از قلم: بینا علی
ہجرت کو مقدرِ زیست بنے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا۔ نئے شہر کی اجنبیت ابھی دل پر پوری طرح طاری تھی۔ شہر اور لوگ نئے تھے اور زندگی ایک نئے انداز سے خود کو ترتیب دے رہی تھی۔ انہی دنوں ایک صبح میں کچن میں ناشتہ تیار کر رہی تھی کہ اچانک دو پرندے کھڑکی کے قریب آ بیٹھے۔ ان کی چہچہاہٹ میں جیسے رزق کی خاموش التجا شامل تھی۔کھڑکی پر مضبوط جالی لگی ہوئی تھی اور اسے کھولنے کا کوئی راستہ نہ تھا، اس لیے بظاہر انہیں کچھ دینا ممکن نظر نہیں آتا تھا مگر جب اللہ کسی کے لیے رزق کا فیصلہ کر دے تو وہ اس کے لیے راستے بھی خود بنا دیتا ہے۔ اچانک میری نظر جالی کے ایک سوراخ پر پڑی۔ میں نے روٹی کے چند چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور احتیاط سے اس سوراخ کے ذریعے باہر ڈال دیے۔ چند ہی لمحوں بعد وہ پھدکتے ہوئے آئے اور خوشی خوشی اپنا حصہ لے گئے۔ یہ ایک معمولی سا واقعہ تھا مگر دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔اب یہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ وہ ہر صبح اور عصر کے بعد آتے ہیں اور اپنے ساتھ چند دوسری چڑیوں کو بھی لے آتے ہیں۔ جالی کا وہ چھوٹا سا سوراخ ان کے لیے رزق کا دروازہ بن گیا ہے، ایک ایسا دروازہ جسے میں نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے کھولا۔ یہ منظر دیکھ کر میں اللہ تعالیٰ کے نظامِ رزق پر حیران رہ گئی۔ ہم خود بھی غمِ روزگار کے تحت ہجرت کرکے اس نئے شہر میں آ بسے ہیں۔ ہمارے لیے بھی رزق کے دروازے وہیں سے کھلتے ہیں جہاں تک ہماری سوچ نہیں پہنچتی اور پھر اللہ تعالیٰ ہمارے ہاتھوں انہی بے زبان پرندوں کا رزق بھی ان تک پہنچا دیتا ہے۔ کتنی عظیم ہے وہ ذات جو آسمان کی وسعتوں میں اڑنے والے پرندوں کو بھی نہیں بھولتی اور پردیس میں بسنے والے انسانوں کو بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں کرتی۔ وہی دل میں خیال ڈالتا ہے اور وہی اسباب مہیا کرتا ہے۔ کبھی جالی کا ایک چھوٹا سا سوراخ اللہ کی رحمت کا وسیلہ بن جاتا ہے اور کبھی ایک انسان کے ہاتھ اس کی عطا بانٹنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ رزق کی تقسیم کا نظام عقل کو حیران اور دل کو مطمئن کر دیتا ہے۔ ہم صرف وسیلہ ہیں، دینے والا تو صرف اللہ ربّ العزت ہے۔ اس کے خزانے بے شمار ہیں وہ جسے دینا چاہے وہاں سے دیتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا اور جب اپنے بندوں کو نوازتا ہے تو ان کے ذریعے اپنی دوسری مخلوق کا رزق بھی پہنچا دیتا ہے۔ بے شک رازق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
Latest Posts
