اخلاق احمد ساغر
دس مئی دو ہزار پچیس محض ایک تاریخ نہیں بلکہ قومی عزم، دفاعی مہارت اور غیر متزلزل حوصلے کی ایک تابندہ علامت بن کر ابھرا۔ اس دن پاکستان کے شاہینوں نے جس جرأت، حکمت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، اس نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ یہ صرف جنگی طیاروں کی پرواز نہ تھی بلکہ ایک ایسی للکار تھی جس نے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔بھارت برسوں سے اپنی عسکری برتری کے زعم میں مبتلا ہو کر پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتا رہا۔ کبھی سرحدی اشتعال انگیزی، کبھی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور کبھی دھمکی آمیز بیانات کے ذریعے وہ خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے خواب دیکھتا رہا مگر دس مئی کا دن اس کے تمام خوابوں کے چکنا چور ہونے کی داستان بن گیا۔ جب دشمن نے ہماری فضاؤں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو پاک فضائیہ کے شاہین بجلی بن کر ٹوٹے اور ایسا منھ توڑ جواب دیا کہ دشمن کے اوسان خطا ہو گئے۔
ہمارے جان باز ہوابازوں نے جس مہارت سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا، وہ عسکری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔دشمن کو ایسی کاری ضرب لگی کہ اس کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ وہ جو ہمیشہ بڑھکیں مارتے اور پاکستان کو آڑے ہاتھوں لینے کے دعوے کرتے تھے، خود میدان میں چاروں شانے چت ہو گئے۔ ان کے غرور کا بت ریزہ ریزہ ہو گیا اور انھیں اپنی ناکامی چھپانے کے لیے بہانے تراشنا پڑے۔پاک فضائیہ نے ثابت کیا کہ صرف جدید ہتھیار ہی جنگ نہیں جیتتے بل کہ جذبہ، حکمتِ عملی اور وطن سے محبت اصل قوت ہوتے ہیں۔ ہمارے شاہینوں نے دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ دشمن کو ایسا سبق ملا کہ اسے چھٹی کا دودھ یاد آ گیا۔ ان کے جنگی منصوبے جو بڑے فخر اور رازداری سے تیار کیے گئے تھے، پل بھر میں ملیا میٹ ہو کر رہ گئے۔ ان کی ساری منصوبہ بندی ہوا ہو گئی اور وہ دنیا کے سامنے اپنی سبکی چھپانے میں لگ گئے۔یہ کامیابی صرف عسکری میدان کی فتح نہیں بلکہ نظریاتی اور اخلاقی برتری کی علامت بھی ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ہم امن پسند قوم ہیں لیکن اگر ہماری خودمختاری، سلامتی یا عزت کو چیلنج کیا جائے تو ہم خاموش تماشائی نہیں بنتے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دشمن نے جارحیت کی کوشش کی، اسے منھ کی کھانی پڑی۔ دس مئی کا واقعہ اسی تسلسل کی ایک روشن کڑی ہے۔دشمن نے ہمیشہ میڈیا کے شور، جھوٹے پروپیگنڈے اور عالمی حمایت کے سہارے اپنی طاقت کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کی مگر جب حقیقت کا سامنا ہوا تو ان کے تمام دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ پاکستان کے شاہینوں نے اپنے عمل سے یہ واضح کر دیا کہ وطن کا دفاع ہمارے لیے صرف ایک فرض نہیں بل کہ ایمان کا درجہ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کے تمام حربے ناکام ہوئے اور ان کا غرور خاک میں مل گیا۔اس تاریخی کامیابی نے پوری قوم کے حوصلے بلند کر دیے۔ ہر پاکستانی کے دل میں فخر کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ قوم نے اپنے شاہینوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنھوں نے اپنی مہارت، جرأت اور قربانی سے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر اپنی افواج کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں۔ ہم ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کے داعی رہے ہیں لیکن امن کی خواہش کو کم زوری سمجھنا دشمن کی سب سے بڑی بھول ہے۔ اگر کوئی ہماری سرحدوں، فضاؤں یا قومی وقار کو للکارے گا تو اسے ایسا جواب ملے گا جو تاریخ یاد رکھے گی۔ پاکستان کی افواج ہر لمحہ تیار ہیں اور قوم اپنے محافظوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت اپنی جارحانہ پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ دھونس، دھمکی اور اشتعال انگیزی سے خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اگر دشمن نے دوبارہ کوئی مہم جوئی کی کوشش کی تو شاید اسے سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملے۔ پاکستان کے شاہین آج بھی پوری قوت، عزم اور وقار کے ساتھ اپنے وطن کی فضاؤں کی حفاظت کے لیے تیار کھڑے ہیں اور یہی وہ حقیقت ہے جو دشمن کے غرور کو ہمیشہ شکست دیتی رہے گی۔
Latest Posts
