تحریر: حفصہ زنیر
جو 1980ء سے 1990ء کے درمیان پیدا ہونے والے لوگ ہیں، ہمارے المیے بھی عجیب ہیں۔ ہم دو طرح کی زندگیاں بیک وقت جی رہے ہیں۔ ایک طرف ہم اپنے بزرگوں کے طور و اطوار، روایات اور اقدار کو زندہ رکھنے کی کوشش میں ہلکان ہیں تو دوسری طرف جین زی اور جین الفا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں نہ ہمیں ہمارے آباء و اجداد نے سکون کا سانس لینے دیا اور اب نہ ہماری اولادیں ہمیں چین سے بیٹھنے دیتی ہیں۔
ہمارے بڑوں کی شکایتوں نے واقعی ہمارے کاندھوں کو جھکا دیا تو دوسری طرف ہمارے بچوں کی فکروں نے ہمیں وقت سے پہلے بوڑھا کردیا۔ ماں کا دباؤ کہ اپنی پسند کی بہو ہی لانی ہے۔ ابا کا اصرار کہ بیٹا ڈاکٹر بنے یا سول سروس آفیسر ہی بنے۔ ہائے خاندان میں ناک کٹوا دی جیسے لیبلز اور۔۔ ہم؟ ہم اپنی ہی زندگی کے فیصلوں میں اکثر خاموش تماشائی بنے رہے ہیں۔ جو امی کہیں گی وہی ہوگا، ابا جی کے آگے زبان نہیں کھولنی۔۔یہ صرف جملے نہیں تھے، یہ ہماری تربیت کا حصہ تھے۔ حق بات کرنے کے لیے بھی ہمیں سو حیلے بہانے ڈھونڈنے پڑتے تھے۔ ہماری ماؤں کی مثالیں بھی عجیب تھیں۔ فلاں کا بیٹا ایسا، فلاں کی بیٹی ویسی، ڈھمکا کی بہو اتنی سمجھدار فلاں کے بچے اتنے تمیزدار۔۔۔ یوں موازنوں نے ہمیں ہمیشہ ایک دوڑ میں ہی رکھا، جہاں اپنی پہچان کم اور دوسروں سے مقابلہ زیادہ ہوگیا اور اب ہمارے اپنے بچے کہتے ہیں۔۔ ہمیں لوگوں کی مثالیں نہ دیں، ہمیں خود جینے دیں۔
جو باتیں ہمیں روایات کے نام پر سکھائی گئیں، وہ آج کی نسل کے نزدیک کبھی حد بندی، کبھی دباؤ اور کبھی بدتمیزی سمجھی جاتی ہیں۔
اپنے آباء و اجداد کی توقعات، لامحدود پابندیاں اور ادھوری خواہشات ایک طرف ہمیں جکڑا ہوا ہے تو دوسری طرف ہماری نئی نسل کی آزادی، خودمختاری اور بدلتے تقاضے ہمیں مسلسل ایک نئے امتحان میں ڈالے رکھتے ہیں۔
اب ہمارے سامنے ایک ایسی نسل ہے جو سوال کرتی ہے، دلیل مانگتی ہے،کب کیوں اور کیسے؟ اور کہتی ہے: “آخر کیوں چپ رہیں؟”
ہم وہ نسل ہیں جس نے “برداشت” سیکھ کر جوانی گزاری، اب ایک طرف ہم“سمجھانے” کی ذمہ داری اٹھائے کھڑے ہیں۔ ہمیں خاموش رہنا بھی سکھایا گیا اور اب بول کر سمجھانا بھی ہم پر لازم ہے۔ ہمیں روایات کی پاسداری بھی کرنی ہے، اور وقت کے ساتھ بدلنا بھی ہے۔
پچھلی نسل کی بہوئیں گھر سنبھالتے سنبھالتے، سب کو خوش کرتے کرتے، نجانے کب اپنے بال سفید کر بیٹھیں بیٹے ماں باپ کی فرمانبردار، جانبداری اور پاسداری کے ترازو میں بیٹھے اپنا آپ بھول بیٹھے اور آج کی نسل ان ہی قربانیوں کو کبھی جبر، کبھی مجبوری اور کبھی پسماندگی کا نام دیتی ہے۔
ادھر ہمارے بزرگ ہم پر یہ الزام رکھتے ہیں کہ تم سے بچے نہیں سنبھل رہے اور ادھر ہماری اولاد ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ آپ ہمیں سمجھتے ہی نہیں۔ ہم اپنے بزرگوں کے لیے اکثر کم پڑ جاتے ہیں اور اپنی اولاد کے لیے کبھی زیادہ سخت تو کبھی زیادہ نرم بن جاتے ہیں۔ ہم ہر وقت ایک توازن کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایسا توازن جو شاید کبھی مکمل نہیں ہوگا مگر اسی تلاش میں ہماری پہچان چھپی ہے۔
یہ سچ ہے کہ ہم تھک جاتے ہیں، الجھ جاتے ہیں، کبھی خود کو کھو بھی دیتے ہیں مگر یہی وہ نسل ہے جو دو زمانوں کو جوڑ رہی ہے۔
ہم پِس رہے ہیں مگر ہم پُل ہیں۔
ہم ٹوٹے نہیں ہیں مگر ہم جوڑ رہے ہیں۔ رشتے بھی، قدریں بھی، اور وقت کے بدلتے ہوئے دھارے بھی۔ ہماری نسل کا نوحہ یہ ہے کہ ہم ان دو زمانوں کے اسیر ہیں جو چکی کے پاٹوں میں پس کر بھی مسکرا رہی مگر اس سب میں ہم اپنا آپ بھول گئے یا کھو بیٹھے ہیں۔ ساتھ ہی ہم وہ آخری نسل بھی ہیں جنہوں نے مٹی کے کھلونوں سے بھی کھیلا اور وہ پہلی نسل ہیں جنہوں نے مصنوعی ذہانت کو بھی اپنایا۔ ہم نے اگر بڑوں کی سختی سہی، تو ہم ہی وہ والدین ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل پر بات کرنا بھی جانتے ہیں۔
Latest Posts
