تحریر: عندلیب (کراچی)
یکم مئی آتا ہے تو شہر جاگ اٹھتا ہے۔ جلوس نکلتے ہیں۔ بینر لہراتے ہیں۔ مائیک پر آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ “مزدور کے حقوق!” “برابری!” “انصاف!” ہر طرف ایک شور ہے، ایک جوش ہے، ایک مطالبہ ہے مگر اس شور میں ایک آواز نہیں ہوتی۔ وہ آواز جو اس وقت باورچی خانے میں ہے۔ توے پر روٹی پکا رہی ہے۔ بچہ رو رہا ہے۔ کپڑے مشین میں ہیں اور وہ سب کچھ ایک ساتھ سنبھال رہی ہے۔ اسے جلوس کی خبر نہیں یا شاید ہے مگر اس کے پاس وقت نہیں۔
کہانیاں ہمیشہ شور سے نہیں بنتیں۔ کبھی کبھی ایک خاموش کچن، ایک تھکا ہوا چہرہ، اور ایک ادھوری نیند بھی ایک پوری کہانی ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک مزدور کی کہانی ہے۔بس اس کے ہاتھ میں کوئی بینر نہیں۔ اس کی آواز میں کوئی نعرہ نہیں۔
دنیا بھر میں یکم مئی کو “یومِ مزدور” کہتے ہیں۔ یہ دن اُن لوگوں کا ہے جو محنت کرتے ہیں، پسینہ بہاتے ہیں، وقت لگاتے ہیں اور بدلے میں کچھ مانگتے ہیں مگر ایک سوال ہے جو کوئی نہیں اٹھاتا جبکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں سوال جنم لیتا ہے:
“گھریلو عورت” کا یومِ مئی سے کیا تعلق؟
یہ سوال سیدھا نہیں ہے۔ اس میں کئی تہیں ہیں، کئی خاموشیاں، کئی ان کہی تھکنیں۔ جو عورت صبح سے رات تک گھر چلاتی ہے، کھانا پکاتی ہے، بچے پالتی ہے، بیمار کی تیمارداری کرتی ہے، شوہر کا کھانا گرم رکھتی ہے، وہ مزدور ہے یا نہیں؟
اگر ہے تو اس کی اجرت کہاں ہے؟
اگر نہیں تو پھر یہ سب کام کیا ہے؟
ایک چھوٹا سا منظر دیکھیں۔
رات کے گیارہ بجے ہیں۔ گھر کے سب افراد اپنے کمروں میں جا چکے ہیں۔ ٹی وی بند ہو چکا ہے۔ وہ عورت کچن میں کھڑی ہے۔ برتن سمیٹ رہی ہے۔ فرش صاف کر رہی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب دن ختم ہونا چاہیے تھا مگر اس کے لیے دن ابھی باقی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں یومِ مئی کا سوال پھر سر اٹھاتا ہے۔ یہ سوالات کسی بحث کے لیے نہیں، ایک احساس کے لیے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خواتین ہر روز اوسطاً چار سے پانچ گھنٹے بلا معاوضہ گھریلو کام کرتی ہیں۔ مردوں کے مقابلے میں یہ تین گنا زیادہ ہے۔ پاکستان جیسے معاشروں میں یہ اوقات اور بھی طویل ہیں مگر یہ “کام” شمار نہیں ہوتا۔ جی۔ڈی۔پی میں نہیں آتا۔ تنخواہ کی پرچی نہیں ملتی۔ ترقی نہیں ہوتی، چھٹی نہیں ملتی۔ بیمار ہو تو بھی کام ہوتا ہے۔ تھک جائے تو بھی کام ہوتا ہے۔ رو لے پھر بھی کام ہوتا ہے۔
فیکٹری کا مزدور ہڑتال کر سکتا ہے۔ گھر کی مزدور نہیں کر سکتی۔ اس تھکان کو کوئی نام نہیں دیتا۔
وہ خود بھی نہیں دیتی۔ اس لیے نہیں کہ اسے احساس نہیں بلکہ اس لیے کہ اسے بچپن سے یہی سکھایا گیا ہے کہ یہ “فرض” ہے، “محبت” ہے، “گھر کا کام” ہے۔
فرض اور محنت میں فرق کب ختم ہوا۔ اسے خود بھی یاد نہیں۔
وہ جب بیمار ہوتی ہے، گھر کا کوئی کونہ نہیں جانتا کہ اسے بخار ہے۔ یا جانتا ہے مگر توقع رہتی ہے کہ کھانا تو بن جائے گا ناں اور وہ بناتی ہے، اس لیے نہیں کہ وہ پتھر ہے۔ اس لیے کہ اگر وہ نہ بنائے تو کوئی اور نہیں بنائے گا۔ یہ اس کی مجبوری ہے۔ اسے کمزوری سمجھنے والے نادان ہیں۔
کبھی سوچیں! اگر ایک دن وہ نہ اٹھے۔ صبح چائے نہ بنے۔ ناشتہ نہ ہو۔ بچے کا یونیفارم نہ ملے۔ دوپہر کا کھانا نہ ہو۔ گھر میں ایک عجیب سی بے ترتیبی چھا جائے، تب شاید کسی کو اندازہ ہو کہ یہ سب “خود نہیں ہوتا تھا۔” کوئی کرتا تھا۔ ہر روز۔ خاموشی سے۔ بغیر کہے۔ بغیر مانگے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ گھریلو عورت کو تنخواہ ملنی چاہیے یا نہیں؟ یہ بحث پرانی ہے اور الجھی ہوئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس کی محنت کو محنت کیوں نہیں مانا جاتا؟
ہم مان لیتے ہیں کہ دفتر میں آٹھ گھنٹے کام کرنا “محنت” ہے۔ کھیت میں ہل چلانا “محنت” ہے۔ فیکٹری میں مشین چلانا “محنت” ہے مگر پانچ افراد کا کھانا پکانا، گھر کی صفائی، بچوں کی پرورش، بزرگوں کی دیکھ بھال یہ سب “محنت” نہیں، “محبت” ہے۔
یہ الفاظ کا ہیر پھیر نہیں۔ یہ ایک پورے طبقے کی بے قدری ہے۔
معاشرہ کہتا ہے ،”گھر سنبھالنا بھی تو بڑا کام ہے۔”
مگر یہ “بڑا کام” جب ہو تو نظر نہ آئے اور نہ ہو تو سب کو نظر آئے۔ اس کا نام قدردانی نہیں، استحصال ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ یہ استحصال پیار کے نام پر ہوتا ہے، اس لیے دکھتا نہیں۔ یا دکھتا ہے مگر کہا نہیں جاتا۔
کیوں نہیں کہا جاتا؟
کیوں کہ جو کہے، اسے “باغی” سمجھا جاتا ہے۔ “گھر توڑنے والی۔” “ناشکری۔” تو وہ چپ رہتی ہے اور چپ رہ کر کام کرتی رہتی ہے۔
وہ عورت، جسے ہم پیار سے ‘گھر کی ملکہ’ کہتے ہیں، دراصل ایک ایسی مزدور ہے جس کی ڈیوٹی کا کوئی آغاز ہے نہ اختتام۔ کبھی غور کریں تو اس کی اپنی آنکھوں میں ایک ایسی ویرانی ہوتی ہے جیسے کوئی خالی کمرہ ہو۔ ہم اسے عزت دیتے ہیں، دعا دیتے ہیں، مگر کیا کبھی ہم نے اس کی خاموشی کو پڑھنے کی کوشش کی؟ وہ خاموشی جو چیخ کر کہتی ہے کہ اسے وعظ نہیں تھوڑی سی شراکت چاہیے۔ اسے ہمدردی کے دو بول نہیں، تھوڑا سا وہ وقت چاہیے جو صرف اس کا اپنا ہو۔
اگر ہم سماجی رویوں کی دھند سے نکل کر آسمانی صحیفے کی روشنی میں دیکھیں تو وہاں انصاف کا ترازو بالکل مختلف ہے۔ سورۃ النساء کی اس آیت میں بھی کوئی شور نہیں، بس ایک خاموش تسلیم ہے: “مردوں کے لیے ان کے کیے کا حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کے کیے کا حصہ ہے” (4:32)
یہاں خالقِ کائنات نے واضح کر دیا کہ عورت کی محنت، اس کی کوشش اور اس کا “کسب” اپنی الگ پہچان اور قدر رکھتا ہے۔ کائنات کا مالک تو واضح لفظوں میں کہتا ہے کہ:
“میں تم میں سے کسی محنت کرنے والے کی محنت ضائع نہیں کرتا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت”
(سورة آل عمران: 195)۔
جب وہ خالق ہو کر اس کے ‘عمل’ کو تسلیم کرتا ہے اور اسے ضائع نہ کرنے کی ضمانت دیتا ہے تو ہم انسان اس کے وجود کو گھر کی بے جان مشین کیوں سمجھ لیتے ہیں؟ کیا ہمارا معیارِ انصاف اس رب سے بھی الگ ہے؟ کہتے ہیں انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے مگر کچھ کوششیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو صرف نبھائی جاتی ہیں، مانی نہیں جاتیں۔ شاید سارا مسئلہ اجر کا نہیں، اس ‘اعتراف’ کا ہے جو محبت کے نام پر ہم اکثر ہضم کر جاتے ہیں۔
اسی اعتراف کی کمی معاشرے کے اس طبقے کو جنم دیتی ہے جو ہجوم میں ہو کر بھی تنہا ہے۔ لہٰذا، یکم مئی کو جب کوئی مزدور کے حق کی بات کرے تو ایک لمحے کے لیے رکیں۔ اس عورت کو یاد کریں جو اس وقت گھر میں ہے۔ وہ مزدور ہے۔ بے اجرت مزدور۔
اس کی تھکان حقیقی ہے۔ اس کا وقت حقیقی ہے۔ اس کی محنت حقیقی ہے۔ بس اس کا اعتراف نہیں ہوتا۔
شاید اعتراف سے کچھ شروع ہو سکتا ہے۔ گھر میں ایک بار پوچھیں “تھکی ہو؟” اور اگر وہ “ہاں” کہے تو یہ نہ سوچیں کہ “آج کیا کیا اس نے؟” بس سن لیں۔ اسے محسوس کر لیں۔ یہی اس کا “یومِ مزدور” ہے۔ محبت کے اس خوبصورت استعارے کے پیچھے چھپا اصل کردار وہی ایک “بے اجرت مزدور ” ہے۔
Latest Posts
