تحریر: حفظہ حنیف
حال ہی میں ایک پاکستانی ڈرامہ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس کا عنوان تھا”تن من نیل و نیل”شروع میں ہی ڈرامے میں نہایت پیچیدہ اور نازک پہلو پر بات اٹھائی گئی۔ اس ڈرامے کو دیکھ کر پہلے تو اس بات کی تردید کی گئی کہ پاکستانی ڈرامے ساس بہو کے روایتی موضوعات پر بنائے جاتے ہیں۔اس ڈرامے میں معاشرے کی تلخ حقیقتوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ ہمارے یہاں عورتوں کے ساتھ ظلم و جبر پر بات تو ہر کوئی دوسرا لکھاری یا ادیب کرتا ہے لیکن اس ڈرامے میں مردوں کے ساتھ کیے جانے والے معاشرتی تعصبات کی بھی عکاسی کی گئی ہے۔اور سب سے اہم موضوع جس کو اٹھایا گیا ہے اس ڈرامے میں وہ ہے مذہب کے نام پر انسانیت کا استحصال۔ ہم کیسے مذہب کی آڑ میں لوگوں کے ساتھ نہ صرف زیادتی کر جاتے ہیں بلکہ ان کی زندگیوں کو بھی روندھ ڈالتے ہیں؟ ڈرامے کے کرداروں میں رابی سونو اور مون جو اپنی ایک تنظیم بناتے ہیں جس میں وہ خوشی غمی کی تقریبات کا اہتمام کرنے کا کام شروع کرتے ہیں۔ اور کامی جو کہ ایک ایسا کردار ہے جو حسد کی آگ میں مذہب کے نام پر ان کو بری طرح لوگوں سے مروا دیتا ہے۔ ڈرامے کی آخری قسط میں نہایت المناک انجام دکھایا ہے جس میں سونو اور مون کسی تقریب میں ڈانس کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کامی وہاں لوگوں کو مذہب کے نام پر قائل کرتا ہے۔ مسلمان ہو کر اللہ کے مقدس گھر کے آگے ناچ گانا دیکھ رہے، جب کہ وہ مقدس گھر سکھوں کا گردوارہ ہوتا ہے اور وہاں بیٹھے لوگ کامی کے منہ سے صرف مسلمان ہونا ہی سن کر تلواروں اور دوسرے ہتھیاروں سے ان کی جان لینے کی در پہ ہو جاتے ہیں یہ جانے بغیر کہ کون سی مقدس جگہ ہے؟ اور ان کو گلیوں میں گھسیٹتے ہوئے بری طرح موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ یہ عکاسی کی گئی ہے اس خونخوار معاشرے کی جہاں کسی کے کپڑوں پر صرف عربی رسم الخط دیکھ کر ایک عورت کو مجرم بنا کر رسوا کیا جاتا ہے مذہب کے نام پر۔ جس میں مذہبی شدت پسندی کی بنا پر ایک عورت کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ڈرامہ نگار نے نہایت شاندار انداز میں دکھایا ہے، معاشرہ کس لہر میں جا رہا ہے؟ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کس طرح ہماری آنکھوں کے سامنے معصوم جانوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے؟ اور ہم بغیر صحیح غلط کو جانے اس کی تقلید میں لگ جاتے ہیں۔اور اس کے ساتھ ڈرامے کی پیش کش نہایت عمدہ تھی اور ڈرامے کے اختتام پر بہت اچھے انداز میں موضوعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ڈرامے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ لکھنے والے، دکھانے والے آج بھی موجود ہیں ہمارے معاشرے میں برائیوں پہ آواز اٹھانے کے لیے اور اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے پاکستانی ڈرامے صرف تفریح و لطف پر مبنی نہیں ہوتے۔
ہمارے آس پاس کتنے ہی ایسے کردار ہیں جو مذہبی شدت پسندی کی بنا پر دوسروں کی زندگیوں کا تماشا بناتے ہیں۔ اگر کوئی پینٹ کوٹ میں موصوف اسلام کی بات کر دے تو ہمارے اندر اسلامی ولولے اٹھتے ہیں کہ لباس تو مذہبی ہے نہیں بات کیسے مذہبی کر سکتا ہے؟ اسی طرح اگر کوئی اخلاقیات پر بات کرے تو ہمارے اہل جبہ حضرات اس پر بھی مذہبی رحجانات عائد کرتے ہیں۔ آج اس دور میں مذہب کے نام پر جس طرح انسانیت کا استحصال ہو رہا ہے اس موضوع پر ایسے ڈرامے بہت اچھی آواز ہیں۔ یہ انسانیت کے حق میں دین کی اساس اپنے خدا کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی اور آخرت میں اس کی جزا کا تصور ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ ہمارے نزدیک تربیت ،تنبہیہ اور اصلاح کی کوئی چیز نہیں بلکہ یہاں مذہب کے نام پر خدائی فوجدار بن کر انسانوں کی جانوں سے کھیلا جاتا ہے۔ افسوس ہے اس جذباتی معاشرے پر جہاں ہجوم کی عدالت لگا کر لوگ لمحے میں ہیرو بن جاتے ہیں۔ قرآن پاک میں بد ظنی اور افواہوں پر رد عمل کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔محض سنی سنائی بات جس کی تفتیش بھی نہ ہوئی ہو اس بات کا جواز نہیں بن سکتی کہ کسی شخص کو ماورائے قانون مار دیا جائے یا سر زنش کیا جائے۔
Latest Posts
