از قلم :- ذیشان افضل
دنیا میں ہر انسان عزت اور احترام کا خواہش مند ہوتا ہے۔ انسان چاہے امیر ہو یا غریب، تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ وہ اپنی عزت کو سب سے زیادہ عزیز رکھتا ہے۔ مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ معاشرے میں اکثر غریب آدمی کو کمزور اور بے بس سمجھا جاتا ہے۔
غریب کی عزتِ نفس وہ قیمتی خزانہ ہے جو اسے زندگی کے سخت حالات میں بھی ٹوٹنے نہیں دیتا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کے باوجود خود کو دوسروں کے سامنے جھکنے نہیں دیتا ہے۔ بل کہ محنت کرکے حلال روزی کمانا پسند کرتا ہے۔ غریب آدمی کا دل اگرچہ ضرورتوں سے بھرا ہوتا ہے مگر اس کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس سے اس کی غربت کی وجہ سے نفرت نہ کریں بل کہ اس کی محنت اور سچائی کی وجہ سے عزت دیں۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ غریب لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں بڑی بڑی قربانیاں دیتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور ضروریات کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ کبھی مزدوری، کبھی رکشہ چلانا، کبھی چھوٹا سا کاروبار، کبھی دکان پر ملازمت ۔ یہ سب کام وہ عزت کے ساتھ کرتے ہیں۔ غریب کو اپنے کپڑوں یا گھر کی حالت پر شرمندگی نہیں ہوتی ہے بل کہ شرمندگی اس بات پر ہوتی ہے کہ کہیں وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہو جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض لوگ غریب کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ مگر مدد کرتے وقت اس کی عزتِ نفس کا خیال نہیں رکھتے۔ کسی کے سامنے غریب کو پیسے دینا، اس کی غربت کا اعلان کرنا یا اسے احساس دلانا کہ وہ محتاج ہے یہ سب باتیں اس کے دل کو توڑ دیتی ہیں۔ غریب کا دل حساس ہوتا ہے۔ وہ بھوک برداشت کر لیتا ہے، مگر ذلت برداشت نہیں کر سکتا ہے۔
اسلام نے بھی غریب کی عزتِ نفس کو بہت اہمیت دی ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ضرورت مند کی مدد ایسے انداز سے کی جائے کہ اسے شرمندگی نہ ہو۔ قرآن و حدیث میں بار بار تاکید کی گئی ہے کہ صدقہ اور خیرات چھپا کر دی جائے تاکہ لینے والے کی عزت محفوظ رہے۔ یہی انسانیت کا تقاضا بھی ہے اور اخلاق کی بنیاد بھی۔
غریب کی عزتِ نفس دراصل معاشرے کے لیے ایک سبق ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ عزت صرف دولت سے نہیں ملتی بل کہ کردار، محنت اور خودداری سے ملتی ہے۔ وہ غریب جو سخت گرمی میں مزدوری کرتا ہے، ٹھنڈی راتوں میں سڑک پر کام کرتا ہے یا کم تنخواہ پر گھر چلاتا ہے۔ وہ اصل میں بہت عظیم انسان ہے۔ اس کی محنت اور صبر اسے دوسروں سے ممتاز بناتے ہیں۔
اگر معاشرہ غریب کی عزتِ نفس کو سمجھے اور اس کا احترام کرے تو کئی مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ غربت جرم نہیں، بلکہ یہ زندگی کی ایک آزمائش ہے۔ غریب کو حقیر سمجھنا دراصل انسانیت کی توہین ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم غریبوں کی مدد ضرور کریں، مگر اس انداز میں کہ ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ غریب کی عزتِ نفس ایک روشن چراغ ہے جو اس کے دل میں امید اور حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ یہ عزت ہی اسے محنت پر مجبور کرتی ہے۔ یہ غیرت ہی اسے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے روکتی ہے۔ اگر کسی قوم کے غریب خوددار ہوں تو وہ قوم کبھی تباہ نہیں ہوتی بل کہ ایک دن ضرور ترقی کرتی ہے۔
غریب کا احترام کرنا دراصل انسانیت کا احترام کرنا ہے۔
Latest Posts
