تحریر: حمید علی
ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں “یومِ آزادیٔ صحافت” منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صحافیوں کی آزادی، اُن کے حقوق اور آزاد میڈیا کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 1993ء میں اس دن کو باضابطہ طور پر منانے کا اعلان کیا، جس کی بنیاد 1991ء کے “ونڈہوک اعلامیہ” پر رکھی گئی۔ اس اعلامیے میں آزاد، خودمختار اور کثیر الآراء میڈیا کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ معاشروں میں شفافیت، احتساب اور جمہوریت کو فروغ دیا جا سکے۔
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ ایک آزاد صحافت نہ صرف عوام کو درست اور بروقت معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں اور اقدامات پر تنقیدی نظر بھی رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں صحافت کو بھرپور آزادی حاصل ہے اور صحافیوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں ریاستی تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں آزادیٔ صحافت کی تاریخ خاصی پیچیدہ رہی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی دور میں صحافت نسبتاً آزاد تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مختلف ادوار میں اس پر قدغنیں بھی لگائی گئیں۔ خصوصاً مارشل لا کے ادوار میں میڈیا پر سخت سنسرشپ نافذ رہی، اخبارات بند کیے گئے اور صحافیوں کو پابندِ سلاسل بھی کیا گیا۔ تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستانی صحافیوں نے ہمیشہ سچ کی آواز بلند کرنے کی کوشش کی۔
موجودہ دور میں پاکستان کا میڈیا بظاہر آزاد نظر آتا ہے، خاص طور پر نجی ٹی وی چینلز کی کثرت نے معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے۔ مگر حقیقت اس سے قدرے مختلف بھی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا، خصوصاً ٹی وی چینلز، اکثر مختلف سیاسی، معاشی یا ادارہ جاتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ دباؤ خبروں کی سمت متعین کرتا ہے جس سے غیرجانبداری متاثر ہوتی ہے۔
دوسری جانب، پرنٹ میڈیا (اخبارات و جرائد) کو عمومی طور پر نسبتاً زیادہ آزاد سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اسے بھی مختلف مسائل کا سامنا ہے، مگر یہ اب بھی تحقیقاتی صحافت اور سنجیدہ تجزیوں کے لیے ایک معتبر ذریعہ ہے۔ اخبارات میں شائع ہونے والے کالم اور اداریے اکثر ایسے موضوعات کو اجاگر کرتے ہیں جنہیں الیکٹرانک میڈیا نظر انداز کر دیتا ہے۔
پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان اُن ممالک میں شامل رہا ہے جہاں صحافیوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جان کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔ اغوا، دھمکیاں، تشدد اور حتیٰ کہ قتل جیسے افسوسناک واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں آزاد صحافت کا تصور ایک سنجیدہ چیلنج بن جاتا ہے۔
مزید برآں، سوشل میڈیا کے فروغ نے صحافت کی نوعیت کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ایک طرف یہ پلیٹ فارمز اظہارِ رائے کی آزادی کو وسعت دیتے ہیں، تو دوسری طرف غلط معلومات (فیک نیوز) اور پروپیگنڈا بھی تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس صورتحال میں ذمہ دار صحافت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے تاکہ عوام تک مستند اور تصدیق شدہ معلومات پہنچائی جا سکیں۔
حکومتِ پاکستان نے بھی وقتاً فوقتاً میڈیا کی بہتری اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ “صحافیوں کے تحفظ کا قانون”۔ تاہم ان قوانین پر مؤثر عملدرآمد اب بھی ایک بڑا سوال ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف قانون سازی کی جائے بلکہ اس پر مکمل اور سختی سے عمل بھی یقینی بنایا جائے تاکہ صحافی بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
یومِ آزادیٔ صحافت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ایک آزاد میڈیا کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ دن نہ صرف صحافیوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ اس عزم کی تجدید بھی ہے کہ ہم آزادیٔ اظہار کے بنیادی حق کا احترام کریں گے۔
پاکستان میں آزادیٔ صحافت ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ اگرچہ اس راہ میں کئی چیلنجز موجود ہیں، مگر امید کی کرن بھی روشن ہے۔ جب تک صحافی سچ لکھنے اور بولنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور عوام سچ سننے کی خواہش رکھتے ہیں، تب تک آزادیٔ صحافت کا چراغ روشن رہے گا۔
