از قلم : ڈاکٹر زینب آزاد آعوان
کیا آپ جانتے ہیں کہ تنہائی
اور اکیلاپن کیا ہوتا ہے؟
یہ وہ کیفیت ہے جب ہمارے پاس کوئی ایسا نہیں ہوتا جو ہمیں سنے، کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے ہم اپنے دل کا حال بیان کر سکیں، اسے بتا سکیں کہ ہم کیا محسوس کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی انسان ہجوم میں بھی تنہا ہوتا ہے اور یہی تنہائی اسے اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے۔
بظاہر یہ خاموش ہوتی ہے مگر اس کا شور انسان کے اندر گونجتا رہتا ہے۔ اس کی بے آواز چیخیں دل کو بے چین کر دیتی ہیں۔
اکثر میرے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔ جب میں خود کو اس دنیا میں سب سے زیادہ تنہا محسوس کرتی ہوں، تو میرے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے:
کیا اس وقت کوئی ہے جس کے سامنے میں اپنا دل کھول سکوں؟ اور پھر دل خود ہی جواب دیتا ہے:
“نہیں… کوئی نہیں!”
مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ایک ذات ایسی ہے جو ہمیشہ موجود ہے۔
وہ ذات جو ہمیں ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
“اور ہم انسان کو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔”
(سورۃ ق، آیت 16)
وہی رب جو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرنے والا ہے۔
وہی جو دلوں کے حال جانتا ہے، ان کہی باتیں بھی سنتا ہے۔
“اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں، تو (کہہ دو) میں قریب ہوں، میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔”
(سورۃ البقرہ، آیت 186)
یہ سوچ کر دل کو ایک عجیب سا سکون ملتا ہے—ایسا سکون جو شاید کسی اور چیز میں ممکن نہیں۔
اللہ اکبر!
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی تنہائیوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی یاد سے آباد کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس دنیا میں ایک ہی ذات ہے جس کے سامنے ہم اپنا اصل چہرہ لے کر جا سکتے ہیں بغیر کسی دکھاوے کے، بغیر کسی خوف کے۔ اپنے رب کو اپنی تنہائیوں کا ساتھی بنائیں۔
اسے بتائیں کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔
اپنے دل کی بے چینی، اپنی اداسی، اپنی خاموشی سب اس کے حوالے کر دیں۔
کیونکہ وہی سننے والا ہے۔
وہی سمجھنے والا ہے۔
اور وہی دلوں کو سکون دینے والا ہے۔
“خبردار! دلوں کا اطمینان تو اللہ کے ذکر ہی میں ہے۔”
(سورۃ الرعد، آیت 28)
Latest Posts
