تحریر : ماریہ فاروق
انسانی حساسیت ایک ایسا عظیم اور خوبصورت جذبہ ہے جو انسان کے دل کو وسعت دیتا ہے اور اسے دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے، سمجھنے اور ان کے لیے عملی مدد کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو انسان کو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ جب انسان کسی کے درد کو اپنا درد سمجھنے لگے تو وہ حقیقی معنوں میں انسانیت کے درجے پر فائز ہوتا ہے۔ ایک مہذب معاشرہ بھی اسی سوچ پر قائم ہوتا ہے جہاں ہمدردی، ایثار اور خدمتِ خلق کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔
ہر سال 8 مئی کو دنیا بھر میں تھلیسیمیا کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد اس موروثی بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، اس کے اثرات کو اجاگر کرنا اور اس کے بچاؤ کے طریقوں سے لوگوں کو روشناس کروانا ہے۔ تھلیسیمیا ایک خون کی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے، اور اس میں جسم صحت مند ہیموگلوبن بنانے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ ہیموگلوبن کی کمی کے باعث جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن صحیح طریقے سے نہیں پہنچ پاتی، جس سے مریض شدید کمزوری، تھکن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ تھلیسیمیا کے بچوں کو اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لیے بار بار خون کی منتقلی کی ضرورت پڑتی ہے، جو ان کی روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ یہ بیماری نہ صرف جسمانی تکلیف دیتی ہے بلکہ ذہنی، جذباتی اور معاشی طور پر بھی مریض اور اس کے خاندان کو متاثر کرتی ہے۔
اسی جذبۂ خدمت کے تحت جے زیڈ ٹی پاکستان ایک فعال اور منظم فلاحی تنظیم کے طور پر کام کر رہی ہے، جس کے بانی سر غلام دستگیر ہیں۔ اس تنظیم کی بنیاد اس مقصد کے ساتھ رکھی گئی کہ نوجوان نسل کو انسانیت کی خدمت کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا جائے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔ یہ تنظیم پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے ہر ضلع میں اپنی منظم ٹیموں کے ذریعے کام کر رہی ہے، جہاں رضاکار بھرپور جذبے کے ساتھ تھالاسیمیا کے بچوں کی مدد میں مصروف ہیں۔
جے زیڈ ٹی پاکستان کا بنیادی مقصد تھلیسیمیا کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنا ہے تاکہ لوگ اس بیماری کو سمجھ سکیں، اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کردار ادا کر سکیں اور مریض بچوں کے لیے سہولت پیدا ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے تنظیم مختلف اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آگاہی سیشنز کا انعقاد کرتی ہے، جہاں طلبہ کو تھلیسیمیا کے بارے میں تفصیل سے بتایا جاتا ہے اور انہیں بلڈ ڈونیشن کی اہمیت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ایک چھوٹا سا عمل بھی کسی کی زندگی بچا سکتا ہے۔
مزید برآں، یہ تنظیم باقاعدگی سے بلڈ ڈونیشن کیمپس کا انعقاد کرتی ہے تاکہ تھیلسیمیا کے مریض بچوں کو بروقت خون فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ نادار بچوں کے لیے ادویات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاتی ہے تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف ماہر ڈاکٹروں سے ملاقاتیں کی جاتی ہیں، ان کے انٹرویوز ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور انہیں عوام تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ درست معلومات لوگوں تک پہنچ سکیں اور معاشرے میں شعور پیدا ہو۔
اگر میں اپنے ذاتی تجربے کی بات کروں تو جے زیڈ ٹی پاکستان کے ساتھ گزارے گئے دو سال میری زندگی کے سب سے قیمتی، یادگار اور خوبصورت سال تھے۔ اس دوران مجھے بار بار ان معصوم اور حوصلہ مند بچوں سے ملنے کا موقع ملا، ان کے ساتھ مختلف سیشنز اور انٹرویوز کنڈکٹ کرنے کا تجربہ حاصل ہوا۔ ان ملاقاتوں نے میری سوچ کو مکمل طور پر بدل دیا۔ مجھے یہ گہرا احساس ہوا کہ تھلیسیمیا کے بچوں کی زندگی ایک صحت مند اور عام انسان کی زندگی سے کتنی مختلف ہوتی ہے۔ جہاں ایک عام انسان بغیر سوچے سمجھے اپنی زندگی گزار لیتا ہے، وہاں یہ بچے ہر روز زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ان کے لیے ہر دن ایک نئی امید اور نئی جنگ کی طرح ہوتا ہے، کیونکہ انہیں اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل علاج اور خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان بچوں کی آنکھوں میں جینے کی امید اور حوصلہ دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ اصل طاقت جسم میں نہیں بلکہ جذبے میں ہوتی ہے۔
ان تجربات کے دوران مجھے نہ صرف ان بچوں کی قربانیوں اور مشکلات کو سمجھنے کا موقع ملا بلکہ ان کے والدین کی بے پناہ محبت اور جدوجہد کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ وہ لمحے تھے جنہوں نے مجھے انسانیت کے اصل مفہوم سے روشناس کروایا اور میری زندگی میں ہمدردی، شکرگزاری اور خدمتِ خلق کا جذبہ مزید مضبوط کیا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جے زیڈ ٹی پاکستان نہ صرف ایک فلاحی تنظیم ہے بلکہ ایک تربیتی ادارہ بھی ہے جو نوجوانوں کو یہ سکھاتا ہے کہ اصل کامیابی دوسروں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے میں ہے۔ اگر ہم سب مل کر آگاہی پھیلائیں، بلڈ ڈونیشن کو فروغ دیں اور مریضوں کا سہارا بنیں تو ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کر سکتے ہیں جہاں ہر زندگی کو جینے کا حق اور امید دونوں حاصل ہوں۔
آخر میں، ہم سب کو مل کر اس بیماری کے خلاف شعور بیدار کرنے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر معاشرے میں ہر فرد ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، بلڈ ڈونیشن کو فروغ دے اور لوگوں میں آگاہی پیدا کرے تو ہم تھیلیسیمیا جیسے مرض پر کافی حد تک قابو پا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فیملی اسکریننگ اور بروقت میڈیکل ٹیسٹس کو بھی عام کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس بیماری سے محفوظ بنایا جا سکے۔ ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم انسانیت کی خدمت کے اس سفر کو جاری رکھیں گے، تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کا سہارا بنیں گے اور اس بیماری سے لڑنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرتے رہیں گے، تاکہ ہر بچہ ایک صحت مند، محفوظ اور خوشحال زندگی گزار سکے۔
