وقتی شہرت اور زوالِ سخن

تحریر: محمد اختر انجم، ڈیرہ غازی خان
آج جس نازک موضوع پر میں خامہ فرسائی کرنے جا رہا ہوں، ممکن ہے مصلحت پسند حلقہ احباب کو گراں گزرے اور کچھ احباب کی جبینِ شوق پر بل بھی پڑیں مگر حقیقت کی تلخی بہرحال بیان کی متقاضی ہے۔
سوشل میڈیا، خصوصاً فیس بک کے پھیلاؤ نے جہاں اظہار کی دنیا کو وسعت دی ہے، وہیں ہماری سماجی، ثقافتی اور ادبی اقدار پر بھی واضح دباؤ ڈالا ہے۔ اسی تیز رفتار اور بے لگام اظہار کی فضا میں اردو شاعری سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جہاں سنجیدہ ادبی معیار کے بجائے فوری داد اور وقتی مقبولیت کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے۔ شاید ہمارا عہد اس گہری شعری کیفیت سے بتدریج دور ہوتا جا رہا ہے جو کبھی روح کی تازگی کا سبب ہوا کرتی تھی۔ ذرا اپنے گرد و پیش کی معروف ادبی دنیا کے افق پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ کیا کیا گل کھلائے جا رہے ہیں! موجودہ منظرنامہ دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ادب میں معیار کے بجائے مقدار کو فوقیت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ جہاں بعض اوقات ایسے افراد بھی ایڈیٹرز، چیف ایڈیٹرز کے القابات کے ساتھ سامنے آتے ہیں جنہیں بنیادی عروضی اصولوں سے بھی واقفیت نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ اصلاح کی روایت کمزور اور سطحی داد کا رجحان مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ اسناد، تمغوں اور نام نہاد اعزازات کی بندر بانٹ اس بے دردی سے ہونے لگی ہے کہ ہر دوسرا شخص ”فخرِ ادب“ کہلوانے لگا ہے۔ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اظہار کی کثرت نے خاموش مطالعے کی روایت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ ادب اب خدمتِ عالیہ نہیں رہا بلکہ ایک نمائشی میلے اور سستی شہرت کی منڈی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ تاہم یہ کہنا بھی ناانصافی ہو گی کہ ہر سمت اندھیرا ہے۔ آج بھی کئی مخلص اہلِ قلم خاموشی سے ادب کے وقار اور معیار کی حفاظت میں مصروف ہیں۔ اردو شاعری محض جذباتی جملوں یا لفظی خوبصورتی کا نام نہیں۔ یہ ایک مکمل فن ہے جس کے اپنے اصول، روایتیں اور فنی تقاضے ہیں۔ عروض، بحور، زبان کی تہذیب، معنوی گہرائی اور فکری پختگی وہ ستون ہیں جن پر اردو شاعری کی عظیم روایت قائم رہی ہے۔ اقبال، فیض، فراز، جالب، محسن نقوی اور منیر نیازی جیسے شعرا نے محض جذبات کے بل پر نہیں بلکہ مسلسل ریاضت، مطالعے اور فنی شعور کے ذریعے ادب میں اپنا مقام پیدا کیا۔ سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ وہ فنی ستون، جن پر اردو شاعری کی عالیشان عمارت صدیوں سے قائم ہے، اب مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ بے وزن مصرعوں پر ”واہ واہ“ کے غلغلے بلند ہوتے ہیں، اور بے ربط جملوں کو شاعری کا نام دے کر داد و تحسین کے پھول نچھاور کیے جاتے ہیں۔ محض قافیے ملانے یا جذباتی جملے لکھ دینے کو فن سمجھ لیا جاتا ہے، جب کہ شاعری صرف لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ شعور، مطالعے اور فنی دیانت کا نام ہے۔
ہمارے شعری ذوق کے زوال کا ایک بہت بڑا مظہر ہماری دینی نظمیں حمد، نعت، منقبت، نوحہ اور اصلاحی کلام وغیرہ بھی ہیں، جہاں معیار ”اللّٰہ نیت دیکھتا ہے، وزن نہیں“ کے لبادے میں چھپایا جاتا ہے۔ وہاں قبر میں غالب و میر کی روح بھی یقیناً سر پیٹتی ہو گی۔لمحہ فکریہ ہے کہ کسی بھی ملک میں اقتصادی بحران پر قابو پاکر اسے دوبارہ پیروں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے لیکن شاعری اور ادب کا زوال اس قوم کے اخلاقی، فکری، شعوری اور روحانی زوال کی علامت ہے۔ یہ صورتحال صرف فنی کمزوری تک محدود نہیں بلکہ مجموعی تہذیبی رویوں کی عکاس ہے۔اسی ماحول میں جدید ٹیکنالوجی اور چیٹ جی پی ٹی جیسے آلات نے جہاں سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں ”برقی تخلیق کاروں“ اور ”مشینی شاعروں“ کی ایک نئی صف بھی کھڑی کر دی ہے۔ لفظوں کے بے روح ملاپ کو شاعری کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے حالاں کہ شاعری کا قدرتی سوز اور باطنی درد ہی اس کی اصل روح ہوتا ہے، وہ کسی سافٹ ویئر کے الگورتھم سے پیدا نہیں کی جا سکتی۔
افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ اب تنقید کو ذاتی حملہ اور اصلاح کو حوصلہ شکنی تصور کیا جاتا ہے۔ ہماری کلاسیکی ادبی روایت میں اساتذہ سے برسوں اصلاح لینے کو عزت دی جاتی تھی مگر آج بے وزن مصرعوں پر مبالغہ آمیز داد دراصل نئے لکھنے والوں کے لیے سیکھنے کے دروازے بند کر دیتی ہے۔ ادب میں حوصلہ افزائی یقیناً ضروری ہے، لیکن اگر ہر تحریر کو بلا امتیاز شاہکار قرار دے دیا جائے تو پھر ریاضت اور فنی تربیت کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ادب کو دوبارہ سنجیدگی اور فنی شعور کے ساتھ جوڑا جائے۔ اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور نئے لکھنے والوں کو کلاسیکی ادب کے مطالعے کی طرف راغب کیا جائے۔ جب معاشرے معیار سے سمجھوتہ کرنے لگیں تو زوال صرف شاعری تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری تہذیب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ بڑے فن ہمیشہ خاموش ریاضت، عمیق مطالعے اور مسلسل اصلاح کے بطن سے جنم لیتے ہیں، محض وقتی شور اور مصنوعی تحسین سے نہیں۔ لفظ جب محض اظہار نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھے جائیں، تبھی ادب اپنی اصل عظمت اور تہذیبی وقار کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow