از قلم رائے ظہیر حسین کھرل۔
اس کائنات کے وسیع و عریض کینوس پر انسان کی حیثیت ایک ایسے مسافر کی ہے جو صدیوں سے شعور کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس سفر میں اکثر مسافروں کو گروہ بندی، رسم و رواج کی زنجیروں اور اندھی تقلید کے آہنی شکنجوں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ ایسے میں جب کوئی روح ان زنجیروں کی جھنکار کو موسیقی سمجھنے سے انکار کر دے اور فرسودہ نظام کے بتوں کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سر اٹھا کر جینے کا فیصلہ کرے، تو دنیا اسے ‘باغی’ کا لقب دیتی ہے۔
جی ہاں، اگر سچائی کی تلاش، ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا اور ظلمت کے خلاف چراغ بننا بغاوت ہے، تو ہاں، میں باغی ہوں!
میری بغاوت کسی ذاتی مفاد یا انارکی کے لیے نہیں، بلکہ اس نظام کے خلاف ہے جو انسان کو محض ایک مشینی پرزہ بنا کر رکھ دیتا ہے۔ میں اس سوچ کا باغی ہوں جو مصلحت کو حکمت کا نام دیتی ہے اور بزدلی کو شرافت کا لبادہ اڑھاتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں سوال کرنا گناہ اور خاموشی کو عبادت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں ذہنوں پر تالے اور زبانوں پر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی اپنے فکر و نظر کے دریچے کھولتا ہے، تو اسے آوارہ گرد یا فتنہ پرور قرار دیا جاتا ہے۔
بغاوت دراصل ایک تخلیقی عمل ہے۔ یہ اس جرات کا نام ہے جو انسان کو ہجوم سے الگ کر کے اپنی انفرادیت کا احساس دلاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دنیا میں کوئی بڑی تبدیلی آئی، اس کا پیش خیمہ کوئی نہ کوئی باغی ہی رہا۔ وہ باغی جس نے اپنے عہد کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر “نہیں” کہنے کا حوصلہ کیا۔
میری بغاوت ان رسموں سے ہے جو محبت کی راہ میں دیوار بنتی ہیں، ان ضابطوں سے ہے جو غریب کے پسینے کی خوشبو کو نوٹوں کی کھنک میں بدل دیتے ہیں، اور اس تعصب سے ہے جو رنگ، نسل اور طبقے کی بنیاد پر انسانوں کو تقسیم کرتا ہے۔ میں اس علم کا بھی باغی ہوں جو صرف سندوں کے حصول تک محدود ہے اور جس میں بصیرت کا فقدان ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ جھک جاؤ کہ ہوا کا رخ یہی ہے، لیکن میں ان تند و تیز ہواؤں کا رخ موڑنے کا عزم رکھتا ہوں۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ زندہ رہنا اور محض سانس لینا دو الگ باتیں ہیں۔ جو لوگ حالات کے دھارے پر بہہ جاتے ہیں، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں گم ہو جاتے ہیں، لیکن جو لہروں سے ٹکراتے ہیں، وہی ساحلِ مراد تک پہنچتے ہیں۔
یہ بغاوت دراصل خود شناسی کا ایک سفر ہے۔ جب تک انسان اپنے اندر کے خوف کو شکست نہیں دیتا، وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔ آزاد پنچھی بننے کے لیے پنجرے کی تیلیوں کو توڑنا ضروری نہیں، بلکہ اڑنے کی خواہش کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔ میں نے اپنی اس بغاوت کے ذریعے اپنے اندر کے خوف کو مار دیا ہے۔ اب مجھے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا ڈر ہے اور نہ ہی تنہائی کا خوف۔
شہرِ خاموشاں میں چیخنا شاید دیوانگی لگے، لیکن خاموشی کی اس دبیز چادر کو پھاڑنے کے لیے ایک آواز تو بلند کرنی ہی ہوگی۔ اگر میری یہ تحریر، میری یہ سوچ اور میرا یہ اندازِ زندگی کسی ایک سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کر سکے، تو میں سمجھوں گا کہ میری بغاوت رنگ لے آئی ہے۔
ہاں، میں باغی ہوں—کیونکہ میں انسان ہوں، اور انسان ہونا ہی اس کائنات کی سب سے بڑی بغاوت ہے!
Latest Posts
