ذوالفقار ہمدم اعوان
جب شہر جل رہا تھا،اُس وقت کتب خانہ کھلا ہوئی تھی۔بارود کی بو ہوا میں تیر رہی تھی۔ٹینکوں کی گھن گرج دور سے سنائی دیتی تھی۔لوگ اپنے گھروں سے بھاگ رہے تھے،مائیں بچوں کو سینوں سے لگائے سڑکوں پر دوڑ رہی تھیں اور آسمان ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے اُس پر راکھ مل دی ہو مگر شہر کے عین درمیان،پرانی پتھریلی گلی میں قائم دارالحکمت کتب خانے کے اندر ایک بوڑھا آدمی موم بتی کی روشنی میں کتابوں سے گرد صاف کر رہا تھا۔اُس کا نام سلیمان تھا۔اُس نے دروازہ بند نہیں کیا تھا۔
”استاد!“ بارہ سالہ لڑکے یوسف نے کانپتی آواز میں کہا،”لوگ شہر چھوڑ رہے ہیں۔آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟“
سلیمان نے ایک موٹی سی کتاب سینے سے لگائی اور مسکرایا،”بیٹا!جب شہر جلتے ہیں نا تو سب سے پہلے لفظوں کو بچانا پڑتا ہے۔“باہر دھماکہ ہوا۔شیشے لرز گئے مگر سلیمان کی انگلیاں اب بھی کتاب کے کنارے پر نہایت نرمی سے چل رہی تھیں،جیسے وہ کسی زخمی پرندے کے پر سہلا رہا ہو۔یہ شہر کبھی شاعروں کا شہر کہلاتا تھا۔یہاں دیواروں پر شعر لکھے جاتے تھے۔بازاروں میں کتابیں پھولوں سے زیادہ بکتی تھیں۔چوکوں میں فلسفے پر بحث ہوتی تھی۔پھر جنگ آئی۔اور جنگ صرف انسانوں کو نہیں مارتی،وہ زبانیں بھی قتل کرتی ہے۔کتابیں جلائی گئیں۔اخبار بند ہوئے۔شاعروں کو غدار کہا گیا۔اور سچ بولنے والے لوگوں کے نام رات کی تاریکی میں غائب ہونے لگے۔مگر سلیمان نہیں گیا۔وہ ہر رات لائبریری کھولتا۔بچ جانے والی کتابیں جمع کرتا۔اور اُن لوگوں کے خطوط محفوظ کرتا جو شاید کل زندہ نہ رہیں۔
“آپ یہ سب کیوں کرتے ہیں؟” یوسف نے ایک رات پوچھا۔سلیمان نے کھڑکی سے باہر جلتے ہوئے مکانوں کو دیکھا۔“کیونکہ بیٹا… اگر لفظ مر جائیں تو انسان صرف جسم رہ جاتا ہے۔”یوسف جنگ سے پہلے ایک عام بچہ تھا۔اُسے پتنگیں پسند تھیں،بارش میں دوڑنا پسند تھا،اور اُس کی ماں کہتی تھی کہ اُس کی ہنسی میں پورا گھر روشن ہو جاتا ہے۔پھر ایک دن بم گرا۔گھر ختم ہو گیا۔ہنسی ختم ہو گیا۔صرف یوسف بچ گیا۔اُس کے بعد وہ کم بولنے لگا۔مگر لائبریری میں آ کر وہ گھنٹوں کتابوں کو دیکھتا رہتا،جیسے اُن کے اندر کوئی ایسا دروازہ ہو جو اُسے دوبارہ زندگی تک لے جا سکتا ہو۔ایک دن سلیمان نے اُسے ایک خالی ڈائری دی۔“اس میں لکھو۔“کیا؟“جو تمہارے اندر مرنے سے انکار کر رہا ہے۔”
شہر کے دوسری طرف جنرل کامران کی حکومت قائم تھی۔وہ ہر اُس چیز سے خوفزدہ تھا جس میں سچ کی بو آتی ہو۔اُس نے حکم جاری کیا۔“تمام غیر منظور شدہ تحریریں ضبط کر لی جائیں۔”سپاہی گھروں میں گھسنے لگے۔لوگ اپنی ڈائریاں جلا رہے تھے۔مائیں بچوں کو خاموش رہنا سکھا رہی تھیں۔کیونکہ اُس شہر میں لفظ جرم بن چکے تھے۔ایک رات سپاہیوں نے ایک نوجوان شاعرہ مریم کو گرفتار کر لیا۔اُس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اُس نے لکھا تھا۔”بھوک حکومت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔”لوگ کہتے تھے اُسے شہر کے باہر کسی اندھے عقوبت خانے میں رکھا گیا ہے۔مگر اُس کی نظمیں دیواروں پر اب بھی نمودار ہو جاتی تھیں۔لفظ اکثر اپنے لکھنے والوں سے زیادہ ضدی ہوتے ہیں۔
وقت گزرتا رہا۔جنگ نے شہر کو آہستہ آہستہ کھا لیا۔اسکول اسپتال بن گئے۔پارک قبرستان بن گئے۔اور بچے وقت سے پہلے بوڑھے ہو گئے۔مگر لائبریری اب بھی کھلی تھی۔وہاں لوگ آتے۔اپنے گمشدہ پیاروں کے خطوط چھوڑ جاتے۔نامکمل نظمیں۔آخری دعائیں۔وہ جملے جو وہ مرنے سے پہلے دنیا کو دینا چاہتے تھے۔سلیمان اُن سب کو ایک خفیہ تہہ خانے میں محفوظ کرتا رہا۔“اگر ہم بچ نہ سکے تو؟” یوسف نے پوچھا۔سلیمان نے جواب دیا:“تب ہمارے لفظ بچ جائیں گے۔اور کبھی کبھی یہی کافی ہوتا ہے۔”
ایک شام شدید بمباری شروع ہوئی۔لائبریری کی دیواریں لرزنے لگیں۔لوگ بھاگ رہے تھے۔“استاد،ہمیں جانا ہوگا!” یوسف چیخا۔مگر سلیمان سیڑھیوں سے نیچے تہہ خانے کی طرف اتر گیا۔وہ ایک لکڑی کا صندوق کھولنے لگا جس میں ہزاروں خطوط اور ڈائریاں بھری تھیں۔“یہ سب لوگوں کی زندگیاں ہیں…” اُس نے دھیمی آواز میں کہا،“میں انہیں دوبارہ مرنے نہیں دے سکتا۔”اُسی لمحے ایک زور دار دھماکہ ہوا۔چھت گر گئی۔دھواں۔آگ۔چیخیں۔یوسف بے ہوش ہو گیا۔
جب اُسے ہوش آیا تو صبح ہو چکی تھی۔لائبریری ملبہ بن چکی تھی۔سلیمان کہیں نہیں تھا۔صرف راکھ تھی…اور جلی ہوئی کتابوں کی بو۔یوسف روتا ہوا ملبے میں کھودنے لگا۔پھر اُسے وہ لکڑی کا صندوق ملا۔محفوظ۔اُس کے اندر ہزاروں لفظ زندہ تھے۔اوپر ایک کاغذ رکھا تھا۔سلیمان کی لکھائی میں:”اگر میں نہ رہوں تو اِن لفظوں کو دنیا تک پہنچا دینا۔کیونکہ انسان مر جاتے ہیں…مگر سچ کو دفن کرنے کے لیے پوری تاریخ بھی کافی نہیں ہوتی۔”
جنگ ختم ہونے میں سات سال لگے۔جب شہر دوبارہ آباد ہوا تو وہاں ایک عجیب میوزیم قائم کیا گیا۔”میوزیم آف لاسٹ وائسز“ اس کا بانی یوسف تھا۔وہی یوسف جو کبھی بمباری میں خاموش ہو گیا تھا۔میوزیم میں دنیا بھر سے لوگ آتے۔وہاں شیشے کے پیچھے محفوظ تھے:ایک ماں کا آخری خط،ایک بھوکے بچے کی نظم،ایک مزدور کی ڈائری،ایک شاعرہ کی ادھوری غزل اور اُن لوگوں کے الفاظ جنھیں تاریخ مٹا دینا چاہتی تھی۔میوزیم کے مرکزی ہال میں سلیمان کی تصویر لگی تھی۔نیچے صرف ایک جملہ لکھا تھا:”کتابیں صرف کاغذ نہیں ہوتیں۔یہ وہ قبریں ہیں جن میں انسان اپنی روح دفن کر جاتے ہیں تاکہ وقت انہیں بھلا نہ سکے۔“
سالوں بعد یوسف کو ادب کا عالمی انعام ملا۔اُس سے پوچھا گیا:”آپ نے لکھنا کیوں شروع کیا؟“
ہال خاموش ہو گیا۔یوسف نے کچھ لمحے آنکھیں بند رکھیں،پھر دھیمی آواز میں بولا:”کیوں کہ ایک جلتے ہوئے شہر میں،ایک بوڑھے آدمی نے مجھے سکھایا تھا کہ لفظ بھی انسانوں کی طرح سانس لیتے ہیں اور اگر کوئی انھیں یاد رکھے تو وہ کبھی مرتے نہیں۔“ لوگ کھڑے ہو گئے۔تالیاں دیر تک بجتی رہیں مگر یوسف کی آنکھیں کہیں اور تھیں۔اُسے اب بھی اُس پرانی لائبریری کی خوش بو آتی تھی۔راکھ،موم بتی،اور پرانے کاغذ کی ملی جلی خوشبو۔ اسی رات،انعامی تقریب سے واپس آتے ہوئے،یوسف نے ہوٹل کے کمرے میں بیٹھ کر ایک آخری خط لکھا۔خط مختصر تھا:”استاد سلیمان!آج دنیا مجھے سن رہی ہے۔مگر میں اب بھی آپ کی اُس مدھم آواز کو تلاش کرتا ہوں جو ملبے کے درمیان کہتی تھی:لفظوں کو بچا لو،بیٹا! کیوں کہ یہی وہ واحد چیز ہیں جو موت کے بعد بھی انسان رہتی ہیں۔“
خط مکمل کرنے کے بعد یوسف خاموش بیٹھا رہا۔پھر اُس نے کھڑکی کھولی۔باہر برف گر رہی تھی اور اُسے اچانک محسوس ہوا،کائنات میں کہیں نہ کہیں سلیمان اب بھی کسی جلتی ہوئے کتب خانے میں کتابوں سے گرد صاف کر رہا ہے۔
Latest Posts
