ٹی اِز فنٹاسٹک

عبد الرؤف ملک
ہمارے بچپن کی بات ہے کہ ایک بار ہم اپنے والدِ محترم کے ساتھ ان کی سائیکل پہ بیٹھ کر بازار گئے وہاں سے واپسی پہ ہمیں ایک بڑی سی کھلونا گاڑی پسند آگئی۔ میں نے والد صاحب سے مطالبہ کردیا کہ مجھے وہ گاڑی چاہیے۔ اباحضور نے گاڑی کی قیمت پوچھی تو وہ ان کی قوتِ خرید سے کہیں زیادہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا یہ رہنے دو وہ دوسری لے لو جو اس سے چھوٹی ہے لیکن ہم نہ مانے اور اپنی ضد پر اڑ گئے۔ انہوں نے ہمیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن ہم اپنی ضد پہ اڑے رہے۔ ہمارے ابا حضور رعب داب والے انسان تھے مجبور ہوکر انہوں نے ہمارے کان کے نیچے دو تھپڑ رسید کردیے۔ ہم جو پہلے ہی رونے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے تھپڑ پڑتے ہی بھرے بازار میں بھاں بھاں کرکے رونے لگے۔ اب ابا حضور مجبور ہوگئے اور ہماری ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ ہمیں چپ کرانے کی خاطر ہمیں ہماری مطلوبہ گاڑی لے دی۔ اس وقت ہماری کیفیت بڑی عجیب تھی تھپڑوں کی تکلیف اور کھلونا ملنے کی خوشی۔ نہ ہم تکلیف پہ کھل کے رو سکتے تھے اور نہ خوشی سے ہنس سکتے تھے۔ بچپن کی بالکل یہی کیفیت ہمیں 2019 میں اس وقت نظر آئی جب 27 فروری کو انڈین وِنگ کمانڈر ابھینندن پاک فوج کی حراست میں تھا اور 28 فروری کو دورانِ حراست ایک ویڈیو بیان میں ابھینندن کے ہاتھ میں چائے کی پیالی اور مسخ چہرے پہ پاکستانی عوام کے تھپڑوں اور گھونسوں کے نشان تھے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ پاکستانی چائے کیسی ہے تو سُوجے ہوئے زخمی ہونٹوں پہ کھسیانی ہنسی لانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا “ٹی اِز فنٹاسٹک”۔ میں یہ مانتا ہوں کہ مہنگائی کے اس دور میں ہر چیز آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے لیکن یہ “فنٹاسٹک ٹی” جتنی مہنگی بھارتی ونگ کمانڈر ابھینندن کو پڑی ہے اس کا حساب لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
27 فروری 2019 پاکستان کی تاریخ کا وہ اہم اور یادگار دن ہے جس کو یاد کرکے ہر محبِ وطن پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے۔ اس دن پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے نام نہاد سٹریٹجک حملے کا منہ توڑ جواب دے کر روایتی حریف انڈیا کے دانت کھٹے کیے اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ مملکت خداداد پاکستان کے محافظ ہر لمحہ اور ہر لحظہ باخبر اور اس کی حفاظت کےلیے تیار ہیں۔
14 فروری 2019 کو بھارت میں ہونے والے پلوامہ حملے میں بھارت نے پاکستان پر اس حملے کے بےبنیاد الزامات لگائے جس کی تردید پاکستان نے بین الاقوامی فورم پر بھی کی لیکن بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا اور کنٹرول لائن پر اپنی فوج کی نہ صرف تعداد بڑھا دی بلکہ شہری آبادی پر فائرنگ بھی کی۔ پلوامہ حملے کے ٹھیک 12 دن بعد یعنی 26 فروری کو بھارتی فضائیہ نے اپنی ہی قوم کو گمراہ کرتے ہوئے غلط بیانی سے کام لیا اور پاکستان میں گھس کر سرجیکل سٹرائیک کرنے کا دعویٰ کردیا جس میں پاکستانی F-16 مار گرانے کا دعویٰ بھی شامل تھا۔ اس سرجیکل سٹرائیک کی تردید نہ صرف پاکستان نے کی بلکہ انٹرنیشنل میڈیا نے بھی اس ڈرامے کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
27 فروری 2019 کو انڈیا کے دو مِگ-21 طیارے جموں کشمیر میں پاکستان کی طرف سے کسی بھی رد عمل یا حملے کو روکنے کی غرض سے اڑ رہے تھے کہ اچانک وہ طیارے لائن آف کنٹرول عبور کر کے 7 کلومیٹر اندر پاکستان کے زیرِ کنٹرول آزاد کشمیر میں گھس آئے۔ جیسے ہی یہ طیارے پاک سرزمین کی حدود میں داخل ہوئے پاک فضائیہ کے شاہین انڈین فضائیہ کی اس ناپاک جسارت کا دندان شکن جواب دینے کےلیے آگے بڑھے۔ اس مشن میں پاک فضائیہ کے وِنگ کمانڈر محمد نعمان علی خان اور سکواڈرن لیڈر حسن محمود صدیقی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ سکوارڈن لیڈر حسن محمود صدیقی نے لائن آف کنٹرول کا راؤنڈ کیا اور ایک انڈین طیارے کا پیچھا کیا جو واپس جموں کشمیر کی طرف بھاگنے کی کوشش کررہا تھا۔ پاکستان کے اس جانباز نے اس طیارے پر میزائل داغ دیا جو ٹھیک نشانے پر لگا اور وہ طیارہ آگ کے شعلوں میں لپٹا ہوا جموں کشمیر کے علاقہ میں زمین بوس ہوگیا اور اس کا پائلٹ بھی اسی کے ساتھ جہنم واصل ہوگیا۔ دوسری طرف وِنگ کمانڈر نعمان علی خان نے دوسرے مِگ-21 کا پیچھا کیا جس کو انڈین وِنگ کمانڈر ابھینندن اڑا رہا تھا۔ اس نے اپنے طیارے کو واپس موڑنے کی کوشش کی لیکن پاک فضائیہ کے تربیت یافتہ وِنگ کمانڈر کے نشانے سے بچنا اس کے بس کی بات نہ تھی۔ نعمان علی خان نے کشمیر کے سماہنی سیکٹر میں انڈین طیارے کو مار گرایا۔ انڈین پائلٹ ابھینندن پیراشوٹ کے ذریعے طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔
زمین پر اترتے ہی ابھینندن نے لوگوں سے پوچھا کہ وہ کس جگہ پہ ہے۔ ایک نوجوان نے جواب دیا کہ وہ اس وقت بھارت کے علاقہ میں ہے۔ یہ جواب سن کر ابھینندن نے جوش میں آ کر “جے ہند” کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔ اس کے منہ سے ہندوستان کا نعرہ سنتے ہی علاقائی لوگ اس پہ پل پڑے اور اس کی خوب درگت بنائی۔ ابھینندن عوام کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگا کہ مجھے معاف کردو اور پولیس یا فورسز کے حوالے کردو۔ یہ کہتے ہوئے اس کو پناہ لینے کےلیے قریبی ندی میں چھلانگ لگانا پڑی۔ اس سے پہلے کہ عوام کا ہجوم اس ندی کو ہی ابھینندن کےلیے شمشان گھاٹ بنادیتا پاک فوج کے مسلح جوان موقع پر پہنچ گئے اور ابھینندن کو حراست میں لے لیا۔
ابھینندن کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس طلب کیا گیا جس میں حکومت پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کا اظہار کرتے ہوئے ابھینندن کو انڈین حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے ابھینندن کو واپس انڈیا بھیج کر عملی طور پر ثابت کردیا کہ پاکستانی قوم ہمیشہ سے امن و آشتی کی خواہاں رہی ہے۔ پوری دنیا میں پاکستان کے اس پیغامِ امن کو سراہا گیا۔ پاک فوج کی طرف سے اس مشن کو “آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ” کا نام دیا گیا۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے اس کامیاب مشن کے ہیروز وِنگ کمانڈر نعمان علی خان اور سکواڈرن لیڈر حسن محمود صدیقی کو ستارہ جرآت اور پھر تمغہ شجاعت کے اعزازات سے نوازا گیا۔ آج پوری قوم آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی کامیابی پر پاکستان ایئرفورس کو خراج تحسین پیش کرتی ہے کہ وہ دفاعِ وطن کےلیے ہمہ وقت تیار ہے اور پاک وطن کی سرحدوں کی حفاظت کےلیے تن من دھن قربان کرنے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کا جذبہ اور قوت رکھتی ہے۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow