افسانہ نگار: ذوالفقار ہمدم اعوان
شہر میں ہر سال یکم مئی آتا تھا، مگر اس بار وہ کچھ اور ہی طرح آیا۔ یہ کسی کیلنڈر کی تاریخ نہیں تھی، یہ ایک سوال تھا جو سڑکوں، فٹ پاتھوں، فیکٹریوں اور خالی چولہوں کے درمیان چپ چاپ رکھا گیا تھا کہ وہ دن کب آئے گا؟
بابر آج بھی سورج سے پہلے جاگ گیا۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو اندھیرا ابھی باقی تھا، وہی اندھیرا جو رات سے زیادہ زندگی میں تھا۔ بیوی نے کروٹ بدل کر پوچھا، آج چھٹی نہیں ہے؟ بابر نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا، ہم جیسے لوگوں کے لیے کون سی چھٹی؟ بیوی خاموش ہو گئی۔ وہ جانتی تھی کہ خاموشی اس گھر کی سب سے بڑی زبان ہے۔ کونے میں دو بچے سو رہے تھے، ان کے پیٹ اندر کی طرف جھکے ہوئے، جیسے خواب بھی اب آدھے رہ گئے ہوں۔
فیکٹری کے دروازے پر آج ایک بینر لگا تھا جس پر درج تھا کہ مزدوروں کا عالمی دن مبارک ہو! بابر نے بینر کو غور سے دیکھا، پھر اپنے ہاتھوں کو جو تیل، گرد اور وقت کے بوجھ سے سیاہ ہو چکے تھے۔ مبارک، اس نے آہستہ سے دہرایا، جیسے یہ لفظ اس کی زبان پر اجنبی ہو۔
اندر مشینیں چل رہی تھیں، ہمیشہ کی طرح بے حس، بے آواز نہیں، بلکہ ایک ایسے شور کے ساتھ جو انسان کی آواز کو نگل جاتا ہے۔ وہاں ایک عورت بھی کام کر رہی تھی، ماہین۔ اس کی انگلیاں کپڑا سیتی تھیں مگر اس کی آنکھیں کہیں اور ٹکی رہتی تھیں۔ ایک نئی لڑکی نے پوچھا، آج چھٹی کیوں نہیں؟ زینب نے مسکرا کر جواب دیا، چھٹی اُن کو ملتی ہے جو کام کے مالک ہوتے ہیں، ہم تو بس کام کے عادی ہیں۔
دوپہر کے وقت بابر اور اس کا دوست بشیر فیکٹری کے باہر بیٹھے تھے۔ بشیر نے روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالا اور آدھا بابر کی طرف بڑھا دیا۔ لے، بانٹ لیتے ہیں۔ بابر نے روٹی کو دیکھا، پھر بشیر کی آنکھوں کو، ان میں ایک عجیب سی روشنی تھی۔ بشیر نے ہنستے ہوئے کہا کہ آدھی روٹی میں بھی دوستی پوری ہو جاتی ہے۔ بابر نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید بھوک صرف جسم میں نہیں، رشتوں میں بھی لگتی ہے۔
اسی شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں اسی دن ایک تقریب ہو رہی تھی۔ لوگ سوٹ پہنے ہوئے تھے، ہاتھوں میں کافی کے کپ، لبوں پر مسکراہٹیں اور زبان پر مزدوروں کے حقوق۔ ایک مقرر بول رہا تھا کہ ہم مزدوروں کے لیے بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ تالیاں بجیں مگر وہ آوازیں فیکٹری تک نہیں پہنچیں۔
شام کو بابر گھر لوٹا۔ بچوں نے پوچھا، ابو، آج آپ کے دن کیسی رہی؟ بابر نے کچھ دیر سوچا، پھر کہا، آج بھی کام کیا۔ بڑا بیٹا بولا، مگر آج تو مزدوروں کا دن تھا نا؟ بابر نے بچے کے سر پر ہاتھ رکھا، اور آہستہ سے کہا، ہاں بیٹا، ہمارا دن بھی کام کرتا ہے۔
رات کو ماہین اپنے گھر میں بیٹھی تھی۔ اس کی بیٹی نے پوچھا، امی، کیا ہم کبھی نئے کپڑے پہنیں گے؟ ماہین نے اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے کہا، ان شاء اللہ، ایک دن۔ وہ دن کب آئے گا؟ ماہین نے جواب نہیں دیا کیونکہ وہ دن اس کے پاس کبھی آیا ہی نہیں تھا۔
اگلے دن شہر میں ایک خبر پھیلی۔ کچھ مزدوروں نے کام روک دیا تھا۔ یہ کوئی ہنگامہ نہیں تھا، کوئی نعرہ نہیں، کوئی جلوس نہیں، صرف ایک خاموشی تھی جو پہلی بار احتجاج بن گئی تھی۔ بابر بھی وہاں کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ خالی تھے، مگر اس کی آنکھوں میں پہلی بار ایک سوال نہیں، ایک فیصلہ تھا۔ کسی نے پوچھا، ہم کب تک انتظار کریں گے؟ بشیر نے جواب دیا، جب تک ہم انتظار کرتے رہیں گے، وہ دن نہیں آئے گا۔
اس دن کوئی انقلاب نہیں آیا۔ فیکٹریاں بند نہیں ہوئیں، حکومتیں نہیں بدلیں، نظام نہیں ٹوٹا۔ مگر کچھ اور ہوا، لوگوں نے پہلی بار اپنے انتظار کو پہچان لیا۔ چند دن بعد، بابر کے گھر میں ایک تبدیلی آئی۔ روٹی اب بھی کم تھی، مگر باتیں بدل گئی تھیں۔ بچوں نے سوال کرنا شروع کر دیا تھا کہ ہم کیوں غریب ہیں؟ ہم کیوں نہیں پڑھ سکتے؟ اور بابر، جو پہلے خاموش رہتا تھا، اب جواب تلاش کرنے لگا تھا۔
شہر میں بھی کچھ بدل رہا تھا۔ زینب نے ایک دن اپنی بیٹی کو اسکول بھیج دیا۔ بشیر نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اجرت بڑھانے کی بات کی۔ چھوٹے چھوٹے قدم، مگر زمین نے انہیں محسوس کیا۔
کئی سال بعد، اسی شہر میں ایک نئی عمارت بنی۔ اس کے دروازے پر ایک تختی لگی تھی کہ یہ عمارت اُن ہاتھوں کے نام جنہوں نے اسے بنایا۔ بابر وہاں کھڑا تھا، اس کے بال سفید ہو چکے تھے۔ اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا جو اب پڑھ لکھ کر ایک استاد بن چکا تھا۔ بیٹے نے پوچھا، ابو، کیا یہ وہ دن ہے؟ بابر نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر زمین کی طرف اور آہستہ سے کہا کہ نہیں بیٹا، یہ وہ دن نہیں، یہ اس دن کی ابتدا ہے۔
اسی لمحے، شہر کے کسی کونے میں ایک بچہ سو رہا تھا، اس کے ہاتھ خالی تھے، مگر اس کی مٹھی بند تھی۔ جیسے وہ کچھ تھامے ہوئے ہو، کوئی وعدہ، کوئی خواب، یا شاید وہ دن جو اب صرف انتظار نہیں رہا تھا۔
Latest Posts
