تحریر : عبدالرؤف ملک (کمالیہ)
24 فروری 2025 اردو ادب کی تاریخ میں ایک یادگار دن تھا جب الحمراء آرٹس کونسل شہرِ زندہ دلان لاہور میں پہچانِ پاکستان نیوز گروپ کی طرف سے ایک عظیم الشان ادبی ایوارڈ کا پروگرام منعقد ہوا جس میں ادب و صحافت سے منسلک ملک کی قدآور شخصیات جلوہ افروز ہوئیں۔ یہ پروگرام اپنی شان و شوکت اور علمی و ادبی لحاظ سے نمایاں رہا کیونکہ اس کا اہتمام بے لوث اور ہر طرح کے مفاد سے بالاتر تھا۔ اس تقریب میں ادباء، شعراء، کالم نگاروں اور اردو ادب سے منسلک دیگر شعبوں میں نام کمانے والے اہلِ سخن کی خدمات کے اعتراف میں ان کو ایوارڈز اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا۔میرے لیے یہ انتہائی اعزاز کی بات تھی کہ مجھے بھی اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔ جب سے مجھے اس تقریب میں شرکت کے لیے دعوت نامہ ملا تھا محاورتاََ نہیں بلکہ حقیقتاً خوشی سی میری باچھیں کِھل اٹھی تھیں اور میں خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کررہا تھا کیونکہ پاکستان بھر کے ادباء کے ساتھ بیٹھنے اور ایوارڈ وصول کرنے کا شرف حاصل ہونا کوئی معمولی بات نہ تھی۔تقریب سے ایک دن پہلے ہی میاں فضل ٹریولز والوں سے لاہور کا ٹکٹ بُک کرایا تاکہ لاہور پہنچنے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ آڑے نہ آئے۔ صبح جلدی اٹھنے کے شوق میں عشاء کی نماز کے فوراً بعد بیڈ پہ دراز ہوگیا لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی اگلے دن کے پروگرام کو ترتیب دیتے اور تخیل میں ایوارڈ وصول کرنے کا خواب آنکھوں میں بسائے کب نیند کی وادیوں میں کھو گیا کچھ خبر نہ ہوئی۔ رات کو تین چار بار آنکھ کھلی ٹائم دیکھا لیکن “ہنوز صبح دور است” جو رات آنکھیں بند کرتے ہی گزر جاتی تھی آج وہ شیطان کی آنت کی طرح لمبی ہوچکی تھی۔ وقت جیسے ساکت ہوچکا تھا یا پھر کچھوے کی چال کی طرح دھیرے دھیرے رینگ رہا تھا۔ خدا خدا کرکے صبح ہوئی۔ ہم نے کھدر کا کف لگا کھرڑ کھرڑ کرتا سوٹ اور جیٹ بلیک کوٹ زیب تن کیا اور پورے 9 بجے گاڑی میں اپنی نشست پر براجمان ہوگئے اور گاڑی 9:15 بجے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوئی۔ تقریباً ساڑھے بارہ بجے لاہور نیازی بس سٹینڈ پر اترا تو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ الحمراء آرٹس کونسل کا راستہ کیسے معلوم کروں۔اچانک دائیں جانب ایک ٹک شاپ پہ کھڑے ایک باریش بندے پر نظر ٹِک گئی جو سر پہ ٹوپی پہنے آہستہ آہستہ منہ ہلا رہا تھا جیسے زیرِلب کوئی تسبیح کر رہا ہو۔ میں عجلت سے اس کی طرف لپکا تاکہ الحمراء ہال نمبر تین تک پہنچنے کےلیے رہنمائی حاصل کر سکوں۔ میں نے اس کے پاس پہنچ کر انتہائی عاجزی سے سلام کیا اور اپنا مدعا اس کے سامنے رکھ دیا۔ ان صاحب نے بڑے تحمل سے میری بات سنی اور پھر منہ کی حرکت تیز کرتے ہوئے نیچے سے ایک ڈبہ اٹھایا اور اس میں تھوک دیا۔ اس کی اس حرکت سے مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ موصوف زیرِ لب ذکر میں نہیں بلکہ پان چبانے میں مصروف تھے۔ خیر ان صاحب نے منہ اوپر کی طرف کیا اور پان کو کمال مہارت سے نیچے گرنے سے بچاتے ہوئے مجھے راستہ سمجھانا شروع کردیا۔ وہ راستہ سمجھانے میں زبان سے زیادہ اپنے ہاتھوں کا استعمال کررہے تھے۔ مسلسل دو منٹ تک بولنے اور ہاتھوں کے اشاروں سے سمجھانے کے بعد معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے بھی موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا کہ جی جی سمجھ گیا۔ خدا گواہ ہے مجھے سوائے “اگے جاکے ایں نوں مڑ جانا، اگے جا کے اوں نوں مڑ جانا” کے سوا کچھ سمجھ نہ آیا۔ خیر اس کا شکریہ ادا کرکے دوسری طرف گیا اور موبائل فون سے bikea ایپ اوپن کی اور لوکیشن لگائی فوراََ ہی 250 روپے کی آفر قبول کر لی اور تقریباً تین منٹ کے انتظار کے بعد رائیڈر میرے سامنے کھڑا تھا۔ آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ایک بجے میں الحمراء ہال کی پُرشکوہ عمارت کے سامنے پہنچ گیا۔ الحمراء آرٹس کونسل کے پلاٹس میں بہت سے لوگ تفریح کےلیے ادھر ادھر پھر رہے تھے۔وہاں پہ لوگوں کا رش اور رونق دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے پورا شہر ہی یہاں امڈ آیا ہو۔ میں بھی اس عمارت کی شان و شوکت دیکھتے ہال نمبر تین تک پہنچ گیا لیکن ابھی وہاں تقریب کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔ الحمراء ہال کی شاندار ادبی بیٹھک کے سامنے کھڑے ہو کر ادھر ادھر نظر دوڑائی اور انتظامیہ سے رابطہ کرنے پہ پتا چلا کہ تقریب تین بجے شروع ہوگی۔ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ دو گھنٹے کیسے گزارے جائیں اچانک میری نظر ایک نوجوان پہ پڑی جو اپنا بیگ تھامے آہستہ آہستہ ٹہل رہا تھا۔ کہتے ہیں کہ بصیرت انسان کی وہ قوت ہوتی ہے جو کسی کی بھی شخصیت کا مکمل ادراک منٹوں میں کرلیتی ہے۔ میں نے ان کی چال ڈھال سے فوراً ان کو پہچان لیا کہ ہو نہ ہو یہ نوجوان اپنی چال ڈھال اور نفیس لباس سے ادب کا پروردہ لگ رہا ہے۔ میں فوراََ ان کے پاس پہنچا تعارف ہوا تو پتا چلا کہ میرا اندازہ درست تھا۔ موصوف رانا اسد علی صاحب تھے اور پہچانِ پاکستان ادبی ایوارڈ کےلیے نامزد ہوئے تھے اور اس تقریب میں شرکت کےلیے اُچ شریف سے تشریف لائے تھے۔ رانا اسد علی صاحب ایک خوش پوش، خوش اخلاق اور فطرتاً اچھے انسان تھے ان کے ساتھ بے تکلفانہ گپ شپ ہوئی۔ہم نے یہ وقت الحمرا ہال کی عمارت، گراسی پلاٹس اور پر رونق راہداریوں کو کیمرے میں محفوظ کرتے گزارا۔ادبی بیٹھک کی بلند و بالا عمارت کے سامنے پہچانِ پاکستان کے سینیئر کالم نگار رفیع صحرائی صاحب سے ملاقات ہوئی جو منصب علی وٹو کے ہمراہ بیٹھے تھے۔ ان کے ساتھ تعارف ہوا اور خوب گفتگو ہوئی۔ رفیع صحرائی صاحب ایک کثیرالجہت اور ورسٹائل قسم کی شخصیت رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کی زندگی کے تجربات و مشاہدات سننے کا موقع ملا کہ کس طرح وہ زندگی کے نشیب و فراز میں ثابت قدم رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ہماری ملاقات ایک انتہائی باوقار شخصیت جناب نصیر احمد بھلی صاحب سے ہوئی جو انتہائی شفقت اور خلوص سے ملے۔ حال ہی میں وہ عمرہ کی سعادت سے سرفراز ہوئے ہیں۔ ان سے ملتے وقت اس سعادت پہ انہیں مبارک باد دی اور انہوں نے بھی انتہائی فراخ دلی سے ہمیں حرم شریف کے تبرکات سے نوازا جنہیں ہم نے عقیدت سے آنکھوں سے لگاتے ہوئے قبول کیا۔
تھوڑی دیر بعد ہی اس تقریب اور ادارہ پہچان پاکستان کے روحِ رواں محترم زکیر احمد بھٹی صاحب تشریف لے آئے جن سے سلام دعا ہوئی۔بھٹی صاحب سے بغل گیر ہوتے ہوئے میں نے اپنا تعارف کروانا چاہا تو محترم نے میرے کان میں سرگوشی کی “جناب رؤف ملک صاحب میں آپ کو پہچان گیا ہوں”۔
چند لمحوں بعد تمام شرکاء اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوچکے تھے۔ محترم ذکیر احمد بھٹی صاحب اور محترمہ آمنہ منظور صاحبہ کی محنت اور کاوش دیدنی تھی۔ وہ اتنے بڑے ایونٹ کو کمال مہارت اور پوری ذمہ داری سے سنبھال رہے تھے اور اپنی پوری ٹیم کو ہدایات دے رہے تھے۔ کبھی وہ ایوارڈز کی ترتیب کو دیکھتے تو کبھی سٹیج کی سیٹنگ کو اور کبھی آنے والے معزز مہمانانِ گرامی کو خوش آمدید کہتے نظر آتے۔ محترم زکیر احمد بھٹی کی زیرِ سرپرستی تقریباً ساڑھے تین بجے تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ محترم علی زریون صاحب، شہزاد واثق، صابر علی صابر، چوہدری شفقت محمود اور محترمہ فاطمہ قمر صاحبہ بطور مہمانانِ خصوصی سٹیج پہ جلوہ افروز ہوئے۔ نقیبِ محفل کے فرائض محترم کامران حسانی اور عبدالحفیظ شاہد صاحب نے سنبھالے۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت محترمہ غزالہ سلطانہ صاحبہ نے حاصل کی اور سورۃ الرحمن کی آیات کی تلاوت سے ایسا سماں باندھا کہ حاضرین و سامعین پہ رقت طاری ہوگئی۔ یہ آیاتِ مبارکہ کی تاثیر اور محترمہ کی آواز کا جادو تھا کہ تقریب کے مہمانِ خصوصی محترم شفقت محمود چوہدری صاحب نے محترمہ غزالہ سلطانہ ان کی والدہ اور ان کے والدِ گرامی کے لیے عمرہ کے تین ٹکٹ کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کے بعد محترمہ غزالہ سلطانہ کی مسرت دیدنی تھی ہال میں موجود ہر شخص کی آنکھ عقیدت سے اشک بار تھی اور ہر طرف سے مبارک باد کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ محترم اللہ رکھا تبسم صاحب نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرکے ہمارے دلوں کو حبِ رسول سے منور کیا۔ اس کے بعد قومی ترانے کی دھن سنائی دی اور تمام شرکاء قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ پھر جس ہستی کو سٹیج پہ بلایا گیا وہ ادارہ پہچانِ پاکستان کی دوسری بڑی طاقت اور زکیر احمد بھٹی کی دستِ راست محترمہ آمنہ منظور صاحبہ تھیں جو بیک وقت ایک ادیب، لکھاری، شاعرہ اور بہترین اتالیق بھی ہیں جو نہ صرف نوآموز قلم کاروں کی نگارشات کی نوک پلک سنوار کے ان کی اصلاح کرتی ہیں بلکہ ان کو قابلِ اشاعت بناتی ہیں۔ محترمہ آمنہ منظور صاحبہ نے انتہائی جامع الفاظ میں ادارہ ہذا کا تعارف، اغراض و مقاصد، صحافت میں اس کی خدمات اور ادارہ کی ترویج و ترقی کے سفر پر روشنی ڈالی۔ ادارہ کو معیار کی بلندیوں پہ پہنچانے میں محترم زکیر احمد بھٹی کے مثبت کردار اور ان کی ادب دوستی کو بھی سامعین پر واضح کیا۔
اس کے بعد ایوارڈز، میڈلز اور تعریفی اسناد کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ نام زدگان تالیوں کی گونج میں سٹیج پہ آتے اور اپنا اپنا ایوارڈ وصول کرکے تہنیت و تبریک کے تحائف سمیٹتے چلے جاتے۔ یہ ایوارڈز محض شیشے کا ایک ٹکڑا نہیں تھا بلکہ یہ ادیبوں اور لکھاریوں کی سال ہا سال محنت کا ثمر اور ایسا اعزاز تھا جس پہ وہ ہمیشہ فخر کرسکیں گے۔
اس پروگرام کی ایک اہم بات عصرِ حاضر کے ہردل عزیز شاعر جناب علی زریون صاحب کی تاج پوشی تھی۔ محترم ذکیراحمد بھٹی، آمنہ منظور صاحبہ اور ان کی پوری ٹیم نے علی زریون صاحب کے سر پہ طلائی تاج سجایا اور ان کو لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے سرفراز کیا۔ بعد ازاں علی زریون صاحب نے اپنی تازہ شاعری کے ساتھ شرکاء محفل کے دلوں کو گرمایا۔ آہستہ آہستہ پروگرام اپنے اختتامی مراحل تک جا پہنچا اور تمام ادباء و شرکاء اس تقریب کی خوشگوار یادوں سے اپنے اذہان و قلوب کو معطر کر کے رخصت ہونے لگے۔ یہ صرف ایک دن کا پروگرام ہی نہیں تھا بلکہ ایک نئے عہد کی شروعات تھیں۔ یہ پروگرام نوآموز لکھاریوں کےلیے ترغیب اور اردو ادب میں ایک اہم سنگِ میل کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ تقریب اور ملنے والے اعزازات ہمارے دل و دماغ پہ ہمیشہ منقش رہیں گے اور ہمارے ادبی کیریئر میں ہمیشہ فروزاں رہیں گے۔ محترم زکیر احمد بھٹی صاحب، محترمہ آمنہ منظور صاحبہ اور ان کی پوری ٹیم مبارک باد کی حق دار ہے کہ انہوں نے اس تقریب کا اہتمام جس دل چسپی اور دل جمعی کے ساتھ کیا میرے الفاظ ان کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک محترم زکیر احمد بھٹی صاحب اور ان کی پوری ٹیم کو صحت و سلامتی نصیب فرمائے اور ان کی بےلوث قیادت میں اس ادبی کاروان کو دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے۔ آمین!
Latest Posts
