از قلم رائے ظہیر حسین کھرل
اردو ادب اور کالم نگاری میں ”اداس پرندہ“ محض ایک علامت نہیں بلکہ انسانی فطرت، تنہائی اور معاشرتی رویوں کا ایک گہرا آئینہ ہے۔ انسانی بستیوں کے شور و غل سے دور، جب شام کی لالی افق پر بکھرنے لگتی ہے، تو اکثر منڈیروں پر ایک ایسا پرندہ دکھائی دیتا ہے جو اپنی ٹولی سے بچھڑ چکا ہوتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ویرانی اور پروں میں تھکن ہوتی ہے۔ ہم اسے ”اداس پرندہ“ کہتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ایک پرندہ، جس کی فطرت ہی رقص اور چہچہاہٹ ہے، وہ اداس کیوں ہوتا ہے؟
پرندے کی اداسی کی سب سے بڑی وجہ اس کا اپنے فطری ماحول سے کٹ جانا ہے۔ آج کے دور میں بلند و بالا کنکریٹ کی عمارتوں نے ان درختوں کی جگہ لے لی ہے جہاں کبھی ان کے نشیمن ہوا کرتے تھے۔ جب ایک پرندہ اپنے پرانے پیڑ کی جگہ ایک بے جان ستون دیکھتا ہے، تو اس کی خاموشی دراصل اس کے بے گھر ہونے کا احتجاج ہوتی ہے۔ جدیدیت کے اس سفر میں ہم نے صرف زمین ہی نہیں چھینی، بلکہ وہ نیلا آسمان بھی آلودہ کر دیا جو ان کی پرواز کی کل کائنات تھا۔کچھ پرندے وہ ہیں جو سونے کے پنجروں میں قید ہیں۔ انہیں بہترین دانہ اور ٹھنڈا پانی تو میسر ہے، لیکن ان کی پرواز چھین لی گئی ہے۔ ایک قیدی پرندے کی اداسی اس بات کی گواہ ہے کہ آزادی کا نعم البدل دنیا کی کوئی نعمت نہیں ہو سکتی۔ وہ سلاخوں سے سر ٹکراتا ہے، اپنی سریلی آواز کھو دیتا ہے اور آخر کار ایک ایسی خاموشی اختیار کر لیتا ہے جو کسی مرثیے سے کم نہیں ہوتی۔ پرندے کی اداسی صرف اس کی اپنی نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس معاشرے کی عکاس ہوتی ہے جہاں زندگی کی قدریں دم توڑ رہی ہوں۔
پرندہ تب بھی اداس ہوتا ہے جب وہ انسانوں کے درمیان رہ کر ان کے بدلتے ہوئے رویوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ پہلے گھروں کے صحنوں میں چڑیوں کے لیے دانہ اور پانی رکھا جاتا تھا، اب ان صحنوں کی جگہ گیراجوں نے لے لی ہے۔ ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ جب ہم اپنے مفاد کے لیے درخت کاٹتے ہیں، تو ہم صرف لکڑی نہیں کاٹ رہے ہوتے بلکہ کئی نسلوں کا مستقبل اجاڑ رہے ہوتے ہیں۔ ایک اداس پرندہ دراصل خوف زدہ ہوتا ہے، شکاری سے نہیں بل کہ اس بے رخی سے جو اسے اجنبی بنا دیتی ہے۔اگر ہم تھوڑا گہرائی میں جا کر دیکھیں تو “اداس پرندہ” خود انسان کی اپنی روح کا استعارہ ہے۔ انسان بھی اس کائنات میں ایک مسافر پرندے کی مانند ہے جو اپنے اصل ٹھکانے کی تلاش میں اداس ہے۔ ہم سب اپنے اپنے پنجروں میں مقید ہیں— کسی کا پنجرہ انا کا ہے، کسی کا خواہشات کا، اور کسی کا ماضی کی یادوں کا۔ جس طرح ایک اداس پرندہ آسمان کی وسعتوں کو دیکھ کر لمبی آہ بھرتا ہے، اسی طرح انسانی روح بھی مادی آسائشوں کے باوجود ایک نامعلوم کمی کا شکار رہتی ہے۔اداس پرندے کو دوبارہ چہچہانے کے لیے سونے کے پنجرے کی نہیں، بلکہ ایک ہرے بھرے شجر اور تھوڑی سی ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری منڈیروں پر دوبارہ رونق لوٹ آئے، تو ہمیں قدرت کے ساتھ اپنے ٹوٹے ہوئے رشتے کو دوبارہ جوڑنا ہوگا۔ اداسی کسی بھی ذی روح کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ پرندوں کی اداسی ختم کرنا دراصل اپنی انسانیت کو زندہ کرنے کے مترادف ہے۔ یاد رکھیں! جب تک آسمان پر پرندے خوشی سے پرواز نہیں کریں گے، زمین پر بسنے والا انسان بھی حقیقی خوشی سے محروم رہے گا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دلوں اور گھروں کے دروازے ان معصوم پرندوں کے لیے کھول دیں، تاکہ “اداس پرندہ” محض ایک کہانی یا کالم کا عنوان نہ رہے، بل کہ مسرت کا استعارہ بن جائے۔
Latest Posts
