افسانہ نگار: ذوالفقار ہمدم اعوان
شہر میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سی بات محسوس ہوتی تھی، یہاں کوئی آواز نہیں تھی، مگر شور بہت تھا۔ یہ شور سڑکوں پر نہیں تھا، نہ بازاروں میں، نہ لوگوں کی زبانوں پر۔ یہ شور دلوں کے اندر بند تھا، جیسے کسی نے چیخوں کو تہہ در تہہ لپیٹ کر خاموشی کے صندوق میں قید کر دیا ہو۔ اور اس شہر کی سب سے عجیب بات یہ تھی کہ یہاں ہر شخص آزاد تھا، کم از کم دکھائی یہی دیتا تھا۔
امین نے جب اس شہر میں قدم رکھا تو اسے پہلی نظر میں کچھ بھی غیر معمولی محسوس نہ ہوا۔ وہ ایک عام آدمی تھا، ایک استاد، جس نے برسوں بچوں کو سکھایا تھا کہ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے، کہ محنت سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، کہ سچائی ہمیشہ جیتتی ہے۔ مگر اس دن، جب اس نے شہر کے پہلے چوک پر کھڑے ایک بچے کو دیکھا، تو اس کے سارے سبق ایک لمحے میں بکھر گئے۔ بچہ زمین پر بیٹھا تھا، اور اپنے ہاتھوں سے ہوا کو تھامنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امین نے پوچھا، کیا پکڑ رہے ہو؟ بچے نے مسکرا کر کہا، اپنی زنجیر۔ امین چونک گیا، زنجیر؟ کہاں ہے؟ بچے نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا، یہاں۔
اس شہر میں سب کے پاس زنجیریں تھیں، مگر کوئی انہیں دیکھ نہیں سکتا تھا۔ امین نے اگلے چند دن لوگوں کو غور سے دیکھا۔ ایک مزدور تھا، جو دن بھر کام کرتا، مگر اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک تھکن رہتی جو جسم سے نہیں، روح سے نکلتی تھی۔ ایک عورت تھی، جو سڑک کے کنارے کپڑے سیتی تھی۔ اس کی انگلیاں تیز تھیں، مگر اس کی نگاہیں ہمیشہ جھکی رہتیں، جیسے وہ کسی ان دیکھی طاقت کے سامنے سر جھکائے بیٹھی ہو۔ ایک لڑکی تھی، جو اسکول کے باہر کھڑی رہتی، مگر کبھی اندر نہیں جاتی تھی۔ امین نے اس سے پوچھا، تم پڑھنے کیوں نہیں جاتیں؟ اس نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا، میری زنجیر لمبی نہیں ہے۔
رات کو امین نے اپنے کمرے میں بیٹھ کر سوچا، یہ سب وہم ہے، اس نے خود سے کہا، لوگ خود کو قید سمجھتے ہیں، مگر اصل میں آزاد ہیں۔ مگر پھر اسے اپنے استاد کی بات یاد آئی کہ سب سے خطرناک قید وہ ہوتی ہے جسے انسان قید نہ سمجھے۔
اگلے دن امین شہر کے سب سے بڑے اسکول گیا۔ وہاں ایک استاد بچوں کو پڑھا رہا تھا کہ محنت کرو، کامیابی تمہارا حق ہے۔ ایک بچہ اٹھا اور بولا، اگر سب محنت کریں تو کیا سب کامیاب ہو جائیں گے؟ استاد نے مسکرا کر کہا، ہاں، کیوں نہیں۔ امین نے بچے کی آنکھوں میں دیکھا، وہ سوال اب بھی زندہ تھا، جواب سے مطمئن نہیں ہوا تھا۔
شہر کے کنارے ایک بوڑھا رہتا تھا، حکیم صاحب۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ اس شہر کو سب سے زیادہ سمجھتا ہے۔ امین اس کے پاس گیا۔ امین نے پوچھا، یہ زنجیریں کیا ہیں؟ حکیم نے آہستہ سے کہا، یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں بچپن سے سکھائی جاتی ہیں، کہ ہم کیا بن سکتے ہیں اور کیا نہیں، کہ ہم کہاں جا سکتے ہیں اور کہاں نہیں۔ امین نے پوچھا، مگر یہ ٹوٹ کیوں نہیں جاتیں؟ حکیم نے مسکرا کر جواب دیا، کیونکہ یہ لوہے کی نہیں، یقین کی بنی ہوتی ہیں۔
امین نے فیصلہ کیا کہ وہ ان زنجیروں کو توڑے گا۔ اس نے شہر میں لوگوں سے بات کرنی شروع کی۔ وہ بچوں کو کہتا، تم آزاد ہو۔ وہ مزدوروں سے کہتا، تمہاری محنت تمہیں قید نہیں کر سکتی۔ وہ عورتوں سے کہتا، تمہاری خاموشی تمہاری تقدیر نہیں ہے۔ مگر لوگ اسے عجیب نظروں سے دیکھتے۔ کچھ ہنستے، کچھ ڈرتے، کچھ خاموش رہتے۔
ایک دن امین نے دیکھا، وہی بچہ، جو ہوا میں زنجیر پکڑ رہا تھا، اب زمین پر لیٹا تھا۔ وہ کمزور تھا، اس کی سانسیں ہلکی تھیں۔ امین نے گھبرا کر پوچھا، کیا ہوا؟ بچے نے آہستہ سے کہا، میری زنجیر بہت بھاری ہو گئی ہے۔ امین نے پوچھا، کیوں؟ بچے نے کہا، کیونکہ میں نے اسے دیکھ لیا ہے۔ امین کے ہاتھ کانپنے لگے۔
اس رات امین سو نہ سکا۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کے اپنے سینے پر بھی کوئی وزن ہے، کوئی ایسی چیز جو پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں، اور پہلی بار اسے اپنی زنجیر نظر آئی۔ وہ باریک تھی، مگر مضبوط۔ وہ اس کے بچپن سے جڑی ہوئی تھی، اس کے خوابوں، اس کے خوف، اس کے یقینوں سے۔
اگلے دن امین نے حکیم کے پاس جا کر کہا، میں نے اپنی زنجیر دیکھ لی ہے۔ اب میں کیا کروں؟ حکیم نے گہری سانس لی اور کہا کہ اب تم آزاد ہو سکتے ہو یا اور زیادہ قید۔ امین نے پوچھا، یہ کیسا جواب ہے؟ حکیم نے کہا، کیونکہ جب تم زنجیر دیکھ لیتے ہو، تو یا تو اسے توڑنے کی کوشش کرتے ہو یا اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہو۔
امین نے توڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے شہر کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر زور سے کہا، ہم سب قید ہیں! لوگ رک گئے۔ کسی نے کہا، یہ پاگل ہو گیا ہے۔ کسی نے کہا، اسے خاموش کرو۔ مگر کچھ لوگ سننے لگے۔ آہستہ آہستہ، شہر میں ایک تبدیلی آنے لگی۔ لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے لگے۔ وہ اپنی زنجیروں کے بارے میں سوچنے لگے۔ کچھ نے انہیں توڑنے کی کوشش کی اور زخمی ہو گئے۔ کچھ نے انہیں چھپانے کی کوشش کی اور اور زیادہ بھاری ہو گئے۔
اور پھر ایک دن وہی لڑکی، جو اسکول کے باہر کھڑی رہتی تھی، اندر چلی گئی۔ وہی مزدور، جو خاموشی سے کام کرتا تھا، اپنے حق کے لیے بول اٹھا۔ وہی عورت، جو نظریں جھکائے رکھتی تھی، اس نے پہلی بار کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔
مگر ہر کہانی کا ایک سچ ہوتا ہے، اور اس کہانی کا سچ آسان نہیں تھا۔ وہ بچہ، جو اپنی زنجیر پکڑتا تھا، وہ بچ نہ سکا۔ اس کی زنجیر اس کے جسم سے زیادہ بھاری ہو گئی تھی۔ امین اس کی قبر کے پاس کھڑا تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا، میں نے تمہیں آزاد کرنا چاہا مگر دیر ہو گئی۔ ہوا میں ایک ہلکی سی سرگوشی ہوئی، جیسے کوئی کہہ رہا ہو، آزادی دیر سے نہیں آتی، ہم جلدی مر جاتے ہیں۔ امین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اور اس دن، شہر میں پہلی بار کسی نے اپنی زنجیر کو محسوس کیا اور وہی لمحہ تھا جب آزادی نے پہلی بار سانس لی۔
Latest Posts
