تحریر: محمد فضیل انصاری
آج 10 مئی 2026 کی صبح جب سورج نے اپنی سنہری کرنوں سے پاکستان کے افق کو منور کیا، تو فضاؤں میں ایک عجیب سی خوشبو اور دلوں میں ایک منفرد تلاطم برپا تھا۔ آج کا دن کیلنڈر پر محض ایک ہندسہ نہیں، بلکہ دو ایسے جذبوں کا حسین سنگم ہے جو انسانی زندگی اور قومی بقا کی بنیاد ہیں۔ آج جہاں پوری دنیا “ماؤں کا عالمی دن” (Mother’s Day) منا رہی ہے، وہیں پاکستانی قوم اپنی تاریخ کے اس عظیم الشان معرکے کی پہلی سالگرہ منا رہی ہے جسے دنیا “آپریشن بنیانِ مرصوص” کے نام سے جانتی ہے۔ یہ عجیب اتفاق ہے یا مشیتِ ایزدی کا کوئی خاص اشارہ، کہ جس دن ہم اس ہستی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جس کے قدموں تلے جنت ہے، اسی دن ہم اس معرکے کی یاد بھی تازہ کر رہے ہیں جس نے ہماری دھرتی ماں کی جنت جیسی فضاؤں کو دشمن کی آگ سے بچایا تھا۔
ٹھیک ایک سال قبل، مئی 2025 کے وہ دن پاکستانیوں کے حافظے میں آج بھی تازہ ہیں۔ مئی کی وہ تپتی دوپہریں جب سرحدوں پر تناؤ کا لاوا پک رہا تھا۔ بھارت کی جانب سے مسلسل جارحیت اور 7 مئی کی رات بزدلانہ میزائل حملوں نے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا تھا۔ دشمن اپنی عددی برتری اور جدید ٹیکنالوجی کے زعم میں یہ بھول بیٹھا تھا کہ جنگیں صرف مشینوں سے نہیں، بلکہ ان حوصلوں سے لڑی جاتی ہیں جن کی آبیاری ایک ماں اپنی گود میں کرتی ہے۔ 10 مئی 2025 کی وہ صبح، جب “بنیانِ مرصوص” (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کا حکم جاری ہوا، تو پاک افواج کے جوانوں کے سینوں میں جہاں وطن کی محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا، وہیں ان کے کانوں میں اپنی ماؤں کی وہ دعائیں گونج رہی تھیں جو کسی بھی ایئر ڈیفنس سسٹم سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئیں۔
”بنیانِ مرصوص” محض ایک عسکری آپریشن کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ دشمن کے تکبر کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھی۔ اس معرکے کی پہلی سالگرہ پر جب ہم اس کے تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں، تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ دشمن کے پاس “رافیل” جیسے مہنگے اور جدید طیارے تھے، ان کے پاس عالمی طاقتوں کا دیا ہوا جدید ترین ریڈار سسٹم تھا، لیکن جب ہمارے شاہینوں نے فضاؤں میں اپنے پر پھیلائے، تو وہ تمام مشینیں مٹی کا ڈھیر ثابت ہوئیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاک فضائیہ کے جوانوں نے “سائبر وارفیئر” اور “الیکٹرانک جیمنگ” کے ذریعے دشمن کے پورے کمانڈ سسٹم کو مفلوج کر دیا۔ دشمن یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ حملہ کہاں سے ہو رہا ہے اور ان کے اپنے دفاعی آلات کیوں جواب دے رہے ہیں۔ یہ پیشہ ورانہ مہارت کا وہ عروج تھا جس نے دنیا کے بڑے بڑے دفاعی مبصرین کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔
لیکن اس تکنیکی برتری کے پیچھے ایک خاموش قوت بھی کام کر رہی تھی۔ یہ وہ مائیں تھیں جنہوں نے 10 مئی کی اس صبح اپنے بیٹوں کو محاذِ جنگ پر روانہ کرتے وقت ان کے ماتھے چومے تھے۔ ایک فوجی کی ماں ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ وہ جرات مند خواتین ہیں جو جانتی ہیں کہ ان کا بیٹا جب سرحد کی طرف جا رہا ہے، تو شاید وہ آخری بار اسے دیکھ رہی ہوں۔ لیکن آفرین ہے ان ماؤں پر، جنہوں نے آنسو بہانے کے بجائے اپنے بیٹوں کو یہ کہہ کر رخصت کیا کہ “بیٹا! پیٹھ پر گولی کھا کر میرے دودھ کو شرمانا مت، دھرتی ماں کی حرمت پر آنچ نہ آنے دینا۔” بنیانِ مرصوص کی اصل کامیابی درحقیقت ان ماؤں کے اس عزم کی فتح تھی جس نے موت کے خوف کو شکست دے دی تھی۔
جنگ کے ان چند گھنٹوں میں جب فضاؤں میں بارود کی بو تھی، تو پاکستان کے ہر گھر میں ایک مصلّٰی بچھا ہوا تھا اور ایک ماں کے ہاتھ رب کے حضور پھیلے ہوئے تھے۔ یہ وہ دعائیں تھیں جنہوں نے میدانِ جنگ میں معجزے دکھائے۔ جب ہمارے جوانوں نے دشمن کے پانچ طیاروں کو زمین بوس کیا اور ان کے اہم فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تو یہ صرف فتح نہیں تھی بلکہ یہ اس “مقدس عہد” کی تکمیل تھی جو اس قوم نے اپنی دھرتی ماں سے کر رکھا ہے۔ دشمن کا غرور خاک میں مل چکا تھا، ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان اتنا بھرپور اور جرات مندانہ جواب دے گا۔ 10 مئی 2025 کی شام تک دنیا یہ جان چکی تھی کہ “بنیانِ مرصوص” وہ دیوار ہے جسے توڑنا کسی بھی جارح کے بس کی بات نہیں۔
آج ایک سال بعد، جب ہم اس فتح کا جشن منا رہے ہیں، تو ہمیں اس “قومی وحدت” کو بھی یاد کرنا ہوگا جو اس وقت دیکھنے کو ملی۔ کشمیر سے کراچی تک، گلگت سے گوادر تک، پوری قوم ایک ہی صف میں کھڑی تھی۔ سیاسی اختلافات مٹ چکے تھے، فرقہ واریت دم توڑ چکی تھی، اور صرف ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا: “پاکستان زندہ باد”۔ یہ وہ سبق ہے جو ہمیں آج بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ اتحاد اور ایمان سے مضبوط ہوتی ہیں۔ معرکہِ حق نے ہمیں سکھایا کہ جب ریاست، عوام اور افواج ایک پیج پر ہوں، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔
آج کا “مدرز ڈے” ان ماؤں کے نام ہے جنہوں نے اپنے لعل اس مٹی کے لیے وقف کر دیے۔ ان ماؤں کا مقام سب سے بلند ہے جنہوں نے اپنے بیٹوں کے جنازوں کو پرچمِ ستارہ و ہلال میں لپٹا ہوا دیکھا اور فخر سے کہا کہ “میرا بیٹا شہید ہوا ہے”۔ ان شہداء کے لہو کی لالی ہی ہے جو آج ہمارے سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف، “بنیانِ مرصوص” کی کامیابی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہماری آزادی کی قیمت ہمارے جوانوں کی بیداری ہے۔ ہم ایک امن پسند قوم ہیں، ہم نے ہمیشہ پڑوسیوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات کی خواہش کی ہے، لیکن ہماری اس امن پسندی کو کبھی کمزوری نہ سمجھا جائے۔
10 مئی 2026 کا یہ دن ہمیں پیغام دے رہا ہے کہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اسی جذبے کی ضرورت ہے جو ایک سال پہلے ہم نے دکھایا تھا۔ ہمیں اپنی دفاعی صنعت کو مزید مضبوط کرنا ہوگا، اپنی ٹیکنالوجی کو جدید بنانا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر اپنے قومی اتحاد کو برقرار رکھنا ہوگا۔ دھرتی ماں کی حفاظت کا تقاضا ہے کہ ہم ہر میدان میں—چاہے وہ تعلیم ہو، معیشت ہو یا دفاع—خود کو اتنا مضبوط کر لیں کہ پھر کبھی کسی دشمن کو ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ ہو۔
آج جب ہم اپنی ماؤں کو تحائف دے رہے ہیں، ان سے اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں، تو آئیے ایک عہد اپنی “دھرتی ماں” کے ساتھ بھی کریں۔ یہ عہد کہ ہم اس کی ہریالی، اس کے وقار اور اس کی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ بنیانِ مرصوص کی وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار آج بھی کھڑی ہے، اور ان شاء اللہ ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ یہ دیوار ان دعاؤں سے بنی ہے جو عرش کو ہلا دیتی ہیں، اور ان جذبوں سے تیار ہوئی ہے جن کے سامنے موت بھی سر جھکا دیتی ہے۔
آج کی یہ تحریر ان تمام ماؤں کے نام، جنہوں نے شیر جوانوں کو جنم دیا، اور ان تمام غازیوں اور شہیدوں کے نام، جنہوں نے 10 مئی 2025 کو تاریخ کا رخ موڑ کر ہمیں ایک نیا وقار بخشا۔ ہم زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔ “بنیانِ مرصوص” ہماری غیرت کا نشان ہے اور “مدرز ڈے” ہماری محبت کا عنوان۔ جب تک یہ دونوں جذبے سلامت ہیں، پاکستان کی طرف اٹھنے والا ہر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور ہر میلی آنکھ پھوڑ دی جائے گی۔
خداوندِ قدوس ہمارے وطن کی حفاظت فرمائے، ہماری ماؤں کا سایہ سلامت رکھے اور ہمیں ہمیشہ اسی طرح ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
پاکستان زندہ باد!
پاک افواج پائندہ باد!
Latest Posts
