مبصرہ: آمنہ منظور
کتاب بہترین دوست ہے اور اگر کوئی کتاب انسانی نفسیات کی گہرائیوں اور تخلیقی کرب کے بند کواڑ کھول دے تو وہ ایک قیمتی اثاثہ بن جاتی ہے۔ گہرے مشاہدے کی حامل اور الفاظ سے نقش بنانے والی شخصیت ”اظہر سجاد“ کا افسانوی مجموعہ تیسری دیوار موصول ہوا۔کتاب کا عنوان ہی سوچ کے در وا کر دیتا ہے۔تیسری دیوار جو شاید شعور اورلاشعور کے درمیان ہے یا پھر وہ دیوار جو انسان نے اپنے اور اپنی روح کے درمیان کھڑی کر رکھی ہے۔ اس افسانوی میں مجموعے میں اکیس افسانے شامل ہیں۔ یہ افسانے انسانی روح، نفسیات، ذہنی کش مکش اور ایک جستجو کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔
اس مجموعے کی سب سے بڑی خوبی اس کا علامتی اسلوب ہے۔مصنف نے روایتی قصہ گوئی سے ہٹ کر علامت اور تجرید کا راستہ چنا ہے جو قاری کے لیے تجسس اور دل چسپی کا سامان لیے ہوئے ہے۔افسانوں میں منظر کشی اس قدر جان دار ہے کہ قاری خود کو منظر کا حصہ تصور کرنے لگتا ہے اور سب کردار جیتے جاگتے وجود بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔
افسانے ”پسِ اشک“ میں تخلیق کار کے کرب کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
”کیا یہ وہی ہے؟ یا اس جیسا کوئی اور ہے جو میرے قلم سے نکل کر مجسم ہو گیا ہے مگر یہ کام تو کسی اور کا ہے، ہم تو صرف نقطے ملاتے ہیں۔“
افسانے ”خالی“ سے ایک اقتباس:
”پہلے پہل اندھیرے کی حکمرانی تھی پھر روشنی نے اندھیرے کی کوکھ سےجنم لیا تو اندھیرے نے بغاوت کر دی۔ اندھیرا ایک ثابت قدم ہیرو ہے۔ ہاہاہا، ہم بھی اندھیرے کے پروردہ ہیں۔ ایک دن ہم سب اُس میں گم ہو جائیں گے، روشنیوں کو نگل لیا جائے گا، ہم کو اندھیرے کی کوکھ سے جنم دیا گیا ہے، ہاہاہا،ہم اندھیرے کی پرستش کریں گے، اندھیرا آواز دے رہا ہے۔“
اس افسانوی مجموعے میں اُن اَن کہی داستانوں کو زبان دینے کی کوشش ہے جو ہم روز جیتے ہیں مگر بیان نہیں کر پاتے۔میں اردو ادب کے قارئین اور خاص طور پر نفسیاتی و علامتی ادب سے دل چسپی رکھنے والوں کو اس مجموعے کے مطالعہ کا مشورہ دوں گی۔ یہ کتاب ہمیں اپنے اندر جھانکنے اور اپنی ذات کے ادھورے پن کو پہچاننے کا حوصلہ دیتی ہے۔دعاگو ہوں کہ مصنف کتاب کی یہ تخلیقی پرواز یونہی جاری رہے اور وہ ادب کے افق پر ایک روشن ستارہ بن کر چمکتے رہیں۔آمین!
Latest Posts
