کرکٹ میچ

تحریر: آمینہ یونس سکردو، بلتستان
نور فاطمہ کب سے ریلنگ پر ہاتھ رکھے محویت سے سامنے پارک میں کھیلتے لڑکوں کو دیکھ رہی تھی۔ بظاہر بے دھیانی میں، مگر اس کا سارا دھیان کھیل پر تھا۔ کچھ لڑکے باؤلنگ کر رہے تھے، کچھ بیٹنگ میں مصروف تھے۔ وہ غور کر رہی تھی کہ باؤلنگ کرنے والے بیٹسمین کو آؤٹ کرنے کی جدوجہد کر رہے تھے، جبکہ بیٹنگ کرنے والے اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے دفاع پر توجہ دے رہے تھے، جیسے وہ اپنی جگہ چھوڑنے کو راضی نہ ہوں۔
یہ منظر دیکھ کر نور فاطمہ کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ کرکٹ کا یہ میچ اور انسانی زندگی میں کتنی مماثلت ہے! جیسے کھلاڑی پچ پر کھڑے رہنے کی جدوجہد کرتا ہے، ویسے ہی انسان زندگی کے میدان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کرتا ہے۔ مسائل اور مشکلات باؤلرز کی طرح اسے لڑکھڑانے پر مجبور کرتے ہیں۔ مہنگائی، بیماری، بچوں کے اخراجات، گھر کے خرچے، تیمارداری، عیدیں، رشتہ داریاں نبھانا، شادی بیاہ کی رسومات۔ یہ سب ایسے باؤلرز ہیں جو انسان کو بار بار آزماتے ہیں۔ اور ان میں سب سے خطرناک باؤنسر مہنگائی اور وہ رسومات ہیں جو انسان نے خود پر لازم کر رکھی ہیں، صرف اپنے قد کو بڑا دکھانے کے لیے۔
سوچتے سوچتے نور فاطمہ چونک کر میدان کی طرف دیکھنے لگی۔ اب وہاں لڑکے نہیں تھے۔ گیم ختم ہو چکی تھی، اور سب گھروں کو جا چکے تھے۔ لیکن نور کے لیے ایک نیا در کھل چکا تھا، ایک ایسی سوچ کا دروازہ، جس میں وہ نہ جانے کتنے دن الجھی رہتی۔
پھر اچانک اسے اپنی ماں یاد آئی۔ گھڑی دیکھی تو دو گھنٹے بیت چکے تھے۔ “اف! میں یہاں سوچوں میں غرق ہوں، اور وہاں امی میرے قتل کی تیاری کر رہی ہوں گی!” یہ سوچ کر اس کے لبوں پر ایک نرم سی ہنسی پھیل گئی۔ اپنی پیاری امی کے لیے سوچا گیا یہ جملہ اسے مزید محظوظ کر گیا۔ وہ ایک نئی کہانی بُننے کے ارادے سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow