تحریر: محمد اختر انجم، ڈیرہ غازی خان
قلم پکڑنا ایک انتخاب ہے، مگر اسے سنبھالے رکھنا ایک کٹھن عہدِ وفا ہے۔ تین مئی کا دن، جسے عالمی یومِ صحافت کے طور پر منایا جاتا ہے، محض ایک روایتی تاریخ نہیں بلکہ ایک گہرا احساس ہے۔ یہ ایک ایسی یاد دہانی ہے کہ سچ کی راہ کبھی ہموار نہیں ہوتی۔ یہ دن ہمیں ان بے شمار قلم کاروں، رپورٹرز اور صحافیوں کی بے لوث قربانیوں کا ادراک دلاتا ہے جنہوں نے لفظوں کو ہتھیار بنا کر وقت کے سیاہ اندھیروں کا مقابلہ کیا اور حق گوئی کی پاداش میں صعوبتیں برداشت کیں۔
صحافت دراصل وہ چراغ ہے جو معاشرے کے تاریک گوشوں میں روشنی بانٹتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں قومیں اپنی اخلاقی اور سماجی حقیقت کا چہرہ دیکھتی ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جب بھی معاشرے کو آئینہ دکھایا جاتا ہے، وہ آئینہ ہی نشانے پر رہتا ہے۔
سچ لکھنے والے نہ صرف بیرونی مخالفت بلکہ اپنوں کی تنہائی، شدید دباؤ اور جان لیوا خطرات کا سامنا بھی کرتے ہیں۔ ان کی جدوجہد اکثر خاموش ہوتی ہے؛ جہاں نہ کوئی شور ہوتا ہے نہ کوئی ظاہری جشن، بلکہ صرف ذمہ داری کا بوجھ اور ضمیر کی پکار ہوتی ہے۔
ایک صحافی جب خبر کی تلاش میں نکلتا ہے تو وہ محض الفاظ جمع نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ وہ معاشرے کے رستے ہوئے زخموں کو بے نقاب کرتا ہے۔ وہ ان سچائیوں کو سامنے لاتا ہے جنہیں طاقتور ایوانوں میں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی سچائی بعض اوقات اس کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا بھر میں صحافیوں نے اپنی جانوں، ذاتی آزادی اور سکونِ قلب کی قیمت پر حق کا علم بلند رکھا اور قلم کی حرمت پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو نہایت تکلیف دہ ہے۔ جہاں سچی صحافت بے پناہ قربانی مانگتی ہے، وہیں کچھ مفاد پرست عناصر نے اس مقدس پیشے کو ذاتی مفادات، سنسنی خیزی اور بے بنیاد خبروں کی نذر کر دیا ہے۔ ایسے رویے نہ صرف صحافت کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عوام کا وہ اعتماد بھی مجروح کر دیتے ہیں جو کسی بھی ریاست کا ستون ہوتا ہے۔ مثبت اور ذمہ دار صحافت وہی ہے جو تحقیق، دیانت اور توازن کے سنہری اصولوں پر قائم ہو۔
آج کے دور میں، جہاں سوشل میڈیا کی یلغار نے ہر شخص کو رپورٹر بنا دیا ہے، صحافت کی پہچان مزید مشکل ہو گئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں صحافت اب محض ایک مشن نہیں بلکہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ خاص طور پر چھوٹے شہروں میں یہ صورتحال تشیوشناک ہے، جہاں ایسے افراد جنہیں صحافت کے لغوی معنی اور اس کی ابجد کا بھی علم نہیں، وہ پریس کلبوں کے سرخیل بنے بیٹھے ہیں۔ ان عناصر نے بلیک میلنگ اور معزز شہریوں کی پگڑیاں اچھالنے کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ ان کے پاس نہ کوئی پیشہ ورانہ تربیت ہے اور نہ ہی صحافتی اخلاقیات کی بنیادی سمجھ بوجھ۔ یہ لوگ اس عظیم پیشے کے چہرے پر وہ داغ ہیں جن کا تدارک وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافت کو محض خبر رسانی یا “ریٹنگ” تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک مقدس قومی مشن کے طور پر اپنایا جائے۔ میڈیا ہاؤسز کو چاہیے کہ وہ سفارش اور تعلقات کے بجائے صرف تربیت یافتہ، باصلاحیت اور نظریاتی افراد کو آگے لائیں۔ اسی طرح صحافیوں پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سچائی اور دیانت داری کو اپنا شعار بنائیں اور قلم کی طاقت کو کسی کے خلاف انتقام یا ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہ کریں۔
آزادیٔ اظہارِ رائے بلا شبہ ایک بنیادی انسانی حق ہے، مگر یہ حق اپنے ساتھ ذمہ داری کی ایک بھاری زنجیر بھی لاتا ہے۔ جب آزادی بے لگام ہو جائے تو انتشار پھیلتا ہے اور جب یہ آزادی چھین لی جائے تو سچ دم توڑ دیتا ہے۔ سچ دب جائے تو معاشرہ جہالت کے اندھیروں میں بھٹکنے لگتا ہے۔
صحافت ایک مسلسل اور صبر آزما جدوجہد کا نام ہے؛ ایک ایسی جدوجہد جو بظاہر شور نہیں مچاتی، مگر اس کی گونج تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ سنائی دیتی ہے۔ ہمیں ہر قیمت پر اس شمع کو جلائے رکھنا ہے، کیونکہ اگر یہ بجھ گئی تو اندھیرے ہمیں نگل لیں گے۔ یاد رکھیے، سچ کی بقا ہی دراصل معاشرے کی بقا ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام سچے قلم کاروں کو ہمت، استقامت اور تحفظ عطا فرمائے، اور ہمیں سچ کو پہچاننے اور اس کا ساتھ دینے کی توفیق دے۔ آمین۔
Latest Posts
