
تحریر: مردہ گل
رزق کیا ہے؟رزق سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کی نشوونما میں مددگار ثابت ہوجس پر انسانی بقاء کا دارومدار ہے ۔یہ رزق کا حصول ہی ہے کہ اگر جائز طریقے سے کیا جائے تو انسان، انسان کامل بن کربلندیوں میں پرواز کرسکتا ہے اور اگر ناجائز ذرائع استعمال کرے تو انسان پستی کی عمیق گہرائیوں میں گر کر بلند پرواز سے محروم ہوجاتا ہے۔ لہذا رزق کا حصول اس طرح کیا جائے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح کا ضامن بنے۔ رزق کا حصول انسان کی راہ میں اس وقت رکاوٹ بن جاتا ہے جب وہ نا جائز طریقوں کا استعمال کر کے مادی فوائد حاصل کرے۔
جس طرح شاہین اور کرگس کی پرواز ہے بالکل اسی طرح انسانی پرواز بھی ہے، کرگس یعنی گدھ بھی آسمان کی وسعتوں میں پرواز کرتا ہے لیکن زندگی شکار اس کے نصیب میں نہیں ہوتا اس کی فکر صرف کھانے سے ہے۔ حرام یا حلال سے نہیں۔ کرگس کا مقصد دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب کر رزق کا حصول ہوتا ہے۔ وہ انسان جو ناجائز ذرائع استعمال کرے رزق کے حصول کے لیے وہ مادی فوائد تو حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن روحانی طور پر مردہ ہو جاتے ہیں۔ موت صرف جسمانی خاتمے کا نام نہیں بلکہ جو انسان دوسروں کا محتاج اور دوسروں پر انحصار کرتا ہےوہ دراصل روحانی طور پر پہلے ہی سے مر چکا ہو تا ہے۔ اصل زندگی کی بلندی اور بلند پروازی تو روحانی معیارات پر قائم ہے۔ روحانی بلندی کے لیے خودی اور خودمختاری
کی اشد ضرورت ہے۔
خودی کو کر بلند اتنا کے ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے تیری رضا کیا ہے
کرگس کے برعکس شاہین خوداری اور خود مختاری کی اعلیٰ مثال ہے۔ شاہین رزق کا حصول تو کرتا ہے لیکن اس رزق کے لئے وہ خوداری اور غیرت مندی کو نہیں چھوڑتا۔ اقبال کو بھی یہ پرندہ اس لئے پسند ہے کہ اس میں خوداری اور غیرت مندی جیسے اعلیٰ اوصاف موجود ہیں۔ شاہین کی طرح مرد مومن کی پرواز بھی اسی طرح ہے۔ پرواز اس کی نگاہوں کو وسعت بخشتی ہے کائنات کے نئے گوشے اس کے سامنے لاتی ہے۔ شاہین کی طرح مرد کامل بھی اپنے لئے سرمایہ جمع کرنا بودو باش کی شان وشوکت کو اپنی درویشی کے خلاف سمجھتا ہے۔ انسان، انسانِ کامل بن کر نہ صرف کائنات کو تسخیر کرسکتا ہے بلکہ بلند پرواز کرتے ہوئے مقام لا ہوت تک پہنچ جاتا ہے۔ جہاں نہ مکاں ہے نہ مکیں۔
کیا میں نے اس خاک داں سے کنارہ
جہاں رزق کا نام ہے آب ودانہ
بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو
ازل سے فطرت ہے میری راہبانہ
لیکن جو قوم آئی۔ ایم۔ایف کی ٹکڑوں پر پل رہی ہو اس قوم کے افراد انسان ِکامل کیسے بن سکتے ہیں۔ غیرت خودی اور خودمختاری کو پس پشت ڈال کر صرف مادی فوائد کے پیچھے بھاگ رہے ہوں۔ تو اس قوم کے افراد انسانِ کامل کیسے بن سکتے ہیں؟ جس قوم کا ہر فرد بد عنوانی کا شکار ہو زندگی کے حقیقی عنوان سے بھٹکنے والے بد عنوانی کا شکار ہوتے ہیں۔ بدعنوانی کا یہ دائرہ کسی ایک نقطے پر مرکوز نہیں بلکہ وسعت کائنات کی طرح دائرہ در دائرہ اپنا جال بچھاتا ہے۔ جس میں طمع،حرص،لالچ ،جھوٹ،مکاری فریبی اور خودنمائی کے خوش نما نگینے جڑے ہیں۔ کم فہمی اور خود فریبی کے شکار لوگ اس چمک سے اپنی حقیقت فراموش کر جاتے ہیں اور بلند پروازی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ رزق کے حصول کے لئے اپنے اصل مقصد کو چھوڑ کر بدعنوانی ہر شخص کا پیشہ بن چکا ہے۔
المیہ تو یہ ہےکہ جن لوگوں کو کشتی ملت کا ناخدا بنایا گیا انھوں نے لوگوں کو طوفان کی حقیقت سے بے خبر رکھا جب مقتدرہ حضرات ہی مادی وسائل کے پیچھے بھاگ رہے ہوں۔ عام شہری سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ رزق کے حصول کے لئے اپنے ضمیر کو زندہ رکھے مادیت پرستی کے بت کو پاش پاش کر کے روحانیت کو گلے لگایا جائے، جبکہ حرام رزق سے موت اچھی۔
