکیں اور اس کی یادداشت مستحکم ہو سکے۔ اگر بچوں میں نیند کی کمی ہو جائے تو وہ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان کے رویے میں چڑچڑاپن پیدا ہو جاتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ نیند انہیں سست اور موٹاپے کا شکار بنا سکتی ہے۔ خواتین کے معاملے میں حیاتیاتی تبدیلیاں اور ہارمونز کا اتار چڑھاؤ نیند کے پیٹرن پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ خواتین کو عام طور پر مردوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ آرام کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کا دماغ ملٹی ٹاسکنگ کی وجہ سے زیادہ تھکن کا شکار ہوتا ہے۔ مردوں میں نیند کی کمی براہِ راست ان کے اعصابی تناؤ اور قلبی صحت سے جڑی ہوتی ہے۔ مرد اگر اپنی نیند کے اوقات میں توازن نہ رکھیں تو ان میں غصہ، فشارِ خون اور کام کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ ان تمام طبقات کے لیے نیند کا ایک ایسا تناسب ہونا چاہیے جو نہ تو انہیں سستی کی طرف مائل کرے اور نہ ہی انہیں مستقل تھکن کے حصار میں رکھے۔معاشرے میں ایک عام رجحان نیند لانے والی ادویات کا بے دریغ استعمال ہے۔ اکثر لوگ معمولی بے خوابی یا ذہنی تناؤ کی صورت میں معالج کے مشورے کے بغیر خواب آور گولیاں لینا شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ یہ ادویات نیند کا مستقل حل نہیں بلکہ ایک عارضی سہارا ہوتی ہیں۔ ان کا مسلسل استعمال انسان کو ان کا عادی بنا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں دماغ کا اپنا فطری نظامِ استراحت مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ ان ادویات کے مضر اثرات میں صبح کے وقت سر کا بھاری پن، یادداشت کی کمزوری اور طویل مدت میں گردوں اور جگر کے مسائل شامل ہیں۔ لہٰذا، جب تک کوئی سنگین طبی ضرورت نہ ہو، ان ادویات سے بچنا ہی عافیت ہے، کیونکہ مصنوعی نیند کبھی بھی اس گہری اور پرسکون فطری نیند کا نعم البدل نہیں ہو سکتی جو قدرتی طور پر حاصل ہوتی ہے۔نیند کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں اپنے طرزِ زندگی میں انقلابی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ سب سے پہلے سونے اور جاگنے کے اوقات کا ایک سخت تعین ضروری ہے۔ ہماری حیاتیاتی گھڑی اس وقت بہترین کام کرتی ہے جب ہم روزانہ ایک ہی وقت پر بستر پر جائیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں اسکرین کا استعمال نیند کا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے تمام برقی آلات سے دوری اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ ان سے نکلنے والی نیلی روشنی نیند لانے والے ہارمون ‘میلاٹونن’ کے اخراج کو روک دیتی ہے۔ کمرے کا ماحول ایسا ہونا چاہیے جو نیند کو دعوت دے؛ یعنی وہاں مکمل اندھیرا، خاموشی اور درجہ حرارت معتدل ہو۔ شام کے وقت کیفین اور مرغن غذاؤں سے پرہیز بھی نیند کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اگر ہم گھریلو علاج اور ٹوٹکوں کی بات کریں تو قدیم دور سے چلے آنے والے نسخے آج بھی اپنی افادیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ رات کو سونے سے پہلے ایک گلاس نیم گرم دودھ کا استعمال اعصاب کو پرسکون کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ دودھ میں موجود قدرتی اجزاء دماغ کو سکون فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح پیروں کے تلووں پر سرسوں کے تیل کی مالش ایک ایسا آزمودہ نسخہ ہے جو پورے جسم کی تھکن اتار کر گہری نیند لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جڑی بوٹیوں سے بنے قہوے، جیسے کہ پودینہ یا سبز چائے (بغیر چینی کے)، ہاضمے کو درست رکھ کر نیند میں خلل کو کم کرتے ہیں۔ سونے سے پہلے چند منٹ کے لیے گہرے سانس لینے کی مشق یا ہلکا پھلکا مطالعہ بھی ذہن کو دنیا بھر کی فکروں سے آزاد کر کے پرسکون نیند کی وادی میں لے جانے کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔
نیند قدرت کی دی ہوئی وہ امانت ہے جس کی حفاظت کرنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ ہم چاہے زندگی کی دوڑ میں کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ایک توانا جسم اور بیدار مغز ہی کامیابی کی ضمانت دے سکتے ہیں۔فطرت کے اصولوں کے عین مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا، مصنوعی ادویات کے بجائے قدرتی طریقوں پر بھروسہ کرنا اور نیند کے آداب کا خیال رکھنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک صحت مند اور بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں۔ بستر پر جانے سے پہلے تمام پریشانیوں کو کمرے سے باہر چھوڑ دینا اور پرسکون ذہنی حالت کے ساتھ سونا ہی دراصل وہ فن ہے جو ہمیں لمبی عمر اور دائمی صحت سے ہم کنار کر سکتا ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow