عنوان: عورت، ایک انتہا سے دوسری انتہا تک

تحریر: حفصہ زنیر
اسلام نے عورت کو اس وقت عزت، حقوق اور تحفظ عطا کیا جب دنیا دور جاہلیت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ عرب معاشرے میں عورت کو مکمل انسان تک نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے اسے محض کسی کی ملکیت نہیں بلکہ ایک مستقل اور باوقار شخصیت قرار دیا ہے۔ اسے وراثت میں حق دیا، نکاح میں اس کی رضامندی کو مشروط رکھا، مہر کا حق دار ٹھہرایا، تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی، اور معاشی و سماجی سطح پر اس کی ملکیت اور خودمختاری کو قبول کیا۔ اسلام نے عورت کے تحفظ، کفالت کا حق دار مرد کو ٹہرایا اور ساتھ ہی دونوں کے لیے واضح حدود مقرر کیں۔ حیا، عدل، ذمہ داری، پاکیزگی، اور ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری۔ یہ آزادی بے لگام نہیں ہے بلکہ باوقار اور توازن کے ساتھ دی گئی ایک ذمہ داری ہے لیکن لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ ہم نے دین کے اس متوازن نظام کو چھوڑ کر معاشرے میں ایک انتہا پسندانہ رویہ اختیار کر لیا ہے یا تو ایک طرف عورت کو اس طرح محدود کر دیا گیا ہے کہ اس کی رائے، تعلیم، خواہش اور شخصیت ثانوی ہو گئی ہے اور اسے یہ باور کروایا گیا کہ اس کی اصل دنیا صرف گھر ہے، اور صبر و برداشت ہی اس کی پہچان ہے، چاہے اس پر کتنا ہی ظلم کیوں نہ ہو۔ اس کے حقوق کو اکثر رسم و رواج کی نذر کر دیا جاتا ہے، وراثت میں اس کا حصہ دبا دیا جاتا ہے اور اس کی رضامندی کو کئی معاملات میں نظرانداز کیا گیا اور پھر وقت نے اس بدعنوانی سے ایک اور انتہا پیدا کی۔ جدید دور نے عورت کو اس دوڑ میں دھکیل دیا جہاں اس کی قدر اس کی کارکردگی، کمائی اور ظاہری نمود و نمائش سے جوڑی جانے لگی ہے۔ اب اس سے صرف گھر سنبھالنے کی نہیں بلکہ ہر میدان میں کامل ثابت ہونے، مسلسل کارکردگی دکھانے، اور ہر وقت ایک مثالی تصویر بنے رہنے کی توقع کی جانے لگی ہے۔ سوشل میڈیا اور معاشی دباؤ نے اس پر ایک نیا بوجھ ڈال دیا کہ وہ صرف ذمہ دار نہیں بلکہ ہر حال میں “پرفیکٹ” بھی ہو۔ اس طرح عورت کبھی قید میں تھی اور اب ایک جہدِ مسلسل ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے کہ ہم ایک انتہا سے دوسری انتہا تک جا پہنچے ہیں۔ پہلے خاموشی اور جبر تھا، اب لامحدود توقعات کا بوجھ اور بغاوت ہے۔ دونوں صورتوں میں عورت کی اصل انسانیت اور اس کا متوازن مقام متاثر ہورہا ہے۔ اسلام نہ اس قید کو قبول کرتا ہے اور نہ اس بے لگام دوڑ کو مانتا ہے۔
لمحۂ فکریہ یہ بھی ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ شریعت کا نام لیتے ہیں مگر عمل رسم و رواج پر کرتے ہیں۔ جدیدیت نے نئی آزمائشیں پیدا کردی ہیں۔ دین کے نام پر نفس، انا اور معاشرتی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے اس کو خوف میں جینا سکھا دیا ہے۔ اسلام نے جسے حق کہا تھا، ہم نے اسے احسان بنا کر پیش کیا ہے۔ اصل راستہ نہ اندھی روایت ہے نہ اندھی تقلیدِ مغرب بل کہ اصل راستہ تو وہی ہے جو اسلام نے سکھایا۔
سب سے افسوسناک اور تکلیف دہ پہلو وہ تضاد ہے جہاں خود عورت ہی دوسری عورت کے استحصال کا باعث بن جاتی ہے۔ کبھی ساس کے روپ میں تو کبھی نند، کبھی ماں، بہن، دیورانی، جیٹھانی، کبھی سہیلی یا کوئی اور رشتے دار گو کہ صنف نازک ہی صنف ناتواں کی دشمن بنی بیٹھی ہے۔ معاشرے کی خواتین ہی ان فرسودہ روایات کی پاسدار بن کر ایک دوسرے کے لیے زندگی مشکل بنا دیتی ہیں، اور یوں مظلوم طبقہ خود ہی اپنے وقار کا راستہ روکنے لگتا ہے۔
حقیقتاً اسلام کا پیغام تو اعتدال ہے جہاں عورت اپنی صلاحیت کے مطابق ایمان و حیا، عدل کے ساتھ آگے بڑھے اور اس کی قدر صرف اس کی قربانی یا کمائی پر نہیں بلکہ ایک مکمل انسان ہونے کی بنیاد پر ہو۔ جب ہم اس اصل توازن کی طرف لوٹیں گے اور عورت عورت کی قوت بنے گی، تو نہ عورت مظلوم رہے گی اور نہ معاشرہ بے سکون، بلکہ ایک ایسا نظام قائم ہوگا جہاں حقوق بھی محفوظ ہوں گے، انسانی وقار بھی اور ذمہ داریاں بھی متوازن ہوں گی۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow