تحریر: رفیع صحرائی
دنیا میں بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے وجود، شخصیت اور زندگی کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ ان رشتوں میں سب سے عظیم، مقدس اور بے لوث رشتہ ماں کا ہے۔ ماں محض ایک لفظ نہیں بلکہ محبت، ایثار، قربانی، دعا، شفقت اور رحمت کا مکمل استعارہ ہے۔ انسان کی زندگی میں جتنی سچی محبتیں، جتنے خالص جذبے اور جتنی بے غرض دعائیں موجود ہیں، ان سب کا مرکز ماں کی ذات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو“مدرز ڈے”منایا جاتا ہے تاکہ ماں کی عظمت، قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ بطور مسلمان ہمارے لیے ہر دن ماں کا دن ہے لیکن مئی کی دوسری اتوار کو ماں کے لیے مخصوص کرنا دنیا بھر میں ماں کی عظمت کا اعتراف کرنا ہے جب ہر طرف صرف ماں ہی کا ذکر ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ماں وہ ہستی ہے جو اولاد کی خاطر اپنی نیند، آرام، خواہشات بلکہ اپنی پوری زندگی قربان کر دیتی ہے۔ بچہ جب بولنا بھی نہیں جانتا تو ماں اس کے رونے کی آواز سے اس کی تکلیف پہچان لیتی ہے۔ وہ اپنی بھوک بھلا کر اولاد کا پیٹ بھرتی ہے، اپنے دکھ چھپا کر بچوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرتی ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جو انسان کو زندگی کے ہر موڑ پر سہارا دیتا ہے۔
ماں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مدرز ڈے کی باقاعدہ ابتدا مغربی دنیا سے ہوئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انیسویں صدی میں جولیا وارڈ ہو نامی خاتون نے ماؤں کے احترام اور امن کے فروغ کے لیے اس دن کو منانے کی تحریک چلائی۔ بعدازاں امریکہ کی اینا جاروس نے اپنی والدہ کی خدمات کے اعتراف میں اس دن کو قومی سطح پر منانے کی مہم شروع کی۔ بالآخر 1914ء میں امریکی صدر ووڈرو ولسن نے مئی کے دوسرے اتوار کو باضابطہ طور پر“مدرز ڈے”قرار دیا۔ بعد میں یہ روایت دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل گئی۔ آج دنیا بھر میں لوگ اس دن اپنی ماؤں کو پھول، تحائف اور محبت بھرے پیغامات پیش کرتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک خوبصورت روایت ہے مگر اس کے پس منظر میں کئی تلخ حقیقتیں بھی چھپی ہوئی ہیں۔
مغربی دنیا میں مدرز ڈے بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے مگر وہاں خاندانی نظام کی کمزوری ایک بڑا المیہ بن چکی ہے۔ بوڑھے والدین خصوصاً مائیں، اکثر اولڈ ایج ہومز میں اپنی زندگی کے آخری دن گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ اولاد سال میں صرف ایک دن ان کے پاس آتی ہے، چند تحائف دیتی ہے، تصاویر بنواتی ہے اور پھر اپنی مصروف زندگیوں میں واپس لوٹ جاتی ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ماں کی محبت کا حق صرف ایک دن میں ادا کیا جا سکتا ہے؟ کیا وہ ہستی جس نے پوری زندگی اولاد کے لیے قربان کر دی، صرف رسمی پھولوں اور نمائشی پوسٹس کی مستحق ہے؟ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے اس دور میں جذبات بھی نمائش بنتے جا رہے ہیں۔ مدرز ڈے پر خوبصورت اسٹیٹس اور تصاویر تو لگائی جاتی ہیں لیکن سال بھر ماں کے ساتھ بیٹھ کر دو لمحے بات کرنے کی فرصت نہیں ہوتی حالانکہ ماں کو مہنگے تحائف سے زیادہ اولاد کی توجہ، احترام اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسلام وہ واحد دین ہے جس نے ماں کے مقام کو سب سے بلند رکھا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ سور بنی اسرائیل میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو۔”
اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ نے ماں کی عظمت کو غیر معمولی انداز میں بیان فرمایا۔ ایک شخص نے عرض کیا:“یارسول اللہ ﷺ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟”آپ ﷺ نے فرمایا:“تمہاری ماں۔”اس نے دوبارہ پوچھا:“پھر کون؟”آپ ﷺ نے فرمایا:“تمہاری ماں۔”تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیا اور چوتھی مرتبہ فرمایا:“تمہارا باپ۔”
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام میں ماں کی خدمت محض ایک رسم نہیں بلکہ عبادت ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی کیونکہ وہ انسان کی پہلی درسگاہ، پہلی محافظ اور سب سے پہلی معلمہ ہوتی ہے۔
کسی بھی قوم کی تعمیر میں ماں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایک اچھی ماں دراصل ایک اچھی نسل کی بنیاد رکھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے رہنماؤں، سائنس دانوں، مجاہدوں اور مفکرین کی کامیابی کے پیچھے ایک عظیم ماں کی تربیت شامل رہی ہے۔ ماں صرف بچوں کی پرورش نہیں کرتی بلکہ ان کے اخلاق، کردار، زبان، تہذیب اور شخصیت کی تشکیل بھی کرتی ہے۔ اگر ماؤں کی تربیت مضبوط ہو تو معاشرہ خود بخود مضبوط ہو جاتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے:
“ایک ماں ایک پوری نسل کی معمار ہوتی ہے۔”
پاکستانی معاشرہ ہمیشہ سے خاندانی نظام، والدین کے احترام اور ماں کی عظمت کے حوالے سے ممتاز رہا ہے۔ ہمارے ہاں ماں کو گھر کی برکت، رحمت اور دعا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید، مادہ پرستی اور مصروف طرزِ زندگی نے ہمارے معاشرتی رویوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب ہمارے ہاں بھی اولڈ ایج ہومز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ بعض لوگ والدین کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے گھروں میں فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی رشتوں میں اجنبیت پیدا ہو رہی ہے۔ حالانکہ ماں وہ ہستی ہے جو اولاد کے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اس کی فکر کرتی رہتی ہے۔ وہ خود تکلیف میں ہو تب بھی اولاد کے سکون کی دعا کرتی ہے۔
اگر مدرز ڈے ماں کے احترام، اس کے حقوق کی ادائیگی اور اس سے محبت کے اظہار کا ذریعہ بنے تو یہ ایک مثبت روایت ہے۔ لیکن اگر یہ
صرف رسمی پیغامات، سوشل میڈیا پوسٹس اور نمائشی تحائف تک محدود ہو جائے تو اس کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ حقیقی مدرز ڈے یہ ہے کہ ماں کے ساتھ وقت گزارا جائے، اس کی صحت اور آرام کا خیال رکھا جائے، اس کے جذبات کو سمجھا جائے، بڑھاپے میں اسے تنہا نہ چھوڑا جائے، اس کی دعاؤں کو اپنی کامیابی سمجھا جائے اور اس کی خدمت کو سعادت جانا جائے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جن لوگوں کی مائیں دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، ان کے لیے بھی مدرز ڈے صرف یادوں کا دن نہیں ہونا چاہیے بلکہ دعاؤں، ایصالِ ثواب اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کا دن ہونا چاہیے۔
یاد رکھیے! ماں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے عظیم نعمت ہے۔ وہ گھر کی ٹھنڈی چھاؤں، دعاؤں کا سایہ اور زندگی کا سب سے خوبصورت احساس ہے۔ ماں کے بغیر گھر صرف مکان رہ جاتا ہے۔ اس کی دعا انسان کے لیے ڈھال بن جاتی ہے اور اس کی ناراضی زندگی کی بے برکتی کا سبب بن سکتی ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ماں کی محبت کا قرض کبھی ادا نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس کی خدمت، احترام اور محبت کے ذریعے ہم اپنی دنیا و آخرت سنوار سکتے ہیں۔ مدرز ڈے ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ماں کی قدر صرف ایک دن نہیں بلکہ زندگی کے ہر لمحے میں کی جائے۔
Latest Posts
