اخلاق احمد ساغر
حضرتِ انسان کی نفسیات نہایت دقیق، دل کش اور پُر اسرار حقیقتوں کا مرقع ہے۔ بظاہر انسان سادہ لوح دکھائی دیتا ہے مگر اس کے خیالات کی رو، اندازِ فکر کی چال اور ردِعمل کی برق رفتاری اس کے باطن کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جیسا سوچتا ہے، ویسا ہی بنتا اور ویسا ہی دکھائی دیتا ہے؛ گویا “جیسی نظر، ویسا منظر”۔
ایک استاد اپنے تلامذہ کو سبقِ حیات سکھاتے ہوئے یوں گویا ہوئے کہ ایک روز گرمی اپنی شدت پر تھی، دھوپ آگ برسا رہی تھی اور پسینہ تھا کہ تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ راہ چلتے ایک گھر کے سامنے ایک سایہ دار درخت نظر آیا تو دل نے کہا “ڈوبتے کو تنکے کا سہارا”، سو وہ اس کے نیچے جا کھڑے ہوئے تاکہ کچھ سکھ کا سانس لیں اور تھکن کا بوجھ ہلکا کریں۔
ابھی وہ سائے کی ٹھنڈک سے دل کو بہلا ہی رہے تھے کہ اوپر کی کھڑکی کھلی اور ایک شخص نے جھانک کر دیکھا۔ نگاہیں ملیں تو اس نے اشارے سے پوچھا: “پانی پئیں گے؟” استاد نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ شخص اندر چلا گیا۔ استاد کے دل میں فوراً نیک گمانی نے ڈیرہ ڈال لیا کہ “ابھی دنیا سے خیر باقی ہے”، ایسے لوگ بھی ہیں جو راہ چلتے مسافر کا حال پوچھتے ہیں۔
چند لمحے بیتے، پھر کچھ اور اور پھر انتظار طول پکڑ گیا۔ اب دل میں وسوسوں نے سر اٹھایا، خیال آیا کہ شاید وہ شخص وعدہ کر کے “ٹال مٹول” کر گیا، یا پھر “بات آئی گئی ہو گئی”۔ مثبت گمان نے منفی سوچ کا لبادہ اوڑھ لیا اور دل نے کہا کہ “اونچی دکان، پھیکا پکوان”محض دکھاوا تھا، حقیقت کچھ اور نکلی۔
اتنے میں دروازہ کھلا اور وہی شخص جگ اور گلاس لیے باہر نمودار ہوا۔ لبوں پر مسکراہٹ تھی اور لہجے میں خلوص۔ کہنے لگا: “سوچا سادہ پانی کی بجائے شکنجبین پیش کروں، اسی لیے دیر ہو گئی۔” استاد کو یوں محسوس ہوا جیسے “منہ کی کھانی پڑی ہو”؛ اپنی بدگمانی پر ندامت نے دل کو آ گھیرا اور انھوں نے سوچا کہ واقعی “نیکی چھپائے نہیں چھپتی”۔
استاد نے گلاس تھاما اور ایک گھونٹ لیا مگر شربت پھیکا تھا۔ ذہن نے پھر قلعہ بازی کھائی اور خیال آیا کہ “نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی” یعنی اہتمام تو کیا مگر سلیقہ نہ رہا۔ ابھی یہ سوچ پروان چڑھ ہی رہی تھی کہ اس شخص نے جیب سے چینی کی پڑیا نکالی اور نہایت عاجزی سے کہا: “مجھے معلوم نہ تھا آپ میٹھا کتنا پسند کرتے ہیں، اس لیے چینی الگ لے آیا ہوں، آپ اپنی مرضی سے شامل کر لیجیے۔”
یہ سن کر استاد پر گویا حقیقت کا در وا ہو گیا۔ انھیں شدت سے احساس ہوا کہ ان کا ذہن معمولی بات پر بھی فوراً فیصلے صادر کر دیتا ہے۔ ہر لمحہ بدلتی سوچ نے انھیں یہ باور کرا دیا کہ انسان اکثر ایسی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے نہ پوری حقیقت جانتا ہے، نہ درست نتیجہ نکال پاتا ہے۔
استاد نے نہایت سنجیدگی سے کہا: “عزیزو! انسان دراصل وہی ہوتا ہے جو وہ سوچتا ہے۔ دنیا، لوگ اور حالات اپنی جگہ قائم ہیں مگر ان کی تعبیر و تشریح ہمارا ذہن طے کرتا ہے۔ ہمارا دماغ عجلت پسند ہے، یہ “آنکھ کا اندھا، نام نین سکھ” کی طرح بغیر تحقیق کے فیصلے سنا دیتا ہے۔ یہی جلد بازی ہمیں بارہا شرمندۂ تعبیر کرتی ہے۔”
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہر چمکتی چیز کو سونا نہ سمجھیں اور ہر تاخیر کو غفلت نہ جانیں۔ “دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی” تبھی ہوتا ہے جب ہم ٹھہر کر، سوچ سمجھ کر اور حقیقت کی تہہ تک پہنچ کر رائے قائم کریں۔ ورنہ ادھوری معلومات پر قائم کیا گیا ہر فیصلہ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔
اگر انسان اپنے ذہن کو لگام دے، صبر کو شعار بنائے اور حسنِ ظن کو اپنا اوڑھنا بچھونا کرے تو نہ صرف اس کی شخصیت نکھر جاتی ہے بلکہ تعلقات میں بھی چار چاند لگ جاتے ہیں۔ مثبت سوچ دل کو سکون دیتی ہے جب کہ منفی اور عجلت پسند ذہن انسان کو خود اپنے جال میں الجھا دیتا ہے۔
پس لازم ہے کہ ہم اپنے خیالات کی نگہبانی کریں، ہر بات پر فوراً حکم نہ لگائیں اور دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھیں۔ یہی دانائی کی معراج ہے، یہی شعور کی پہچان اور یہی ادراک کی انتہا ہے۔
ذرا ٹھہر کر سوچیے… کیوں کہ “جیسا بیج بوئیں گے، ویسا ہی پھل پائیں گے” اور انسان کی اصل پہچان اس کی سوچ ہی ہوتی ہے۔
Latest Posts
