ازقلم: شازیہ یاسین پنو عاقل کینٹ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
“عورت” چار الفاظ پر مشتمل یہ لفظ اپنے اندر کائنات کی ساری خوبصورتی کو سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو بہت ہی پاکیزہ اور لطیف احساسات و جذبات سے تخلیق کیا ہے۔ کائنات میں محبت کے سو حصے کیے جاتے تو ننانوے عورت کے حصے میں آتے ہیں۔ عورت کو مرد کی پسلی سے تخلیق کر کے اس کے لیے سکون بنا دیا گیا ہے۔ عورت کی خوبصورتی سے مرد ہمیشہ متاثر رہا ہے۔ اس کی وفا، احساس، محبت کا متلاشی نظر آتا ہے۔ شاعروں نے عورت پر بے تحاشا لکھ کر اپنے خیالات اور جذبات کو شاعری کا پیراہن پہنایا ہے۔ اسی کے ساتھ کو زندگی اور جدائی کو اکثر اپنی موت سے تشبیہہ دی ہے۔ مرد اپنی پسندیدہ عورت کے لیے اپنی انا کو قربان کرتا بھی نظر آتا ہے تو دوسری طرف اس کی جدائی میں جنگلوں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ ان سب حقائق سے بالاتر مرد نا جانے کیوں عورت کی اپنی برابری یا اس کی خود مختاری سے خائف بھی نظر آتا ہے؟
ہمارے مذہب اسلام نے عورتوں کو وہ مقام عطا کیا ہے جس کی نذیر اس سے پہلے نہیں ملتی۔ بیٹی کے روپ میں اسے رحمت قرار دیا ہے تو ماں کے روپ میں جنت کو اس کے قدموں کے نیچے رکھ دیا ہے۔ بیوی کر روپ میں سکون اور بہترین دنیاوی دولت سے تشبیہہ دی ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید کی سورۃ الحجرات میں ارشاد ربانی ہے کہ!
ترجمہ؛ “اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے۔”
یہ آیت مرد اور عورت کی انسانی برابری کو بہت اچھے طریقے سے واضح کرتی ہے کہ عورت اور مرد مل کر انسانی نسل کو بڑھاتے ہیں۔ کسی ایک کے بغیر یہ عمل نا ممکن ہے بل کہ عورت نسل انسانی کی ضامن ہے۔ معاشی خود مختاری کی بات کریں تو عورت عرب کے زمانے سے ہی معاشی طور پر خود مختار ہے۔ تجارت کو اس نے پیشے کے طور پر ناصرف اپنایا بلکہ اس میں کمال بھی حاصل کیا ہے۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ قرآن کریم کی سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ!
ترجمہ: “مردوں کے لیے اس میں حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لیے بھی اس میں حصہ ہے جو انھوں نے کمایا۔”
یہ آیت عورتوں کی معاشی خود مختاری کی واضح دلیل ہے کہ عورتوں کی کمائی پر ان کا پورا حق ہے۔ وہ جس طرح چاہیں اسے خرچ کر سکتی ہے اور جس پر چاہے خرچ کر سکتی ہیں۔ اسلام نے عورت کو اس کا اصل مقام عطا کیا ہے۔ عورتوں کو ناصرف تعلیم حاصل کرنے کے لیے مردوں کے برابر حقوق دئیے گئے ہیں بلکہ عورت کے لیے بھی تعلیم فرض قرار دی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ!
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔”
( ابن ماجہ)
یہ حدیث علم جیسے بنیادی حق میں مرد اور عورت دونوں کو برابری کا درجہ دینے کی واضح دلیل ہے۔ اسلام نے عورت کو اپنا شریک سفر چننے کی مکمل آزادی دی ہے اور اس کی رضامندی کے ساتھ نکاح کروانے کا حکم دیا ہے۔ چاہے یہ نکاح کسی بیوہ کا ہو یا کسی کنواری کا۔ اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ!
“کسی بیوہ کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نا کیا جائے اور کسی کنواری کا نکاح بھی اس کی مرضی کے بغیر نا کیا جائے۔”
یہ حدیث عورت کو یہ حق اور آزادی دیتی ہے کہ وہ اپنا شریک سفر خود چن سکے۔ اس کی مرضی کے خلاف کوئی بھی اسے نکاح کے لیے مجبور نہیں کرسکتا ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم ہی عورت کے ساتھ بہترین سلوک ہے۔ ایک اور حدیث نبوی ہے کہ!
“تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔”
اسلام کبھی بھی عورت کی آزادی اور خودمختاری کے خلاف نہیں تھا۔ وہی اقوام ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جہاں عورت مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کام کرتی ہے۔ عورت ناصرف نسل انسانی کی افزائش کرتی ہے بلکہ اس کے کردار کو سنوارتی بھی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ!
“دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس قوم کی عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام نہ کریں۔”
کسی بھی ملک و قوم کی آزادی اور خود مختاری عورتوں کے کردار کے بغیر نا مکمل ہے۔ مشہور رہنما نیلسن منڈیلا نے عورتوں کی آزادی کے متعلق کہا تھا کہ!
“آزادی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک عورتوں کو برابر کے حقوق حاصل نہ ہو،”
ان کا یہ قول عورتوں کی حقیقی آزادی اور معاشرتی کردار کا ثبوت ہے۔ کوفی عنان نے عورتوں کی آزادی کے متعلق کہا کہ!
“صنفی برابری ترقی، امن اور انصاف کے لیے ضروری ہے”۔
ان سب حقائق سے بالاتر عورت کو ہمیشہ مرد کی محبت، وفا، خیال اور احساس کی ضرورت رہتی ہے۔ مرد کا ہر روپ اسے عزیز ہوتا ہے۔ وہ اپنے حق اور سکون کے لیے ان کی کی طرف دیکھتی ہے۔ نوکری کرنے والی خواتین جب گھر آتی ہے تو اپنے شوہر کے چند جملوں پر اس کے سارے دن کی تھکن کا انحصار ہوتا ہے۔ بھائیوں کے درمیان رہ کر ان کی محبت اور خیال اس کی ساری زندگی کا قیمتی اثاثہ بن جاتا ہے۔ باپ کی شفقت تو ہے ہی بے مول لیکن بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں ابھی بیٹی کو وہ عزت اور توقیر نہیں مل سکی جو ان کا حق ہے۔ عورت کی آزادی اور خودمختاری کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اس کے جذبات، خیالات، احساسات دم توڑ چکے ہیں۔ وہ محبت کی متلاشی نہیں ہے یا اسے ان لطیف اور پاکیزہ اظہار کی ضرورت نہیں ہے جو ایک عورت کے حسن کا نا صرف جواں رکھتے ہیں بلکہ اس میں جینے کی نئی امنگ بھی پیدا کر دیتے ہیں اور سب سے اہم بات کہ اگر وہ خود کما کر کوئی چیز لے لیتی ہے تو اس کی زمہ داریوں سے خود کو آزاد نا سمجھے کہ یہ سب خود کر لے گی۔ یہ بالکل غلط سوچ اور رویہ ہے اور یہ سوچنا اسے ہماری کسی چیز یا وقت کی ضرورت نہیں ہے سوائے اپ کی خام خیالی کے کچھ نہیں ہے۔سب سے بڑی بیوقوفی کہ ہم ایسی عورتوں کو جذبات و احساسات سے عاری سمجھتے ہیں جب کہ سچائی اس کے بر عکس ہے۔ عورت آپ ہی کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔اسے محبت آ پ سے ہی چاہیئے۔ یاد رکھیں کہ وہ آ پ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی محسوس کرتی ہے۔ آ پ کے چند محبت بھرے جملے اسے ایک خوبصورت احساس کے ساتھ ایک حصار میں رکھتے ہیں۔ بےشک وہ کچھ نا بولے مگر وہ محسوس کرتی یے۔ آپ کے جذبات، احساسات اور خیالات کو۔ اس سے پہلے کے اس کے پاس الفاظ کے ساتھ محسوس کرنے کی حس بھی ختم ہو جائے اس کی قدر کرے، اس سے محبت کرے، اس کا خیال رکھے اور یقین جانیے اس کے بدلے وہ خوشی خوشی آ پ کی اس زیست مسلسل کو جنت کا گہوارہ بنا دے گی۔
Latest Posts
