پنجاب کالونی کراچی میں کتب خانے کا فقدان

تحریر: عبدالحفیظ تمرانی
کتب خانہ وہ جگہ ہے جہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک ساتھ رہتے ہیں۔ کتب خانہ علم کا وہ خزانہ ہوتی ہے جہاں ہر عام آدمی کو تحقیق اور مطالعے کا بہترین موقع ملتا ہے۔ اس کے علاوہ کتب خانہ زبان و ادب کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ قدیم تاریخ اور ثقافت کو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔ تاریخ کے اعتبار سے کتب خانے کے دور کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1. قدیم دور:
قدیم دور کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا پہلا کتب خانہ تقریباً 300 قبل مسیح میں اسکندریہ (مصر) میں قائم ہوا۔
2. وسطی دور:
اگر اسلامی دور پر نظر دوڑائی جائے تو بغداد کو “بیت الحکمت” کا درجہ حاصل تھا، اسی لیے بغداد علم کا مرکز بنا، جہاں عربی، یونانی اور فارسی کتابیں جمع کی گئیں۔ وہاں کتب خانوں کو باقاعدہ لائبریری کی حیثیت ملی۔
3. جدید دور:
1440ء سے جب چھپائی (پرنٹنگ) کا دور شروع ہوا تو دنیا میں کتابی انقلاب آگیا۔ کتابوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافے کے بعد عوامی کتب خانے قائم ہونے لگے، جس سے کتب خانوں تک عام آدمی کی رسائی آسان ہوگئی۔ 19ویں صدی میں سرکاری سطح اور یونیورسٹیوں میں بڑے پیمانے پر کتب خانے کھلے تاکہ طلبہ ان سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ اس وقت ای-لائبریریاں بھی قائم ہو چکی ہیں جن سے طلبہ، محققین اور عام لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اس جدید دور میں سندھ کے دارالحکومت کراچی کی اہم رہائشی کالونی ”پنجاب کالونی“، جو شہر کے ایک اہم رہائشی علاقے کے طور پر جانی جاتی ہے، آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں وہ نوجوان اور طلبہ رہتے ہیں جو شہر کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ وہ یہاں اکثر ‘بیچلر’ (مقیم) ہیں اور اپنے بہتر مستقبل کے لیے تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اپنے حسین خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر سکیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس علاقے میں لائبریری جیسی اہم سہولت موجود نہیں ہے۔ اکثر رہائشی دور دراز علاقوں یا مڈل کلاس خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کی آمدنی محدود ہے۔ مڈل کلاس بچوں کے لیے کتابیں خریدنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا، اس لیے وہ طلبہ لائبریریوں کا رخ کرتے ہیں۔ ان بچوں کے لیے کتب خانہ کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ کتب خانے نہ صرف تعلیم کو فروغ دیتے ہیں بلکہ معاشرے میں شعور بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں واقع کتب خانوں تک پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ کے اخراجات یا لائبریری فیس برداشت کرنا ایک مشکل عمل ہے۔ نتیجے کے طور پر، کئی باصلاحیت نوجوان مناسب ماحول اور وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنی پڑھائی جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پڑھائی کے لیے پرامن اور مناسب جگہ ہر طالب علم کا بنیادی حق ہے۔ میں اس وقت سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کراچی کے بزنس ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کا طالب علم ہوں اور میرا تعلق ضلع خیرپور کے شہر ‘کنب’ سے ہے۔ پنجاب کالونی میں کئی طلبہ اپنے چھوٹے کمروں یا شور والے ماحول میں پڑھنے پر مجبور ہیں، جہاں نہ صرف توجہ برقرار رکھنا مشکل ہے بلکہ ذہنی دباؤ بھی بڑھتا ہے۔اگر پنجاب کالونی کراچی میں ایک معیاری کتب خانہ قائم کیا جائے تو طلبہ کو نہ صرف پڑھنے کے لیے سازگار ماحول ملے گا بل کہ انہیں مختلف کتابوں، اخبارات اور تحقیقی رسائل تک رسائی بھی حاصل ہو سکے گی۔ کتب خانے صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ علم، شعور اور ترقی کا مرکز ہوتی ہے۔ ایسے ادارے کے قیام سے نہ صرف طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوگی، بل کہ پورے علاقے میں پڑھائی کا رجحان بڑھے گا۔ جہاں آج کا نوجوان نشے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، وہاں لائبریریاں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ متعلقہ سرکاری ادارے، مقامی نمائندے، سول سوسائٹی اور سماجی تنظیمیں مل کر نوجوان نسل کی بہتری کے لیے لائبریری جیسی اہم ضرورت کو پورا کریں۔ پنجاب کالونی کراچی میں لائبریری کا قیام صرف ایک سہولت نہیں بلکہ مستقبل میں نوجوانوں کے لیے ایک سرمایہ کاری ہوگی۔ اگر آج ہم اپنے نوجوانوں کو علم کے مواقع فراہم کریں گے تو کل یہی نوجوان اپنے معاشرے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اور اپنے والدین کے حسین خوابوں کو پورا کر سکیں گے۔ بااختیار ادارے اور سول سوسائٹی اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دیں تاکہ پنجاب کالونی کراچی میں ایک جدید کتب خانہ قائم کر کے نوجوانوں کے داؤ پر لگے مستقبل کو بچایا جا سکے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow