یومِ مزدور

ازقلم: عرفانیہ تبسّم
یکم مئی محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ محنت، عزم اور قربانی کی ایک زندہ علامت ہے۔ یہ دن اُن بے نام ہاتھوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جو خاموشی سے دنیا کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں، وہ ہاتھ جو اینٹ پر اینٹ رکھ کر بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرتے ہیں، جو زمین کی گہرائیوں سے رزق اگاتے ہیں اور جو اپنے پسینے سے معیشت کے چراغ روشن رکھتے ہیں۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا دارومدار اُس کے مزدور طبقے پر ہوتا ہے۔ مزدور دراصل معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اگر یہ مضبوط ہوں تو ترقی کی عمارت بھی مستحکم رہتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مزدوروں کے حقوق آسانی سے حاصل نہیں ہوئے۔ 1886ء میں شکاگو کے محنت کشوں نے آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار کے لیے جو جدوجہد کی، وہ انسانی حقوق کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ان قربانیوں نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ حقوق مانگنے سے نہیں، بلکہ جدوجہد سے حاصل ہوتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج کا مزدور واقعی اپنے حقوق پا چکا ہے؟
“ہاتھ پاؤں بتاتے ہیں کہ مزدور ہوں میں
اور ملبوس بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں میں”
یہ اشعار آج بھی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج کا مزدور اکثر کم اجرت، طویل اوقات کار اور غیر محفوظ ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہے۔ اس کی محنت تو قیمتی سمجھی جاتی ہے مگر اس کی زندگی کی اہمیت اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے۔
“جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو”
یہ محض ایک شعر نہیں بلکہ ایک بیدار فکر ہے، جو ہمیں انصاف اور مساوات کا سبق دیتی ہے۔
“تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات”
ہر سال یومِ مزدور پر تقاریر اور نعرے تو بہت لگائے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات کم نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مزدور کو صرف ایک دن نہیں بلکہ ہر روز عزت اور انصاف کی ضرورت ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مزدوروں کے لیے مؤثر قوانین بنائے اور ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی بطور شہری اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا کیونکہ ترقی صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور بڑی صنعتوں کا نام نہیں، بلکہ ان سب کے پیچھے کام کرنے والے انسانوں کی خوشحالی ہی اصل ترقی ہے۔ اگر مزدور خوشحال ہوگا تو معاشرہ بھی مضبوط ہوگا اور اگر وہ محروم رہے گا تو ترقی کا یہ سفر ادھورا رہ جائے گا۔ آئیے، اس یومِ مزدور پر یہ عہد کریں کہ ہم صرف الفاظ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عملی طور پر مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے، ان کی عزت کریں گے اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے کیونکہ ایک مہذب اور باشعور معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں محنت کو عزت اور مزدور کو انصاف حاصل ہو۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow