سٹیرائڈز کا جال: مسلز کے پیچھے چھپی دل کی تباہی

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
جِم جانا بلاشبہ ایک صحت مند عادت ہے، مگر اس کا اصل مقصد اکثر غلط سمجھ لیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جِم جانے کا مقصد صرف مسلز کو بڑا کرنا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اصل مقصد جسم میں مسلز اور چربی کے درمیان متوازن تناسب برقرار رکھنا اور جسمانی قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانا ہوتا ہے، تاکہ انسان ایک صحت مند اور متوازن زندگی گزار سکے۔بدقسمتی سے آج کل فٹنس کے نام پر ایک ایسا رجحان پروان چڑھ رہا ہے جس میں قدرتی صحت کے بجائے ظاہری نمائش کو اہمیت دی جاتی ہے۔ لوگ جلدی نتائج حاصل کرنے کے لیے مختلف مصنوعی ذرائع اختیار کرتے ہیں، جو وقتی طور پر تو فائدہ دیتے ہیں مگر طویل مدت میں سنگین نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔مسلز کو غیر فطری طریقوں سے بڑا کرنے کے لیے لوگ پروٹین پاؤڈر، اینابولک سٹیرائڈز، انسولین، گروتھ ہارمونز، ملٹی وٹامنز اور مختلف سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں۔ ان اشیاء کا حد سے زیادہ استعمال جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتا ہے اور خاص طور پر دل پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔اینابولک سٹیرائڈز مسلز کو مصنوعی طور پر بڑھاتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ دل کے مسلز بھی غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتے ہیں۔ اس سے دل کی ساخت متاثر ہوتی ہے اور خون کی نالیوں میں سختی پیدا ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں دل کے امراض کا سبب بنتی ہے۔اسی طرح انسولین کا غیر ضروری استعمال جسم میں گلوکوز کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ اگرچہ یہ وقتی طور پر توانائی فراہم کرتا ہے، مگر خون میں شوگر کی سطح اچانک کم ہونے سے دل کے دورے کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔گروتھ ہارمونز کا استعمال بھی ایک خطرناک عمل ہے۔ یہ مسلز کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ دل کے مسلز کو بھی غیر متناسب طور پر بڑا کر دیتا ہے، جس سے دل کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور مختلف پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔تھائیرائڈ ہارمونز کا بے جا استعمال جسم کے میٹابولزم کو تیز کرتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف خطرناک ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ان تمام مصنوعی طریقوں کا مجموعی اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور دل کے دورے یا اچانک موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف مسلز کا بڑا ہونا صحت کی ضمانت نہیں ہے۔اصل صحت اس میں ہے کہ مسلز مضبوط ہوں، نہ کہ صرف بڑے۔ مسلز کی مضبوطی یعنی اینڈورنس انسان کو طویل عرصے تک متحرک اور فعال رکھتی ہے، جبکہ صرف حجم بڑھانا عارضی اور غیر متوازن فائدہ دیتا ہے۔اگر کوئی شخص باڈی بلڈنگ کے شوق میں جِم جاتا ہے تو اسے چاہیے کہ مصنوعی سپلیمنٹس اور ہارمونز سے مکمل پرہیز کرے۔ قدرتی غذا ہی وہ بنیاد ہے جو جسم کو حقیقی طاقت فراہم کرتی ہے۔قدرتی پروٹین جیسے انڈے، گوشت، مرغی، دالیں اور دودھ جسم کے لیے بہترین ذریعہ ہیں۔ یہ نہ صرف مسلز کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ جسم کے دیگر نظام کو بھی متوازن رکھتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے طبی معائنہ بھی ضروری ہے۔ دل کی صحت کو جانچنے کے لیے ای سی جی، ایکو اور لیپڈ پروفائل جیسے ٹیسٹ کروانا ایک سمجھدار قدم ہے، جو ممکنہ خطرات کو بروقت ظاہر کر سکتا ہے۔بہت سے باڈی بلڈرز اپنے جسم سے چربی کو حد سے زیادہ کم کر دیتے ہیں اور مسلز کو غیر معمولی حد تک بڑھا لیتے ہیں۔ اس سے جسم کا قدرتی توازن بگڑ جاتا ہے اور مختلف جسمانی مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ہائی پروٹین اور کیٹو ڈائٹ کا رجحان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اگرچہ یہ ڈائٹس وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، مگر طویل عرصے تک ان کا استعمال جگر اور گردوں پر بوجھ ڈال سکتا ہے۔
جگر اور گردے جسم کے نہایت اہم اعضاء ہیں جو زہریلے مادوں کو خارج کرتے ہیں۔ جب ان پر غیر ضروری دباؤ ڈالا جائے تو ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، جو مزید پیچیدگیوں کا سبب بنتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر جسم کی اپنی ایک حد ہوتی ہے۔ اس حد سے زیادہ کسی بھی چیز کا حصول نقصان دہ ہو سکتا ہے، چاہے وہ مسلز ہی کیوں نہ ہوں۔اسلام بھی اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر کام میں میانہ روی اختیار کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ جسم کو اللہ کی امانت سمجھ کر اس کا خیال رکھنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ورزش کا مقصد جسم کو فعال رکھنا، بیماریوں سے بچاؤ اور ذہنی سکون حاصل کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ محض ظاہری خوبصورتی کے پیچھے دوڑنا۔صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش اور ذہنی سکون بنیادی عناصر ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ فٹنس کے نام پر غلط راستوں کا انتخاب نہ کریں۔ شعور ہی وہ ہتھیار ہے جو انسان کو نقصان سے بچا سکتا ہے۔میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر دکھائی جانے والی غیر حقیقی باڈی امیجز بھی نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہیں۔ انہیں حقیقت اور فریب میں فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔صحت ایک نعمت ہے جس کی قدر کرنا ضروری ہے۔ وقتی خوبصورتی کے بجائے دیرپا صحت کو ترجیح دینا ہی دانشمندی ہے۔اگر ہم قدرتی اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں اور مصنوعی چیزوں سے دور رہیں تو نہ صرف ہمارا جسم بلکہ ہماری زندگی بھی متوازن اور خوشگوار ہو سکتی ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow