تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
پنجاب ترقی کی شاہراہ پر دوڑ رہا ہے. اور پختونخوا آج بھی بنیادی سہولیات کے بوجھ تلے دبی سانسیں لے رہا ہے۔یہ صرف موازنہ نہیں، یہ ایک تلخ حقیقت ہے. ایک ایسا سوال جو ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ آخر ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیوں؟جب ایک خطہ میٹرو، انڈسٹری اور جدید تعلیم کی طرف بڑھ رہا ہو، اور دوسرا آج بھی بنیادی علاج، صاف پانی اور معیاری اسکول کے لیے ترس رہا ہو، تو مسئلہ صرف حکومتوں کا نہیں رہتا. یہ ہماری اجتماعی سوچ کا عکاس بن جاتا ہے۔پختونخوا کے دور دراز علاقوں میں آج بھی معمولی بیماری جان لیوا بن جاتی ہے۔ ایک مریض کو ڈاکٹر تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں نہیں، دنوں لگ جاتے ہیں۔ ادویات کی کمی، ہسپتالوں کی خستہ حالی اور وسائل کی کمی ایک عام انسان کی زندگی کو مسلسل خطرے میں رکھتی ہے۔تعلیم کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ کہیں عمارت ہے تو استاد نہیں، کہیں استاد ہے تو سہولیات نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے بچے وہ بنیاد ہی حاصل نہیں کر پا رہے جس پر ایک مضبوط مستقبل تعمیر ہوتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان مسائل پر کتنی سنجیدگی سے بات کرتے ہیں؟ہماری محفلیں، ہماری بحثیں، ہمارے موضوعات—کیا واقعی ان مسائل کے گرد گھومتے ہیں؟ہم نے اپنی شناخت کو قبیلوں تک محدود کر دیا ہے.“میں یوسفزئی ہوں، میں مہمند ہوں، میں خٹک ہوں”یہ الفاظ فخر کی علامت ضرور ہیں، مگر جب یہی ہماری سوچ پر حاوی ہو جائیں تو یہ دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں۔ہم ایک قوم کے بجائے چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ ہر شخص اپنی پہچان کو دوسرے سے برتر ثابت کرنے میں لگا ہے، اور اسی کشمکش میں ہم اپنی اجتماعی طاقت کھو بیٹھے ہیں۔
سیاسی وابستگیاں بھی ہمیں جوڑنے کے بجائے توڑ رہی ہیں۔کبھی کوئی عمران خان کے نام پر تقسیم پیدا کرتا ہے، کبھی کوئی باچا خان کے نظریے کو بنیاد بنا کر اختلاف کو ہوا دیتا ہے۔
سیاست جو مسائل کا حل ہونا چاہیے تھی، وہ ہماری انا کا حصہ بن گئی ہے۔ ہم پالیسیوں پر بات نہیں کرتے، ہم شخصیات پر لڑتے ہیں. اور اسی دوران مسائل اپنی جگہ جوں کے توں رہتے ہیں۔
مذہبی میدان میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ کچھ حلقے اپنے آپ کو ہی حق کا واحد علمبردار سمجھتے ہیں، اور باقی سب کو غلط قرار دیتے ہیں۔ یہ سوچ نہ صرف تقسیم کو بڑھاتی ہے بلکہ برداشت کو بھی ختم کرتی ہے۔حالانکہ دین ہمیں اتحاد، صبر اور بھائی چارے کا سبق دیتا ہے۔ مگر ہم نے دین کو بھی اختلاف کا ذریعہ بنا لیا ہے، اور اصل روح کہیں کھو گئی ہے۔ادھر معاشرے میں ایک اور عجیب رجحان پنپ رہا ہے شعرو شاعری کا جنون۔شاعری یقیناً ایک خوبصورت فن ہے، مگر جب یہ حقیقت سے فرار کا ذریعہ بن جائے تو یہ نقصان دہ ہو جاتی ہے۔ ہم محفلوں میں بیٹھ کر اشعار سنتے ہیں، واہ واہ کرتے ہیں، داد دیتے ہیں، مگر جب عملی میدان میں قدم رکھنے کی بات آتی ہے تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ادھر حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔تعلیم پیچھے جا رہی ہے، صحت کا نظام کمزور ہوتا جا رہا ہے، اور نوجوان بے روزگاری کے اندھیروں میں گم ہوتے جا رہے ہیں۔ایک نوجوان جب ڈگری لے کر نکلتا ہے تو اس کے ہاتھ میں امید کم اور پریشانی زیادہ ہوتی ہے۔ نہ نوکری ہے، نہ مواقع بس ایک غیر یقینی مستقبل اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔یہ مایوسی آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے وقتی خوشیوں میں مگن ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومیں نعروں سے نہیں بنتیں.قومیں تب بنتی ہیں جب لوگ اپنے مسائل کو پہچانیں، ان پر بات کریں اور ان کے حل کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔وسائل کی کمی اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے، مگر اصل مسئلہ ان وسائل کا غلط استعمال اور ترجیحات کی خرابی ہے۔ اگر ہم ایمانداری سے اپنی ترجیحات درست کر لیں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں قبیلوں، شخصیات اور بے مقصد بحثوں سے نکل کر ایک مشترکہ مقصد کی طرف بڑھنا ہوگا۔ہمیں اپنے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور مواقع دینے ہوں گے، تاکہ وہ اس ملک کا بوجھ نہیں بلکہ طاقت بن سکیں۔ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم واہ واہ کی محفلوں میں جینا چاہتے ہیں یا حقیقت میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔اگر ہم نے اب بھی خود کو نہ بدلا تو تاریخ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھے گی جو سب کچھ جانتی تھی، مگر کچھ نہ کر سکی۔وقت آ گیا ہے کہ ہم جاگ جائیں، خود کو پہچانیں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں.کیونکہ مستقبل کسی اور نے نہیں، ہمیں خود بنانا ہے۔
Latest Posts
