تحریر: شازیہ یاسین پنو عاقل کینٹ
انسان اپنے سے جڑے تمام رشتوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ اللہ تبارك وتعالیٰ نے انسان کو ناصرف اشرف المخلوقات کے عہدے پر فائز کیاہے بل کہ اسے محبت اور احساس کی مٹی سے گوندھ کر تخلیق کیا ہے۔ انسان کی ایک دوسرے سے محبت اور احساس کا رشتہ ہی اسے دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ صلہ رحمی، حاجت روائی، مدد کا جذبہ، ایک دوسرے سے محبت، دکھ درد میں شرکت، خوشیوں میں شریک ہونا، عیادت میں دلجوئی، غم میں تعزیت ہم سب کا خاصہ ہے۔ عزت کے بدلے عزت اور احترام کے بدلے توقیر ہر انسان کا حق ہے۔ ہمارے مذہب اسلام نے ہمیں بندوں کے حقوق یعنی حقوقِ العباد کے متعلق بہت واضح ہدایات دی ہیں جس پر عمل کرتے ہوئے اکثر ہم دوسروں کی زیادتی کو معاف کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ نفرت کے بدلے محبت کو بانٹتے ہیں۔ زیست مستعار کی مصلحتوں کو سمجھتے ہوئے اور رشتوں کا پاس رکھتے ہوئے ہم اکثر دوسروں کی کہی گئی باتوں کو برداشت کر کے دل کے کسی کونے میں دفن کر دیتے ہیں تاکہ رشتوں اور محبتوں کا یہ تسلسل برقرار رہے اور ہمارے خوبصورت رشتے محفوظ رہیں۔ محبتوں میں بندھے یہ رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے بل کہ احساس کے بھی ہوتے ہیں۔ اکثر ایسے انسان آپ کی زندگی میں شامل ہو جاتے ہیں جن سے آپ کا کوئی خونی رشتہ نہیں ہوتا لیکن وہ آپ کو خونی رشتوں سے بڑھ کر عزیز ہو جاتے ہیں۔ اس کی محبت میں آپ اکثر اپنے آرام، سکون، بھوک، نیند اور سب سے بڑھ کر اپنے وقت کی قربانی بھی خوشی خوشی دے دیتے ہیں اور اس پر آپ کو کوئی افسوس بھی نہیں ہوتا۔ اس کی ہر بات حکم کی طرح لگتی ہے۔ اس کی خوشی، غمی اس سے زیادہ آپ کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پھر ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کب وہ شخص آپ کی بے لوث محبت اور احساس کو آپ کی کمزوری سمجھنے لگتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ آپ کی محبت کا خود کو تو حقدار سمجھتا ہے لیکن آپ کو صرف فارغ وقت کے لیے یا اپنے کسی خاص جذبے کی تسکین کے لیے استعمال کرتا ہے۔ آپ بے شک اس سے میلوں دور بیٹھے ہو، اس کے ہر عمل کا آپ کو پتہ ہوتا ہے اور وہ شخص آپ کے اس رویے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ آپ کس طرح اس کے لیے فکر مند ہوتے ہیں وہ ان سب سے بالاتر اپنی زندگی میں مگن رہتا ہے۔ محبت بے شک لین دین کا نام نہیں ہے۔ محبت میں اجر بھی نہیں مانگا جاتا۔ محبت کو بچانے کے لیے جھکنا بھی پڑے تو جھک جائیں لیکن جب ہر دفعہ آپ کو ہی ایسا کرنا پڑے تو پھر خدارا رک جائیں۔ ایک بات یاد رکھیئے گا جب آپ ہر وقت میسر ہوں گے تو آپ اور آپ کی محبت اور احساس کی کوئی قیمت نہیں ہوگی۔ ہر بات پر ہاں کہنا آپ کو بے مول کر دے گا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اپنے پیاروں کی خوشی کے لیے آپ خود کو تکلیف دے کر ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں تو بھی آپ ان سے زیادہ خود خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے کام آ کر آپ کو تھکن کے بجائے طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ ان کی بیماری آپ کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس شخص کی خوشی غمی پر آپ کی زندگی منحصر ہونے لگتی ہے۔ اس کی ناراضگی کے خیال سے ہی سانس رکنے لگتا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود اپنی عزت نفس کو کبھی بھی مجروح نا ہونے دیں۔ آپ اپنی طرف سے کبھی کوئی کمی نا رہنے دیں لیکن خود کو اپنی ہی نظروں میں گرنے بھی نہ دیں۔ آپ خود اپنے لیے بہت قیمتی ہیں۔ خود کو عزت دیں اور اپنے آپ کا احترام کریں۔ یاد رکھیے! یہ دنیا ہے۔ یہاں سب کچھ ممکن ہے۔ کوئی کسی کے بغیر نہیں مرتا کچھ دنوں کا خلاء آتا ہے اور پھر سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے۔ اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نا ہونے دیں۔ کسی کی دل آزاری کا سبب مت بنیں۔ کسی کی آنکھوں میں آنسو کی وجہ آپ نہ ہو لیکن اگر یہ سب آپ کے ساتھ ہو اور وہ بھی بغیر کسی وجہ کے تو پھر ضرور سوچیے کہ ہر شخص اور ہر نام نہاد رشتہ آپ کے لیے ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی کے لیے ضروری نہیں ہیں صرف وقت گزاری یا ضروریات پوری کرنے کا سبب ہیں تو بہتر ہے کہ اس رشتے اور اس شخص سے پہلی فرصت میں کنارہ کش ہو جائیں۔ آپ کی زندگی بہت بہترین گزر سکتی ہے جیسے اس کے آنے سے پہلے تھی۔ اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ یہ کہنا یا کرنا بہت مشکل ہے مگر نا ممکن نہیں ہے۔ مردہ پھولوں کو نا تو محبت سے سینچا جا سکتا ہے اور نا ہی احساس کی آب و ہوا سے پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ محبت اور احساس کا رشتہ چاہے خونی رشتوں میں ہو یا احساس کی ڈور میں بندھے میلوں دور بیٹھے رشتوں میں دونوں طرف کی توجہ اور پیار کی آبیاری سے ہی پروان چڑھتا ہے۔ کوئی بھی آپ کی عزت اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک آپ خود اپنی عزت نہیں کریں گے۔ بےشک محبوب کی کوئی بات بری نہیں لگتی اور نا ہی اس کے آگے جھکنے یا معافی مانگنے پر ہمیں شرمندگی محسوس ہوتی ہے مگر ان سب سے اوپر عزت نفس کو ضرور رکھیں مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ اکڑ اور مغرور ہونے اور عزت نفس کا پاس رکھنے میں بہت فرق ہے۔ جس طرح ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح آئینہ اور پس آئینہ بھی حقیقت ہے۔ منظر اور پس منظر کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا۔ اپنے رشتوں کو سنبھالنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ انھیں وقت دیں۔ ان کی خوشی غمی میں صف اول میں کھڑے ہو۔ جب ان کو آپ کی ضرورت ہو تو ان کی پکار سے پہلے موجود ہوں۔ اپنا آرام بھی تیاگ دیں مگر ان سب کے باوجود بھی اگر آپ ان کی توجہ اور محبت کے قابل نا بن سکے تو پھر رک جائیں اور اس رشتے اور اس شخص کو ایک خوبصورت موڑ پر لاکر خدا حافظ کہہ دیں تاکہ آئندہ کی زندگی پر سکون گزر سکے کیونکہ کسی پر بوجھ بن جانے سے خوبصورت یاد بن جانا زیادہ اچھا ہوتا ہے۔ اس میں وقتی اذیت ہو سکتی ہے مگر روز انتظار کی اذیت سہنے، توجہ اور محبت کی بھیک مانگنے یا ان کی نظر التفات کے انتظار میں سولی پر لٹکنے سے یہ عمل کم اذیت ناک ہے لہذا عزت نفس کو ترجیح دیں اور اسے مجروح ہونے سے بچائیں ورنہ اس کے بغیر نا تو آپ میں خود اعتمادی باقی رہے گی اور نا اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر آگے بڑھنے کا جذبہ پروان چڑھے گا تو خود سے عہد کیجئے کہ سب سے پہلے آپ اپنی عزت نفس کو مقدم اور معتبر رکھیں گے۔
Latest Posts
