پہچانِ پاکستان میگا ادبی ایوارڈ شو اور زکیر احمد بھٹی

تحریر ۔۔۔۔۔ رفیع صحرائی
جنون سود و زیاں کے حساب کتاب کا قائل نہیں ہوتا۔ یہاں تو عاشق اپنے عشق میں سب کچھ وار دیتے ہیں۔ جنونی شخص تو عاشقوں کا بھی مرشد ہوتا ہے۔ زکیر احمد بھٹی کے جنونی ہونے میں تو کسی شک و شبہے کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ اس کے کام دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے اپنی ساری کمائی ادب کی خدمت اور ترویج میں خرچ کیے جا رہا ہے۔ لوگ جس کام کو کمائی کاذریعہ سمجھتے ہیں یہ اس کام کو عبادت سمجھ کر انجام دے رہا ہے۔
اخبار کا نام ”پہچانِ پاکستان“ زکیر احمد بھٹی کی وطن سے حد درجہ محبت کا عکاس ہے۔ دیارِ غیر (سعودی عرب) میں رہتے ہوئے وطن کے نام کو سربلند رکھنا اس نے اپنا مشن بنا رکھا ہے۔ گزشتہ تین سال سے روزنامہ پہچانِ پاکستان کی مسلسل اشاعت کسی کارنامے سے کم نہیں کہ دیگر اخبارات کی طرح اپنے نمائندوں سے اس اخبار کے لیے سالانہ بزنس طلب نہیں کیا جاتا نہ ہی عید،یومِ پاکستان یا دیگراہم قومی تہواروں پر نمائندوں کو اشتہار دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بہت سے دوسرے اخبارات کی طرح بیک اپ یا نمائندوں سے کارڈ فیس کے نام پر موٹی رقم لینے کا بھی یہاں رواج نہیں ہے۔ سارے اخراجات زکیر احمد بھٹی اپنی ذاتی کمائی سے پورے کرتے ہیں۔ دیارِغیر میں رہ کر اخبار کے تمام شعبوں پر نظر رکھنا اور ایک معیاری اخبار کی مسلسل اشاعت کو یقینی بنانا کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظور بھی یقیناً ان تھک اور محنتی اخبار نویس ہیں جو خود بھی ایک بلند پایہ ادیبہ ہیں۔ نئے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور راہ نمائی کے لیے آمنہ منظور قطبی تارا بنی ہوئی ہیں۔ پہچانِ پاکستان کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ نامور قلم کاروں کے عملی تعاون کے ہوتے ہوئے نئے لکھنے والوں کی تربیت کے لیے اس وقت پاکستان میں یہ واحد ادارہ ہے جو بے لوث ہو کر ان کی نہ صرف تربیت کر رہا ہے بلکہ ان کی تحریروں کو نکھار سنوار کر اشاعت کے قابل بنا کر انہیں شائع بھی کرتا ہے۔
پہچانِ پاکستان کی طرف سے اب تک اردو کے معروف ادباء و شعراء کے علاوہ نئے لکھنے والوں کی نگارشات پر مشتمل انتھالوجی کے دو گلدستے ”عہدِ ادب“ اور عہدِ ادیب“ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ آج کل ادبی انتھالوجی کی اشاعت نے کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کئی ادارے نئے لکھنے والوں سے کتاب میں تحریر شائع کرنے کے نام پر اچھی خاصی رقم وصول کر رہے ہیں۔ زکیر احمد بھٹی نے یہاں بھی اپنی انفرادیت اور معیار پر حرف نہیں آنے دیا۔ کسی رائٹر سے کوئی معاوضہ طلب کرنا تو دور کی بات اسے کتاب خریدنے پر بھی مجبور نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے کی تیسری کتاب بھی جلد ہی منصہ شہود پر آنے جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پہچانِ پاکستان کے زیرِ اہتمام ایک ماہ نامہ کی اشاعت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اردو ادب کے فروغ کے لیے زکیر احمد بھٹی سعودی عرب میں بھی عصرِ حاضر کے نمائندہ شاعر کامران حسانی اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ عالمی حلقہء فکر و فن کے پلیٹ فارم سے ادبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ PPN نیوز چینل بھی پہچانِ پاکستان نیوز گروپ کے پلیٹ فارم سے ایک خوب صورت اضافہ ہے جو تازہ ترین خبروں٫ حالاتِ حاضرہ اور ادبی سرگرمیوں سے ناظرین کو آگاہ رکھتا ہے۔
روزنامہ پہچانِ پاکستان کی جانب سے گزشتہ روز الحمرا آرٹس کونسل لاہور کے ہال نمبر 3 میں شعراء٫ ادباء٫ کالم نویس٫ گلوکاران اور فنونِ لطیفہ کے دیگر شعبوں میں نمایاں شخصیات اور نو آموز قلم کاروں کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ”پہچانِ پاکستان میگا ادبی ایوارڈ شو“ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کے طول و عرض میں جگمگانے والے ستاروں نے شرکت کی۔ سعودی عرب میں مقیم نوجوان نسل کے نمائندہ شاعر کامران حسانی نے نہایت خوب صورتی سے نظامت کے فرائض سرانجام دیے ان کی معاونت معروف افسانہ نگار اور کالم نویس عبدالحفیظ شاہد نے کی۔ ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظور کا سپاس نامہ اور تعارفی کلمات ادارہ پہچانِ پاکستان کے آٹھ سالہ سفر،راستے کی صعوبتوں، ٹیم کے غیرمتزلزل عزم وحوصلے اور کامیابیوں کی خوب صورت پیرائے میں بیان کی گئی مختصر داستان تھی۔ اس تقریب کی ایک خاص بات عصرِ حاضر میں نئی نسل کے سب سے پسندیدہ شاعر علی زریون کی پہچانِ پاکستان کی جانب سے تاج پوشی تھی۔ انہیں زکیر احمد بھٹی اور آمنہ منظور نے سونے کا تاج پہنا کر خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس تقریب میں ایک سو سے زائد اہلِ فن کو شیلڈز٫ میڈلز اور تعریفی اسناد پیش کی گئیں۔ یہ ہر لحاظ سے ایک باوقار اور بہترین تقریب تھی جس میں ٹیم لیڈر زکیر احمد بھٹی اور ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظور کے ساتھ ساتھ عبدالحفیظ شاہد، اللہ رکھا تبسم ،غزالہ سلطانہ، عظمیٰ وفا سید، مصنفہ حنا اختر انصاری، سلمیٰ رانی،آمنہ عذرا،عذرا انصاری،شازیہ یاسین، عذیر قدیر مغل،میر شہزاد رند،ہنزلہ شاہد اور پہچانِ پاکستان کے دیگر ٹیم ممبران کی محنت شامل تھی۔
یہاں ایک مرتبہ پھر زکیر احمد بھٹی کی تعریف کرنا ہو گی کہ ایوارڈزاور انعامات سے لے کر تقریب کے دیگر تمام اخراجات انہوں نے اپنی گرہ سے خرچ کیے۔ اردو ادب کے فروغ اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی و رہنمائی کے لیے روزنامہ پہچانِ پاکستان کی خدمات نمایاں بھی ہیں اور بے مثل بھی۔ زکیر احمد بھٹی جیسا مخلص اور بے لوث شخص یقیناً حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی اور پذیرائی کا مستحق ہے۔ ایسا قابلِ فخر انسان پرائیڈ آف پرفارمنس کا حقیقی اہل ہے۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow