افسانہ=وہ آدمی جو شہر کو اٹھاتا تھا

افسانہ نگار=ذوالفقار ہمدم اعوان
شہر کی سب سے اونچی عمارت کی بنیاد میں ایک آواز دفن تھی ایسی آواز جو چیخی نہیں تھی مگر پھر بھی سنائی دیتی تھی ان لوگوں کو جو خاموشی کے عادی ہو چکے تھے۔ رفیق بھی انہی میں سے ایک تھا۔ وہ ہر صبح اس آواز کے ساتھ جاگتا حالانکہ اس کی نیند کبھی مکمل نہیں ہوتی تھی۔ نیند اس کے لیے ایک عارضی پناہ گاہ تھی جہاں سے اسے ہر روز بے دخل کر دیا جاتا تھا۔ آج کام مل جائے گا؟ سلمیٰ کی آواز چولہے کی ٹھنڈی راکھ سے نکلی۔ رفیق نے جواب دینے سے پہلے حمزہ کو دیکھا وہ سو نہیں رہا تھا وہ بھوک کو خاموشی سے برداشت کر رہا تھا۔ ہاں شاید رفیق نے کہا۔ یہ شاید اس گھر کا سب سے بڑا سچ تھا۔ چوک پر مزدور قطار میں کھڑے تھے ایسے جیسے انسان نہیں سامان ہوں۔ ٹھیکیدار آیا اس کی آنکھیں جسموں کو تول رہی تھیں روحوں کو نہیں۔ تم تم اور تم۔ رفیق پیچھے رہ گیا۔ وہ مسکرایا یہ وہ مسکراہٹ تھی جو ہار کو چھپانے کے لیے پہنی جاتی ہے۔ اسی دن ایک لڑکی آئی اس کے ہاتھ میں کیمرہ تھا آنکھوں میں سوال۔ میں آپ لوگوں پر لکھنا چاہتی ہوں اس نے کہا۔ رفیق نے ہلکی ہنسی کے ساتھ جواب دیا ہم پر نہیں لکھا جاتا بی بی ہم پر بنایا جاتا ہے۔ کیا؟ شہر۔
کچھ دن بعد اسے کام ملا ایک نئی عمارت کی بنیاد کھودنے کا۔ زمین سخت تھی مگر رفیق اس سے بھی زیادہ ضدی تھا۔ ہر کدال کے وار کے ساتھ وہ کچھ نہ کچھ چھوڑتا جا رہا تھا اپنی طاقت اپنی سانس اور شاید اپنی عمر کا ایک حصہ۔ یار کبھی سوچا ہے ہم کیا بنا رہے ہیں؟ بشیر نے پوچھا۔ رفیق نے جواب دیا ایسے گھر جہاں ہم کبھی نہیں رہیں گے۔ شام کو حمزہ نے پوچھا ابا آج کیا بنایا؟ رفیق رک گیا۔ ایک بڑی عمارت ہم اس میں رہیں گے؟ نہیں بیٹا ہم اس کے سائے میں چلیں گے۔ حادثہ اس دن ہوا جب آسمان بالکل صاف تھا۔ عمارت کی بنیاد بیٹھ گئی۔ چیخیں گرد خاموشی رفیق ملبے تلے دب گیا۔ جب اسے نکالا گیا اس کے ہاتھ اب بھی مٹی سے بھرے تھے جیسے وہ آخری لمحے تک کسی کو بچانے کی کوشش کر رہا ہو۔ ہسپتال کے باہر سلمیٰ کی آنکھیں خشک تھیں۔ حمزہ نے پہلی بار کچھ نہیں پوچھا۔ عائشہ نے کیمرہ بند کر دیا۔ یہ کہانی نہیں ہے اس نے کہا یہ جرم ہے۔
عدالت میں کیس چلا۔ وکیل نے کہا یہ ایک حادثہ ہے۔ عائشہ کھڑی ہوئی حادثے وہ ہوتے ہیں جن کی کوئی وجہ نہ ہو یہ غفلت ہے یہ استحصال ہے۔ رفیق گواہی کے لیے کھڑا ہوا۔ ہم بنیادیں کھودتے ہیں مگر ہماری زندگی کی بنیاد ہمیشہ کمزور رہتی ہے کمرہ خاموش ہو گیا۔ میڈیا نے خبر اٹھائی۔ یہ صرف ایک مزدور نہیں یہ ایک نظام کا سوال ہے۔ شہر میں احتجاج شروع ہو گیا۔ انصاف زندگی حق ٹھیکیدار نے کہا پیسے لے لو معاملہ ختم کرو۔ رفیق نے جواب دیا ہم خاموشی بیچنے نہیں آئے۔ فیصلہ آیا غفلت ثابت ہوئی۔ یہ مکمل انصاف نہیں تھا مگر خاموشی ٹوٹ گئی تھی۔ سال گزر گئے۔ حمزہ بڑا ہو گیا۔ وہ اسی عمارت کے سامنے کھڑا تھا جو اس کے باپ نے بنائی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا ایک درخواست نہیں ایک اعلان۔
اسی دن شہر کی سب سے اونچی عمارت میں ایک تقریب تھی۔ ترقی کا جشن بڑے لوگ روشنیاں تالیاں حمزہ اندر داخل ہوا۔ کوئی اسے نہیں پہچانتا تھا۔ اس نے مائیک پکڑا۔ یہ عمارت کس نے بنائی؟ خاموشی۔ کیا آپ میں سے کسی نے اس کا نام سنا ہے؟ کوئی جواب نہیں۔ اس نے کاغذ پھاڑ دیا۔ میرا باپ رفیق اس کی بنیاد میں دفن ہے اور صرف وہ نہیں ہزاروں اور بھی ہیں۔ کمرہ ساکت ہو گیا۔ اچانک زمین ہلنے لگی لوگ گھبرا گئے۔ عمارت کی دیواروں میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ یہ زلزلہ نہیں تھا۔ یہ وہ بنیاد تھی جو برسوں سے سچ کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھی اور اب وہ جواب دے رہی تھی۔ لوگ بھاگنے لگے۔ چیخیں شور خوف حمزہ کھڑا رہا اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے صرف ایک عجیب سا سکون تھا۔ عمارت کا ایک حصہ گر گیا مگر پوری عمارت نہیں گری کیونکہ ہر چیز کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا کچھ چیزیں صرف بے نقاب ہوتی ہیں۔
اگلے دن اخبار میں خبر تھی تقریب کے دوران عمارت کو نقصان کوئی جانی نقصان نہیں۔ کوئی نام نہیں۔ مگر اس بار ایک ویڈیو وائرل ہو چکی تھی۔ حمزہ کی آواز دنیا بھر میں سنی جا رہی تھی۔ چند ماہ بعد بین الاقوامی سطح پر ایک تحریک اٹھی بلڈ ود ڈیگنٹی مزدوروں کے حقوق محفوظ تعمیرات انسانی وقار یہ سب اب صرف نعرے نہیں تھے قوانین بن رہے تھے۔ حمزہ ایک دن اسی جگہ کھڑا تھا۔ زمین خاموش تھی۔ مگر اس نے آہستہ سے کہا ابا میں نے آج کچھ بنایا ہے ایک آواز جو اب دفن نہیں ہوگی۔ اور کہیں زمین کے نیچے وہ پرانی آواز جو کبھی بنیاد میں دفن تھی اب گونج نہیں رہی تھی وہ آزاد ہو چکی تھی۔ کیونکہ کچھ لوگ شہر نہیں بناتے وہ شہر کو ضمیر دیتے ہیں اور جب ضمیر جاگ جائے تو عمارتیں نہیں نظام ہلتے ہیں۔ اختتام عمارت نہیں گری مگر اس کی بنیاد سچ برداشت نہ کر سکی اور شاید یہی سب سے بڑا زلزلہ تھا۔

عنوان: گرمی…سورج کی شدت یا زندگی کا امتحان؟
بقلم: ایمان جاوید اقبال
گرمی محض موسم کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا احساس ہے جو انسان کے صبر، برداشت اور طرزِ زندگی کو آزماتا ہے۔ جون جولائی کی تپتی دوپہریں، جلتا ہوا سورج اور گرم ہوا کے تھپیڑے۔۔۔یہ سب مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جس میں سانس لینا بھی کسی مشقت سے کم نہیں لگتا۔
ہمارے خطے میں گرمی صرف درجۂ حرارت تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ ایک مکمل تجربہ بن جاتی ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت، اور شہروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی اس موسم کو مزید اذیت ناک بنا دیتی ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے گرمی صرف پسینہ بہانے کا نام نہیں، بلکہ روزمرہ کی جدوجہد کا ایک اور باب ہے۔
گرمی کا سب سے زیادہ اثر غریب طبقے پر پڑتا ہے۔ وہ لوگ جو کھلے آسمان تلے مزدوری کرتے ہیں، جن کے پاس نہ ٹھنڈی چھت ہے نہ ہوا کا مناسب انتظام،ان کے لیے یہ موسم کسی عذاب سے کم نہیں۔ ایک مزدور جو دن بھر دھوپ میں کام کرتا ہے، اس کے لیے سورج کی تپش صرف جسمانی نہیں بلکہ معاشی درد بھی بن جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے خود بھی اس گرمی کو بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی، کنکریٹ کے جنگلات، اور ماحول کی مسلسل تباہی نے موسموں کے توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ جو گرمی کبھی برداشت کے قابل تھی، اب شدت اختیار کر چکی ہے۔ گویا ہم خود اپنے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، اور پھر انہی پر شکوہ بھی کرتے ہیں۔
گرمی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ قدرت کے نظام کو چھیڑنا کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والے وقتوں میں یہ موسم اور بھی سخت ہو جائے گا۔ ہمیں درخت لگانے ہوں گے، پانی کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا، اور ماحول کو بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ، گرمی صبر کا بھی امتحان ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل حالات میں خود کو کیسے سنبھالا جائے، اور دوسروں کے لیے آسانیاں کیسے پیدا کی جائیں۔ ایک گلاس ٹھنڈا پانی کسی پیاسے کو دینا، یا کسی کو سایہ فراہم کرنا،یہ چھوٹے چھوٹے عمل بھی اس سخت موسم میں بڑی نیکی بن جاتے ہیں۔
گرمی صرف ایک موسم نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہماری غلطیوں، ہماری کمزوریوں اور ہماری ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ اگر ہم نے اس آئینے میں خود کو پہچان لیا، تو شاید ہم آنے والے کل کو بہتر بنا سکیں۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow