تحریر: ڈاکٹر محمد شکیل بھنڈر
بے شک، ماں وہ ہستی ہے جس کی محبت، دعا اور قربانی کسی ایک مخصوص دن یا تاریخ کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ وہ رشتہ ہے جو زندگی کے ہر لمحے، ہر سانس اور ہر موڑ پر ہماری ڈھال بن کر ساتھ رہتا ہے اس لیے اس عظیم رشتے کے ساتھ محبت ، عزت و احترام اور خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کسی خاص دن، کسی خاص وقت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ، یہ تو وہ احساس ہے جو ہر ذی روح کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے اور اس کی موت پر ختم ہوتا ہے بلکہ میرا یہ ماننا ہے ماں کی محبت اور دعائیں دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی اولاد کے لیے جاری رہتی ہیں ۔ ماں کی ممتا صرف نو انسانی میں ہی نہیں ہوتا بلکہ اللہ پاک کی قدرت کا نظارہ کرنا ہو تو ہر ذی روح ، چرند پرند اور حیوانات میں ماں کی محبت اور اپنی اولاد کے لیے شفقت ہر جگہ نظر آئے گی۔
ماں کی اہمیت کو بیان کرنے کے لیے چند پہلو:
غیر مشروط محبت: دنیا کے ہر رشتے میں کوئی نہ کوئی غرض ہو سکتی ہے لیکن ماں کی محبت بے لوث اور بے غرض ہوتی ہے۔
سایہ اور پناہ گاہ: زندگی کی تپتی دھوپ میں ماں کا آنچل ہمیشہ ٹھنڈا سایہ فراہم کرتا ہے یہ وہ سایہ ہے جو ہر وقت ماں کے دل سے نکلنے والی جو زبان پر جاری رہتی ہے اس کا اثر ہوتا ہے۔
دعاؤں کا حصار: ماں کی دعائیں وہ ہتھیار ہیں جو تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتی ہیں اور انسان کو بڑی سے بڑی مصیبت سے بچا لیتی ہیں۔ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ دعا تقدیر بدل دیتی ہے اور جہاں ممتا کی دعا ہر قدم پر آپ کے ساتھ ساتھ چل رہی ہو تو واقعی یہ دعا آپ کو زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کے عروج تک لے جاتی ہے۔
عظمت کا معیار: مذہب اور انسانیت دونوں نے ماں کے قدموں تلے جنت قرار دے کر اس رشتے کی عظمت پر مہر ثبت کر دی ہے، اس لیے کامیابی کا دارومدار محنت ، لگن ، جہد مسلسل کے ساتھ والدین کی دعاؤں میں ہوتا ہے اس میں ماں اور باپ دونوں کی دعا اگر شامل حال ہو تو وہ انسان کو عروج پر لے جاتی ہے، اللہ پاک نے انسانی رشتوں میں ماں کو اس لیے سب سے بلند مقام عطا فرما ہے کہ ایک وہی ہستی دنیا میں ہے جو اپنی اولاد کے لیے سب سے زیادہ تکلیف برداشت کرتی ہے ۔ اس لیے ماں کا رشتہ اور رتبہ بھی عظیم ہے۔
واقعی، ماں کے لیے تو ہر دن ہی ‘ماں کا دن’ ہونا چاہیے کیوں کہ ہماری ہستی کا وجود ہی ان کی مرہونِ منت ہے۔ یہاں میں اپنی امی جان کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا دنیا کی ہر ماں اپنی اولاد کے لیے عظیم ہے لیکن میری امی جان نے جو کچھ میرے لیے کیا ہے وہ لفظوں میں بیان کیا ہی نہیں جا سکتا اور نہ ہی میں اپنی والدہ کا قرض اپنی سانس کے ہر جاری لمحے خدمت کر کے ادا کر سکتا ہوں بس اتنا عرض کرنا چاہوں گا آج میں جو کچھ بھی ہوں صرف اور صرف اپنی امی جان کی بدولت ہوں میری ہستی آپ کی بدولت ہے اللہ پاک سے دعا ہے میری والدہ سمت جن کی مائیں حیات ہیں اللہ پاک ان کو صحت والی زندگی عطا فرمائے اور ان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رہے جن کی مائیں اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئیں ہیں اللہ پاک اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،آمین!
بقول اقبال:
خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب کس کو یاد آؤں گا
Latest Posts
