کونسلنگ: والدین بہترین کونسلر

ندیم یعقوب گوہر
کائنات کا یہ دستور رہا ہے کہ جب بھی انسان کسی الجھن کا شکار ہوا، اسے کسی نہ کسی راہبر کی ضرورت پڑی۔ زندگی کے پرپیچ راستوں پر چلتے ہوئے بعض اوقات دھند اتنی گہری ہو جاتی ہے کہ اپنا ہاتھ بھی سجھائی نہیں دیتا، ایسے میں کونسلنگ یا رہنمائی وہ روشنی ہے جو منزل کا پتا بتاتی ہے۔ کونسلنگ درحقیقت صرف مشورہ دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا فن ہے جس میں کسی فرد کی ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی کیفیت کو سمجھتے ہوئے اسے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ اپنے مسائل کا ادراک کر سکے اور خود اپنے حالات کا بہترین جج بن کر درست فیصلے کر سکے۔ آج کے اس تیز رفتار دور میں جہاں ہر طرف انفارمیشن کا سیلاب ہے اور کامیابی کے پیمانے بدل چکے ہیں، وہاں کونسلنگ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید کونسلنگ کسی کلینک یا کسی ماہر نفسیات کے دفتر کا نام ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کونسلنگ کا پہلا اور سب سے مضبوط مرکز ہمارا اپنا گھر ہوتا ہے۔ ایک گھرانہ اپنی جگہ ایک مکمل ادارہ ہے اور اس ادارے کے سربراہ یعنی والدین دنیا کے وہ واحد کونسلر ہیں جن کی خدمات کسی معاوضے یا ڈگری کی محتاج نہیں ہوتیں۔
والدین اور اولاد کا رشتہ زمین اور پودے جیسا ہے، جیسے زمین کو پتا ہوتا ہے کہ پودے کو کب پانی چاہیے اور کب کھاد، بالکل اسی طرح والدین اپنی اولاد کی فطرت کے ان گوشوں سے واقف ہوتے ہیں جن تک دنیا کا کوئی دوسرا ماہر نہیں پہنچ سکتا۔ کونسلنگ کا بنیادی اصول “سننا اور سمجھنا” ہے اور یہ صفت قدرت نے ماں باپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ایک پیشہ ور کونسلر آپ کو سننے کے لیے گھڑی کی سوئیوں کا پابند ہوتا ہے، لیکن والدین کی کونسلنگ چوبیس گھنٹے کی دستیابی پر محیط ہوتی ہے۔ وہ بچے کی خاموشی، اس کے لہجے کی تھکاوٹ اور اس کی آنکھوں میں چھپی پریشانی کو اس وقت بھانپ لیتے ہیں جب بچہ خود بھی اپنی کیفیت سے بے خبر ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک المیہ یہ جڑ پکڑ چکا ہے کہ ہم نے کونسلنگ کو صرف تعلیمی یا کیریئر کے مشوروں تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ کونسلنگ کا اصل مقصد شخصیت کی تعمیر اور ذہنی استحکام فراہم کرنا ہے۔ جب ایک باپ اپنے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے یہ کہتا ہے کہ “گھبراؤ نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں”، تو یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ کونسلنگ کی وہ بلند ترین سطح ہے جو انسان کے اندر اعتماد کا ہمالیہ کھڑا کر دیتی ہے۔
آج کی نئی نسل ایک عجیب و غریب کشمکش کا شکار ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی کا بوجھ ہے اور دوسری طرف معاشرتی توقعات کا دباؤ۔ ایسے میں والدین کا کردار ایک ڈھال جیسا ہونا چاہیے۔ بہترین کونسلر والدین وہ ہیں جو اپنے بچوں پر اپنی ادھوری خواہشات کا بوجھ نہیں ڈالتے، بلکہ ان کی اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ کونسلنگ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ بچے کو بتائیں کہ اسے کیا کرنا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اسے اس قابل بنائیں کہ وہ خود جان سکے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ جب والدین حکم دینے کے بجائے مشورہ دینے لگتے ہیں، تو کونسلنگ کا عمل شروع ہوتا ہے۔ حکم میں ایک حاکمیت ہوتی ہے جو بچے کے اندر مزاحمت پیدا کرتی ہے، جبکہ کونسلنگ میں ایک ایسی ہمدردی ہوتی ہے جو بچے کے دل کے دروازے کھول دیتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بچہ ایک الگ کائنات ہے، اس کی صلاحیتیں، اس کے خوف اور اس کے خواب دوسروں سے مختلف ہیں۔ ایک اچھا کونسلر والدین کبھی بھی اپنے بچے کا موازنہ دوسرے بچوں سے نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ موازنہ کونسلنگ کی روح کو قتل کر دیتا ہے۔
بدقسمتی سے، آج کے دور میں والدین اور بچوں کے درمیان ایک بہت بڑا خلیج یا “کمیونیکیشن گیپ” پیدا ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے جہاں دور بیٹھے لوگوں کو قریب کیا ہے، وہیں ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والوں کے درمیان دیواریں کھڑی کر دی ہیں۔ بچے اب اپنے مسائل کے حل کے لیے گوگل یا یوٹیوب کا رخ کرتے ہیں، جہاں معلومات تو ڈھیروں ملتی ہیں لیکن وہ “حکمت” نہیں ملتی جو صرف زندگی کے تجربے سے آتی ہے۔ والدین کے پاس جو سب سے بڑا سرمایہ ہے، وہ ان کا تجربہ ہے۔ انہوں نے زندگی کی دھوپ چھاؤں دیکھی ہوتی ہے، انہوں نے زمانے کے سرد و گرم چکھے ہوتے ہیں۔ بزرگوں کا تجربہ کوئی پرانی کہانی نہیں بلکہ وہ نقشہ ہے جو نئی نسل کو ٹھوکریں کھانے سے بچا سکتا ہے۔ جب ایک تجربہ کار باپ اپنے بچے کو زندگی کے کسی موڑ پر رہنمائی فراہم کرتا ہے، تو وہ اسے ان غلطیوں سے بچا لیتا ہے جو شاید اس کا قیمتی وقت اور سرمایہ ضائع کر سکتی تھیں۔ لیکن یہاں ایک باریک نکتہ یہ بھی ہے کہ کونسلنگ کے لیے والدین کو جدید دور کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ اگر ہم وہی پرانے فارمولے آج کے بچوں پر تھوپیں گے، تو شاید وہ ہمیں “آؤٹ ڈیٹڈ” سمجھ کر رد کر دیں۔ ایک کامیاب کونسلر والدین وہ ہیں جو اپنی حکمت کو آج کی زبان میں پیش کرنا جانتے ہوں۔
کونسلنگ کا ایک اہم پہلو “جذباتی کیتھارسس” یعنی دل کا بوجھ ہلکا کرنا ہے۔ ہماری نسلِ نو اکثر اس لیے ذہنی دباؤ کا شکار رہتی ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا ہمدرد نہیں ہوتا جو بغیر کسی “ججمنٹ” یا تنقید کے ان کی بات سن سکے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر میں ایسا ماحول پیدا کریں جہاں بچہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے ڈرے نہیں۔ اگر بچہ کوئی غلطی کر کے آئے اور اسے یہ یقین ہو کہ میرے والدین مجھے ڈانٹنے کے بجائے میری بات سنیں گے اور مجھے اس دلدل سے نکالیں گے، تو وہ کبھی بھی باہر کے غلط سہارے نہیں ڈھونڈے گا۔ یہی کونسلنگ کا اصل نچوڑ ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مشورہ دینا آسان ہے، لیکن کونسلنگ کرنا مشکل، کیونکہ اس میں آپ کو اپنے انا کو پیچھے رکھ کر دوسرے کے جوتے میں پاؤں ڈال کر سوچنا پڑتا ہے۔
والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ بچے کے صرف نگہبان نہیں بلکہ اس کے “مینٹور” بھی ہیں۔ بچپن سے لے کر جوانی تک، ہر مرحلے پر کونسلنگ کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔ بچپن میں یہ کونسلنگ اخلاقیات اور عادات کی شکل میں ہوتی ہے، لڑکپن میں یہ جذباتی تبدیلیوں کو سنبھالنے کا نام ہے اور جوانی میں یہ کیریئر اور زندگی کے بڑے فیصلوں میں معاونت بن جاتی ہے۔ اگر والدین شروع سے ہی کونسلنگ کے اس فطری عمل کو اپنائیں، تو معاشرے میں پیدا ہونے والے بہت سے نفسیاتی اور سماجی مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں مکالمے کی روایت کو زندہ کریں۔ دسترخوان پر بیٹھ کر صرف کھانا نہ کھایا جائے بلکہ ایک دوسرے کے دل کا حال بھی پوچھا جائے۔ والدین کا اپنے بچوں کو وقت دینا، ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو سراہنا اور ان کی ناکامیوں پر ان کا حوصلہ بڑھانا ہی وہ بہترین کونسلنگ ہے جو کسی بھی ڈگری یافتہ ماہر سے زیادہ مؤثر ہے۔
آخر میں، میں یہ کہوں گا کہ کونسلنگ ایک ایسا سفر ہے جس میں والدین اور اولاد ایک دوسرے کے ہم سفر ہوتے ہیں۔ والدین کا تجربہ اور بچوں کی توانائی جب ایک سمت میں ملتی ہے، تو کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ کونسلنگ کے اس بنیادی اصول کو کبھی نہ بھولیں کہ ان کا کام حکم چلانا نہیں بلکہ راستہ دکھانا ہے۔ وہ شجرِ سایہ دار بنیں جس کی چھاؤں میں بچہ سکون محسوس کرے اور زندگی کے کٹھن فیصلوں میں ان کی طرف دیکھے۔ اگر ہم اپنے بچوں کے بہترین کونسلر بن جائیں، تو ہمیں کبھی یہ شکایت نہیں ہوگی کہ نسلِ نو گمراہ ہو رہی ہے یا وہ ہماری قدر نہیں کرتی، کیونکہ قدر ہمیشہ ان کی کی جاتی ہے جو دلوں کو جیتنا جانتے ہیں، دماغوں پر قبضہ کرنا نہیں۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow