تحریر: نوید یوسف زئی
ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور منایا جاتا ہے، جس کا مقصد محنت کش طبقے کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے عزم کو دہرانا ہے۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں مزدور آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ خاص طور پر دہاڑی دار طبقہ، جو روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کر کے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتا ہے، شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔
مہنگائی کے طوفان نے جہاں متوسط طبقے کو پریشان کر رکھا ہے، وہیں دہاڑی دار مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ روزگار کی غیر یقینی صورتحال، اجرتوں میں عدم استحکام، اور مہنگی اشیائے خوردونوش نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کئی مزدور ایسے ہیں جو صبح سویرے کام کی تلاش میں گھروں سے نکلتے ہیں، مگر شام کو خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
دہاڑی دار طبقے کو درپیش مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا تسلسل نہ ہونا ہے۔ نہ کوئی مستقل نوکری، نہ سوشل سیکیورٹی، اور نہ ہی صحت یا تعلیم کی سہولیات۔ حادثات یا بیماری کی صورت میں یہ طبقہ مکمل طور پر بے سہارا ہو جاتا ہے۔ ایسے میں ان کے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے، جو غربت کے اس چکر کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
حکومت کی جانب سے مختلف اعلانات اور پالیسیوں کے باوجود عملی اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے۔ مزدور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ کم از کم اجرت کا تعین بھی اکثر صرف کاغذی حد تک محدود رہ جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محنت کشوں کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل پالیسیاں وضع کرے۔
اس ضمن میں چند اہم اقدامات ناگزیر ہیں:
دہاڑی دار مزدوروں کے لیے رجسٹریشن کا جامع نظام متعارف کرایا جائے تاکہ ان کا ڈیٹا محفوظ ہو اور انہیں حکومتی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
کم از کم اجرت پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزدوروں کے لیے ہیلتھ انشورنس اور سوشل سیکیورٹی اسکیموں کو وسعت دی جائے۔
فنی تربیت کے مراکز قائم کیے جائیں تاکہ مزدور اپنی مہارتوں میں اضافہ کر کے بہتر روزگار حاصل کر سکیں۔
ہاؤسنگ اسکیموں میں مزدور طبقے کو خصوصی کوٹہ دیا جائے۔
بچوں کی مفت اور معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ نسلیں غربت کے چکر سے نکل سکیں۔
یومِ مزدور محض ایک دن منانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے کے اس اہم طبقے کے حقوق کے لیے سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ مزدور کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان کی فلاح و بہبود دراصل ملکی ترقی کی ضمانت ہے۔
اگر ہم واقعی ایک خوشحال اور متوازن معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں مزدوروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ حکومت، نجی شعبہ اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی مزدور دو وقت کی روٹی کے لیے دربدر نہ ہو۔
Latest Posts
