تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ اس کے بینکوں میں محفوظ سونا یا اس کے زیرِ زمین موجود معدنیات نہیں ہوتے، بلکہ وہ نوجوان ہوتے ہیں جن کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب اور ہاتھوں میں تعمیرِ وطن کا تیشہ ہوتا ہے۔ اگر ہم آج اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت ایک لمحہ فکریہ بن کر سامنے آتی ہے کہ ہماری نوجوان نسل موجودہ دور کی تیز رفتار تبدیلیوں، ڈیجیٹل یلغار اور اخلاقی بحرانوں کے دوراہے پر کھڑی ہے۔ بحیثیت قوم ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ نوجوانوں کی فلاح اور ان کی اخلاقی تربیت محض چند خطبات یا نصابی کتابوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر عمل ہے جس میں ریاست، معاشرہ اور خاندان کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اخلاقی تربیت کا پہلا زینہ وہ گھر ہے جہاں بچہ اپنی آنکھیں کھولتا ہے۔ موجودہ دور میں والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ایک خاموش زہر کی طرح ہماری سماجی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہم نے مادی آسائشیں فراہم کرنے کو ہی اپنی کل ذمہ داری سمجھ لیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نوجوان نسل کو سب سے زیادہ ضرورت اس “اعتماد” کی ہے جو انہیں صرف اپنے والدین سے مل سکتا ہے۔ جب تک گھر کی چاردیواری میں مکالمے کی فضا قائم نہیں ہوگی، ہمارے نوجوان باہر کی رنگینیوں اور سوشل میڈیا کے پرفریب جال میں الجھتے رہیں گے۔ ہمیں اپنے بچوں کا دوست بننا ہوگا تاکہ وہ اپنی الجھنیں، اپنے خوف اور اپنے خواب کسی اجنبی سے شیئر کرنے کے بجائے اپنے اپنوں کے سامنے رکھ سکیں۔
دوسرا اہم ترین پہلو ہمارا تعلیمی نظام ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری درسگاہیں ڈگری ہولڈرز تو پیدا کر رہی ہیں لیکن “انسان سازی” کا عمل کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ تعلیم کا مقصد محض روزگار کا حصول نہیں بلکہ ایک ایسی تنقیدی سوچ پیدا کرنا ہے جو حق اور باطل، سچ اور جھوٹ اور مفید و مضر کے درمیان تمیز کر سکے۔ ہمیں اپنے نصاب میں جدید علوم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور انسانی اقدار کو اس طرح شامل کرنا ہوگا کہ طالب علم جب یونیورسٹی سے فارغ ہو تو وہ نہ صرف ایک ماہر ڈاکٹر، انجینئر یا ڈیٹا اینالسٹ ہو، بلکہ ایک ذمہ دار اور ہمدرد انسان بھی ہو۔ نوجوانوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ کامیابی صرف عہدے یا بینک بیلنس کا نام نہیں، بلکہ معاشرے کے لیے سود مند ہونا ہی اصل کامیابی ہے۔
موجودہ دور کی ایک بڑی بیماری “ڈیجیٹل ہیروئن” کی صورت میں سامنے آئی ہے، جس نے ہمارے نوجوانوں کے فکری اور تخلیقی جوہر کو زنگ آلود کر دیا ہے۔ موبائل فون کی سکرین پر گزرنے والے گھنٹے انہیں تنہائی، ڈپریشن اور بے مقصدیت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ بحیثیت قوم ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں اس ڈیجیٹل گرداب سے نکال کر “تخلیقی عمل” کی طرف لے جائیں۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ ٹیکنالوجی وقت ضائع کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی صلاحیتیں منوانے، نیا ہنر سیکھنے اور مثبت پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کا آلہ ہے۔ جب نوجوان کو اپنی ذات کی پہچان ہوگی اور اس کے پاس زندگی کا کوئی واضح مقصد ہوگا، تو وہ کبھی بھی معاشرتی برائیوں کا شکار نہیں ہوگا۔
معاشرتی سطح پر ہمیں ایسے پلیٹ فارمز مہیا کرنے ہوں گے جہاں نوجوان اپنی توانائیوں کا مثبت اظہار کر سکیں۔ کھیلوں کے میدانوں کی ویرانی، لائبریریوں سے دوری اور مشاعروں یا ادبی نشستوں کا ناپید ہونا نوجوانوں کو انتہا پسندی اور منفی سرگرمیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ ادب اور فنونِ لطیفہ انسان کے اندر لطافت اور احساسِ مروت پیدا کرتے ہیں۔ جب ایک نوجوان شاعری، آرٹ یا کسی بھی تخلیقی سرگرمی سے جڑتا ہے تو اس کا ذہن تخریب کے بجائے تعمیر کی طرف مائل ہوتا ہے۔ ہمیں ہر سطح پر ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا جو ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ضروری ہیں۔
معاشی عدم استحکام بھی نوجوانوں میں بے راہ روی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے، تو وہ مایوسی کا شکار ہو کر غلط راستوں کا انتخاب کر لیتا ہے۔ ریاست اور صاحبِ ثروت افراد کو چاہیے کہ وہ ہنر مندی کے ایسے پروگرام شروع کریں جو نوجوانوں کو معاشی طور پر خود مختار بنا سکیں۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق انہیں گرافک ڈیزائننگ، مصنوعی ذہانت اور دیگر فنی علوم کی مفت تربیت دی جائے تاکہ وہ عالمی سطح پر اپنا مقام بنا سکیں اور ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
سب سے بڑھ کر، ہمیں اپنے نوجوانوں کو “رول ماڈل” فراہم کرنے ہوں گے۔ نوجوان نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتا ہے۔ اگر معاشرے کے بڑے، اساتذہ اور لیڈران اپنے عمل سے دیانت، محنت اور اخلاق کا نمونہ پیش نہیں کریں گے تو محض باتوں سے تبدیلی نہیں آئے گی۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں محنت کی قدر ہو، جہاں سفارش کے بجائے میرٹ کا بول بالا ہو اور جہاں سچ بولنا فخر کی علامت سمجھا جائے۔
خلاصہ یہ کہ نوجوانوں کی فلاح و تربیت کسی ایک فرد کا کام نہیں بلکہ یہ ایک قومی مشن ہے۔ ہمیں انہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ اس قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی ذرا سی لغزش پوری قوم کے مستقبل کو تاریک کر سکتی ہے۔ اگر ہم آج ان کی فکری، اخلاقی اور معاشی آبیاری پر توجہ دیں گے، تو کل یہی نوجوان ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار پاکستان کی ضمانت بنیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم لفظوں کے گورکھ دھندے سے نکل کر عملی اقدامات کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل سونپیں۔
Latest Posts
