تحریر: اظہر سجاد
امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردی، اِیرانیوں کی بڑی تعداد میں شہادتوں اور بے مثال عزم و حوصلے نے سر زمین فارس کو پوری دنیا کا مرکز نگاہ بنا دیا ہے۔ میڈیا کے دور میں دُنیا ایرانی ثقافت، زبان و ادب، آرٹ اور فن کو تجسُس اور دلچسپی سے دیکھ رہی ہے ۔ اِیران پر ٹوٹنے والی اس قیامت صغریٰ میں اِیرانی کلچر، زبان و ادب اور تاریخ کھوجتے ہوئے مجھے بھی اِیران کے “سحر” ٹی وی پر 2016ء میں اردو ڈبنگ کے ساتھ پیش کیا جانے والا ایک ڈراما “حلقہ سبز” یاد آ گیا۔ جس کی پہلی ہی قسط نے ہمیں اپنے حصار میں جکڑ لیا تھا۔
چوں کہ روشن خیالی کے نعرے لگانے اور روایتی ڈراموں سے اُکتانے کے باوجود ہم اب بھی مغربی فکر و نظر کے حامل ڈرامے فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ یہ مسئلہ صرف زُبان و ثقافت اور لباس کی بے باکی کی وجہ سے ہی نہیں ہے بلکہ اُن ڈراموں کے موضوعات اور کہانیاں بھی ہمارے لیے اجنبی اور ناقابل قبول ہوتی ہیں۔ ایسے میں ایک ایسا ڈراما جو منفرد ، دلچسپ اور خُرافات سے پاک بھی ہو، یقیناً غنیمت ہے۔
دراصل یہ ڈراما ایک ایسے منفرد تخیل کو موضوع بناتا ہے جسے ہند و پاک اور دیگر ایشیائی ممالک میں شاید ہی کسی نے فلم یا ڈرامے میں برتا ہو۔ البتہ ہو سکتا ہے کہ مغربی ممالک نے اس کو بولڈ انداز میں فلمایا ہو۔ تاہم ایشیائی ممالک بالعموم اور مسلم ممالک بالخصوص اس طرح کے موضوعات کو فلمانے سے کتراتے ہیں۔ مگر ایرانیوں نے اس منفرد موضوع کو مذہبی ، اخلاقی اور سماجی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے جس مہارت سے ڈرامے کا روپ دیا ہے وہ کمال ہے۔
“حلقہِ سبز” ایک دیہاتی انٹرن لیڈی ڈاکٹر روز بہانی گلبہار (سیما تیر انداز) اور ایک برین ڈیڈ (ذہنی طور پر مردہ) نوجوان حسن (حمید فرخ نژاد) کی محبت کی کہانی ہے۔ دل کی پیوند کاری کے ہسپتال میں ایک معذور نوجوان حسن کو لایا جاتا ہے جسے کسی نے پُل سے دھکا دے دیا تھا۔ ہسپتال میں حسن کی روح صرف انٹرن لیڈی ڈاکٹر روز بہانی گلبہار کو نظر آتی ہے۔ پہلے وہ ڈرتی ہے، لوگوں کو بتانے کی کوشش بھی کرتی ہے، مگر کوئی اس کی باتوں پہ یقین نہیں کرتا۔ حسن کا دل تندرست ہے اور اس کا دل کسی دوسرے مریض کو ٹرانسپلانٹ کیا جانا ہوتا ہے۔ جب بھی ڈاکٹرز، حسن کا دل کسی اور کو لگانے کے لیے آپریشن تھیٹر لے کر جاتے ہیں، تو کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہوجاتا ہے کہ دل کی پیوند کاری ملتوی کرنا پڑتی ہے۔ حسن کی روح بھی گلبہار سے یہ اظہار کرتی ہے کہ وہ اِس پیوند کاری کے لیے تیار نہیں، کیوں کہ یہ اُس کا دل ہے لہذٰا وہ اپنا دل اپنی پسند کے (دل کی پیوند کاری کے منتظر ) شخص کو دینا چاہے گا۔ اِس دوران گلبہار اور حسن کی روح ایک دوسرے کے بہت قریب آ جاتے ہیں۔ گلبہار حسن کو اپنے ساتھ دل کی پیوند کاری کے منتظر اُن افراد سے ملوا نے سفر پر لے جاتی ہے، جن کے نام ہسپتال کی فہرست میں سب سے اُوپر تھے۔ اِس سفر کے دوران ایک معصوم لڑکی کی پاکیزہ الفت پروان چڑھتی ہے اور محبت میں سرشار ایک روح اپنا جسمانی اور روحانی سفر مکمل کرتی ہے۔اِس سفر کے دوران روحانی بیداری، حقیقی محبت اور ہمدردی، جسمانی حدود سے بالاتر ہوتی نظر آتی ہے ۔ سفر کے اختتام پر مادی دُنیا اور موت کے بعد کی زندگی کے درمیان کا فرق ختم ہوتا محسوس ہوتا ہے۔
“حلقہِ سبز” سائنس اور روحانیت کے درمیان کی کشمکش کو خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس ڈرامے میں روح ایک خوفناک بھوت کے بجا ئے ایک اُلجھی ہوئی حساس شیے نظر آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اعضاء کی پیوند کاری اور عطیہ کرنے کی اخلاقیات سے متعلق اخلاقی، جذباتی اور مذہبی معاملات کو بڑی مہارت سے پیش کیا گیا ہے۔ “حلقہِ سبز” میں عطیہ کرنے والے اور انتخاب کرنے والے ضرورت مندوں کی ذہنی اور معاشی کشمکش کو بھی سامنے لایا گیا ہے۔
ڈرامے کے ہدایت کار اور مصنف ” ابرہیم حاتمی ” کیا ہیں۔ جبکہ سحر انگیز موسیقی ” کارن ہمایونفر ” نے ترتیب دی ہے ۔ جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ فلم بندی کا انتہائی اعلٰی معیار ہے۔ کیمرہ مین “فیروز عبدلی ” نے انتہائی مہارت سے مناظر فلم بند کیے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو “حلقہ سبز” ایک علامتی اور بہت گہرے معنی رکھنے والا عنوان ہے۔ اس کے علاوہ کہانی، مکالمے اور موسیقی اس قدر لاجواب ہیں کہ بے اختیار واہ واہ کہنے کو جی چاہتا ہے۔تمام اداکاروں کی کارکردگی بھی لاجواب ہے۔ غلام ( محمد حاتمی ) ، ڈاکٹر محتشم (محمد علی ساربان) اور سارہ (نسیم آدبی) نے اپنے کرداروں کے ساتھ بھرپور انصاف کیا ہے۔ مگر انٹرن لیڈی ڈاکٹر روز بہانی گلبہارکا کردار ادا کرنے والی اداکارہ سیما تیر انداز کی اداکاری شاندار ہے۔ سب سے بڑھ کر ہدایت کار ابراہیم حاتمی کیا ، بے پناہ داد کے مستحق ہیں جنھوں نے علامتی انداز اپنا کر کہانی کو بڑی مہارت اور خوبصورتی سے آگے بڑھایا۔ ہدایت کار نے شروع سے آخر تک ڈرامے پر اپنی گرفت مضبوط رکھی اور “حلقہ سبز” جیسا ناقابل فراموش ڈراما تخلیق کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ منفرد اور اچھے ڈرامے دیکھنے والوں کو یہ ڈراما ایک دفعہ ضرور دیکھنا چاہیے۔
Latest Posts
