
شاعر ۔۔۔۔ذوالفقار ہمدم اعوان
ہر تعلق میں محبت کی کمی لگنے لگی
دل کی دنیا میں محبت بے بسی لگنے لگی
سوئے منزل دشت میں جب کھو دیا ہے راستہ
عشق میں پھر جان لیوا عاشقی لگنے لگی
تیری آنکھوں کی چمک جب سے ہوئی ہے اجنبی
زندگی کی ہر خوشی پھر اجنبی لگنے لگی
پھول کھلتے تھے کبھی جن راستوں کی خاک میں
بن ترے ہر رہگزر اب ماتمی لگنے لگی
تیری یادوں کی مہک جب رات میں پھیلی ذرا
کس قدر مانوس دل کو چاندنی لگنے لگی
بات کرتے کرتے مجھ سے کھوئے جاتے ہیں کہیں
جان لیوا مہرباں کی بے رخی لگنے لگی
زندگی پہلے جو لگتی تھی حسیں ہر موڑ پر
سیج کانٹوں کی تمہارے بعد ہی لگنے لگی
تیری قربت میں زمانے کی نہ تھی کوئی خبر
تیری فرقت اب قیامت کی گھڑی لگنے لگی
دل کے آنگن میں کبھی برسا تھا بادل چاہ کا
اب وہی برسات مجھ کو زہر سی لگنے لگی
بن تمہارے زندگی کے رنگ ہیں پھیکے پڑے
درد میں ڈوبی ہوئی ہر دل کشی لگنے لگی
قربتوں کے سال جیسے آنکھ جھپکی کٹ گئے
فرقتوں کی اک گھڑی مجھ کو صدی لگنے لگی
عشق کیسے موڑ پر ہمدم جی لایا ہے ہمیں
ہر دعا بھی آنکھ کو جیسے نمی لگنے لگی
Latest Posts
