خود فریبی

از قلم: ذیشان افضل
خود فریبی ایک ایسا خاموش زہر ہے جو انسان کے اندر آہستہ آہستہ اترتا ہے اور پھر پوری شخصیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس زہر کا ذائقہ تلخ نہیں ہوتا ہے بل کہ ابتدا میں یہ بہت میٹھا محسوس ہوتا ہے۔ انسان کو لگتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک ہے وہ جو کر رہا ہے درست ہے۔ وہ جو سوچ رہا ہے حقیقت ہے اور جو فیصلے وہ کر رہا ہے وہی بہترین ہیں۔ مگر دراصل یہ سب کچھ حقیقت نہیں ہوتا ہے یہ صرف خود کو بہلانے کا ایک خوبصورت فریب ہوتا ہے۔ جسے ہم اپنے ہاتھوں سے اپنے دل کے زخموں پر مرہم بنا کر رکھ دیتے ہیں۔خود فریبی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ انسان حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اسے ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ سچ کو دیکھتا ہے مگر تسلیم نہیں کرتا۔ وہ غلطی کر کے بھی اسے غلطی نہیں سمجھتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر کی آواز سنتا ضرور ہے مگر اسے خاموش کرنے کے لیے ہزاروں بہانے تراش لیتا ہے اور جب انسان بہانوں کا عادی ہو جائے تو پھر وہ خود کو بھی دھوکا دینے لگتا ہے۔ پھر اس کی زندگی کا ہر قدم، ہر سوچ، ہر فیصلہ، حقیقت کے بجائے خواہشات کی بنیاد پر اٹھتا ہے۔
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دھوکا صرف دوسروں کو دیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا دھوکا انسان خود کو دیتا ہے۔ دوسروں کو دھوکا دینے کے لیے عقل اور موقع چاہیے مگر خود کو دھوکا دینے کے لیے صرف ضد کافی ہوتی ہے۔ انسان اپنی ضد کو اصول سمجھ لیتا ہے، اپنی انا کو عزت کا نام دے دیتا ہے اور اپنی خواہش کو حق بنا کر پیش کرنے لگتا ہے۔ پھر وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ سچائی کسی کی اجازت کی محتاج نہیں ہوتی اور جھوٹ چاہے کتنا ہی سجا لیا جائے وہ جھوٹ ہی رہتا ہے۔خود فریبی کی کئی صورتیں ہیں۔ کبھی انسان اپنے گناہوں کو مجبوری کا نام دے دیتا ہے۔ کبھی اپنی غلطیوں کو حالات کے سر تھوپ دیتا ہے۔ کبھی اپنے اندر کی کمزوریوں کو زمانے کی سختی قرار دیتا ہے۔ کبھی اپنے بے اصول رویے کو ” زمانے کے ساتھ چلنا“ کہہ کر جائز ثابت کرتا ہے اور کبھی اپنی بے وفائی کو ”مجبوریاں“ بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہی خود فریبی ہے کہ انسان اپنے آپ کو پاک صاف ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو برا ثابت کرنے لگتا ہے۔
کچھ لوگ خود فریبی میں اس حد تک مبتلا ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنی حقیقت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ بہت سچے ہیں، بہت مظلوم ہیں اور بہت ہی معصوم ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ہر کہانی میں مظلوم اور دوسروں کو ظالم بنا کر دیکھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ان کے اپنے رویے ہی ان کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر ایسا انسان ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے۔ وہ سچائی کو قبول کرنے کے بجائے جھوٹ کی چادر اوڑھ کر سو جاتا ہے۔خود فریبی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو اصلاح سے دور کر دیتی ہے کیوں کہ اصلاح کا پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی کو تسلیم کرے۔ جب انسان غلطی ماننے سے انکار کر دے تو پھر نصیحت بے معنی ہو جاتی ہے، مشورہ مذاق بن جاتا ہے اور حقیقت دشمن لگنے لگتی ہے۔ پھر جو سچ بولے وہ دشمن اور جو جھوٹ میں ساتھ دے وہ دوست سمجھا جاتا ہے۔ یہیں سے انسان کے اندر سچ اور جھوٹ کا معیار بدلنے لگتا ہے۔خود فریبی انسان کی سوچ پر بھی پردہ ڈال دیتی ہے۔ وہ اپنے اندر کی کمزوریاں دیکھنے کے بجائے دوسروں کی کمزوریاں تلاش کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنے اندر کی خامیوں کو درست کرنے کے بجائے دوسروں کی غلطیوں کو اچھالتا رہتا ہے۔ وہ خود کو بہتر بنانے کے بجائے دوسروں کو کمتر ثابت کرنے میں اپنی زندگی گزار دیتا ہے۔
کبھی کبھار خود فریبی ہماری زندگی میں اس وقت داخل ہوتی ہے جب ہم ناکامیوں سے ڈرتے ہیں۔ ہم حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے کہ ہم نے محنت نہیں کی، ہم نے کوشش نہیں کی یا ہم نے اپنی صلاحیت کو ضائع کیا۔ ہم ناکامی کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ کبھی قسمت کو، کبھی حالات کو، کبھی لوگوں کو اور کبھی زمانے کو۔ اس طرح ہم اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ قصور ہمارا نہیں ہے۔ حالانکہ حقیقت میں قصور ہمارا ہی ہوتا ہے۔اسی طرح کچھ لوگ اپنے رشتوں میں بھی خود فریبی کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سامنے والا مخلص نہیں ہے مگر پھر بھی اسے اپنا سمجھتے رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سامنے والا انہیں صرف ضرورت کے وقت یاد کرتا ہے مگر پھر بھی اسے اپنا دوست کہتے ہیں۔ یہ خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے کہ انسان زہر کو شہد سمجھ کر پیتا رہے؟
خود فریبی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ انسان اپنی تکلیف کو چھپا کر خود کو مضبوط ظاہر کرتا ہے۔ وہ اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے، خود فریبی انسان کو وقتی سکون تو دے دیتی ہے مگر یہ سکون ایسا ہوتا ہے جیسے بخار میں وقتی طور پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا جائے۔ بخار اترتا نہیں ہے صرف جسم کو وقتی راحت ملتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ خود فریبی مسئلے کا حل نہیں، مسئلے سے بھاگنے کا نام ہے اور مسئلے سے بھاگنے والا انسان ایک دن مسئلوں کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔زندگی میں سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ انسان اپنے آپ سے سچ بولنا سیکھ لے کیوں کہ جو شخص خود سے سچ بول لیتا ہے وہ دنیا کے کسی فریب میں نہیں آتا ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کو مان لیتا ہے، اپنی کمزوریوں کو پہچان لیتا ہے اور اپنی اصلاح کی طرف قدم بڑھا لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ غلطی انسان سے ہوتی ہے مگر غلطی پر قائم رہنا ضد ہے اور ضد انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔
سچائی کا راستہ مشکل ضرور ہے مگر یہی راستہ انسان کو مضبوط بناتا ہے۔ خود فریبی آسان راستہ ہے مگر یہی آسانی انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔سچائی انسان کو آئینہ دکھاتی ہے اور آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ اگر انسان آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر اسے توڑ دے تو چہرہ نہیں بدلتا ہے صرف آئینہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی حال خود فریبی کا ہے۔ انسان حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے حقیقت کو جھٹلا دیتا ہے مگر حقیقت نہیں بدلتی صرف انسان اپنی سمت کھو دیتا ہے۔ خود فریبی سے بڑا کوئی دھوکا نہیں اور خود فریبی سے بڑی کوئی سزا نہیں ہے۔ کیوں کہ جب انسان خود کو دھوکا دیتا ہے تو وہ دوسروں سے نہیں ہارتا ہے بل کہ وہ اپنے آپ سے ہار جاتا ہے اور اپنے آپ سے ہارنے والا انسان چاہے دنیا جیت بھی لے لیکن وہ اندر سے ہمیشہ ہارا ہوا ہی رہتا ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow