قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت اور شرعی احکام

تحریر: حمید علی
عید الاضحیٰ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم الشان مذہبی تہوار ہے جو ہمیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کرنے، اخلاص و تقویٰ کو اپنانے اور انسانیت کے ساتھ ہمدردی کا عملی درس دیتا ہے۔ قربانی محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک مقدس عبادت ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اس عبادت کا اصل مقصد دل کی نیت، اخلاص اور تقویٰ ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے کہ اللہ کو نہ تو گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ایک اہم معاشی سرگرمی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں مویشی منڈیاں قائم کی جاتی ہیں جہاں بیوپاری دور دراز علاقوں سے جانور لا کر فروخت کرتے ہیں۔ ان منڈیوں میں گائے، بیل، بکرے، دنبے اور اونٹ بڑی تعداد میں دستیاب ہوتے ہیں۔ خریدار اپنی مالی حیثیت اور شوق کے مطابق جانوروں کا انتخاب کرتے ہیں جبکہ بیوپاری بہتر قیمت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران بعض اوقات قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے افراد کے لیے قربانی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق قربانی کے جانور کے لیے چند شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ جانور صحت مند ہو، اس میں کوئی واضح جسمانی عیب نہ ہو، جیسے اندھا پن، شدید لنگڑاہٹ یا انتہائی کمزوری۔ اسی طرح جانور کی عمر بھی مقرر ہے؛ بکرے اور بھیڑ کے لیے کم از کم ایک سال، گائے اور بیل کے لیے دو سال، جبکہ اونٹ کے لیے پانچ سال عمر ہونا ضروری ہے۔ ان شرائط کی پابندی اس لیے لازم ہے تاکہ قربانی کا عمل شریعت کے مطابق اور اللہ کے نزدیک مقبول ہو۔
خرید و فروخت کے عمل میں دیانت داری اور سچائی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بدقسمتی سے بعض بیوپاری زیادہ منافع کے حصول کے لیے جانوروں کی عمر یا صحت کے بارے میں غلط معلومات دیتے ہیں یا انہیں مصنوعی طریقوں سے فربہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے ہتھکنڈے نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہیں بلکہ شرعاً بھی ناجائز ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ تجارت میں دھوکہ دہی سے اجتناب کیا جائے اور ہر معاملے میں انصاف اور دیانت داری کو مقدم رکھا جائے۔
اسی طرح خریداروں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ جانور خریدتے وقت احتیاط سے کام لیں اور صرف ظاہری خوبصورتی کے بجائے اس کی صحت اور شرعی معیار کو مدنظر رکھیں۔ محض دکھاوے یا دوسروں سے مقابلہ کرنے کی نیت سے مہنگے جانور خریدنا قربانی کی روح کے منافی ہے۔ اصل اہمیت نیت اور تقویٰ کی ہے، نہ کہ قیمت یا حجم کی۔
قربانی کے بعد گوشت کی تقسیم بھی اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے۔ مستحب طریقہ یہ ہے کہ گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے: ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور تیسرا حصہ غریبوں اور مستحقین کے لیے۔ اس عمل سے معاشرے میں محبت، مساوات اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کو یاد رکھنا ضروری ہے جو سال بھر گوشت جیسی نعمت سے محروم رہتے ہیں۔
موجودہ دور میں حکومت اور انتظامیہ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ مویشی منڈیوں میں بہتر سہولیات فراہم کریں، صفائی، سیکیورٹی اور جانوروں کی صحت کا خیال رکھیں، اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، صفائی کا خیال رکھیں اور قربانی کے فضلے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی سے بچا جا سکے۔
عید الاضحیٰ ہمیں ایثار، قربانی اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہے۔ اگر ہم اس عبادت کی اصل روح کو سمجھ کر اس پر عمل کریں تو نہ صرف ہماری قربانی اللہ کے ہاں قبول ہو گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی محبت، اخوت اور انصاف کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خرید و فروخت کے معاملات میں دیانت داری کو فروغ دیں، شرعی احکام کی پابندی کریں اور اس مقدس فریضے کو خلوص نیت کے ساتھ ادا کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow