یکم مئی کا شور تھم گیا!

تحریر: محمد اختر انجم، ڈیرہ غازی خان
پسینہ بیچ کر اپنا وہ روٹی لے کے آتا ہے
اسی کی دھوپ سے دیکھو یہاں سب سائباں ٹھہرے
ہوئے ہیں چُپ سبھی اب نعرے، گیا جب یومِ مئی اختر
وہی فاقے، وہی حسرت، وہی اب امتحاں ٹھہرے
ہر سال یکم مئی کو فضا نعروں سے گونجتی ہے، ایوانوں میں تقریریں ہوتی ہیں، سوشل میڈیا پر مزدور کی عظمت کے مینار کھڑے کیے جاتے ہیں، اور مجھ سے قلمکار بھی مزدور کی شان میں الفاظ کے گلدستے سجا دیتے ہیں۔ مگر کیا کبھی ہم میں سےکسی نے اس کے کھردرے ہاتھوں کو چھو کر اس کی خاموش بے بسی کو محسوس کیا ہے؟
ہم لفظوں سے تصویریں بناتے ہیں تاکہ ہمارا قلم زندہ رہے۔ ہم جذبات کے رنگ بکھیرتے ہیں اور محنت کش کے ہاتھوں پر انہیں نچھاور کر دیتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی مئی کی دوسری صبح طلوع ہوتی ہے، یہ تمام جوش و خروش دھند کی طرح تحلیل ہو جاتا ہے۔ نعروں کی گونج ختم، سوشل میڈیا کے سٹیٹس بدل چکے، اور یومِ مئی کی ہمدردیاں فائلوں اور اخبارات کی گرد میں دب جاتی ہیں، جیسے وہ کبھی تھیں ہی نہیں۔
آج جب دنیا “رسمِ مئی” ادا کر کے اپنے معمولات میں کھو چکی ہے، تو سوال یہ ہے کہ کیا صرف کاغذی خراجِ تحسین کافی ہے؟ کیا لفظوں کی رونق سے کسی کی زندگی بدل سکتی ہے؟
مزدور کوئی محض فرد نہیں بلکہ وہ خاموش معمار ہے جو دوسروں کے خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے اپنے خواب قربان کر دیتا ہے۔ وہ اینٹ اٹھاتا ہے تو عمارتیں جنم لیتی ہیں، وہ پسینہ بہاتا ہے تو شہر آباد ہوتے ہیں، اور وہ اپنی تھکن کو نظر انداز کر کے اس لیے کام جاری رکھتا ہے کہ اس کی مشقت کسی اور کے سکون کا باعث بنتی ہے۔ مگر اس سب کے بدلے اسے اکثر صرف علامتی خراج اور وقتی تعریف ہی نصیب ہوتی ہے۔
ہم مزدور کی عظمت کا اعتراف تو کرتے ہیں مگر اس کے مسائل سے آنکھیں چرا لیتے ہیں۔ ہم ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر، موبائل کی سکرینوں پر اس دھوپ کے مسافر کا ذکر کرتے ہیں، لیکن جب وہی محنت کش اپنے حق یا بہتر اجرت کا مطالبہ کرتا ہے تو ہمارے لہجے بدل جاتے ہیں۔ ہم نے اس کی محنت کو ترقی کی بنیاد ضرور کہا، مگر کبھی اس بنیاد کے نیچے دبے ہوئے انسان کی سانس کی تکلیف کو محسوس نہیں کیا۔
کیا پورا نظام صرف ایک فرد کے کندھوں پر ہے؟ شاید نہیں۔ لیکن کیا ہر فرد اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتا ہے؟ یہ سوال ہم سب کے لیے آئینہ ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے اردگرد جھانک کر دیکھتے ہیں کہ ایک دیہاڑی دار آج کس حال میں ہے؟ اور کتنے ہیں جو اپنے اردگرد موجود محنت کش کے حالات بہتر بنانے میں عملی کردار ادا کرتے ہیں؟
اگر ہم واقعی مزدور کی قدر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں لفظوں کی دنیا سے نکل کر عمل کی زمین پر آنا ہوگا۔ تحریر آسان ہے، مگر کسی کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا اصل امتحان ہے۔ منصفانہ اجرت، عزت اور بنیادی سہولتیں کوئی احسان نہیں بلکہ اس کا وہ حق ہیں جو اس کی محنت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
آج شور تھم چکا ہے، اور نعرے لگانے والے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو چکے ہیں۔ مگر مزدور آج بھی اسی تپتی سڑک پر کھڑا رزق کی تلاش میں ہے اور آج بھی اس کے گھر کا چولھا ٹھنڈا پڑا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف الفاظ کے تماشائی رہیں گے یا اس خاموش معمار کے ساتھ عملی طور پر کھڑے بھی ہوں گے۔ کیونکہ اگر محنت کی حقیقی قدر نہ کی گئی تو ترقی صرف ایک کھوکھلا دعویٰ بن کر رہ جائے گی۔
مزدور کا احترام کسی ایک دن کا محتاج نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ اور حساس معاشرے کی پہچان ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow