غزل

شاعر: عاقب رحیم،وہاڑی
زندگی میں اب کبھی یہ کام کر کے دیکھیں گے
خود کو پھر اک روز تیرے نام کر کے دیکھیں گے
ساقیا ہم نے ترے ہاتھوں پی لی ہے بارہا
ہم کبھی تو نوش ان کا جام کر کے دیکھیں گے
ہم زمانے میں بہت رسوا ہوئے ہیں اب مگر
خود کو پھر تیرے لیے نیلام کر کے دیکھیں گے
بارہا چلتے رہے ہیں ہم الٹ رستے کبھی
اب کی دفعہ خود کو تیرے نام کر کے دیکھیں گے
کب سے خود کو گرنے سے بچا رہے ہیں دیکھ تو
ہم کبھی تو خود کو پھر بام کر کے دیکھیں گے
جا نہ قاصد ان کے ہاں رک جا ابھی لے آ قلم
دل کو ان کی راہ ہم بھی گام کر کے دیکھیں گے
صبح سے ہم دہر کے غم میں مرے ہیں بارہا
شب کو ان کے کوچے میں آرام کر کے دیکھیں گے
تم نے ہم کو آزمایا ہے کئی دفعہ تو اب
ہم بھی تیرے عشق کو انجام کر کے دیکھیں گے
کتنے سستے دام کے ہیں لوگ سب ہی تو ادھر
ہم بھی ان کا پھر کبھی تو دام کر کے دیکھیں گے
مجنوں کیا جانے کہ عاقب کیسی ہے لیلیٰ مری
اب تو سب فرہاد شیریں بام کر کے دیکھیں گے

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow