عنوان: “کیا دعا سے تقدیر بدل سکتی ہے؟”

از قلم: ڈاکٹر زینب آزاد آعوان
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کی تقدیر اُس کے پیدا ہونے سے بہت پہلے لکھ دی جاتی ہے مگر اسی کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی جڑی ہے اور وہ ہے دعا کی طاقت۔ دعا وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو اپنے رب سے جوڑتی ہے اور اسی کے ذریعے وہ اپنی تقدیر میں بہتری کی امید رکھتا ہے۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب میں اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ دعا کیا کرتی تھی:
“اے اللہ! اگر میری قسمت میں ڈاکٹر بننا نہیں بھی لکھا تو اپنی رحمت سے اسے میری قسمت میں لکھ دے۔”
یہ الفاظ صرف خواہش نہیں تھے بلکہ یقین، امید اور توکل کا اظہار تھے۔
ہم میں سے اکثر لوگ جب کسی آزمائش یا تکلیف کا سامنا کرتے ہیں تو فوراً اپنی قسمت کو کوسنے لگتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: “میری قسمت ہی خراب ہے، میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟” حالانکہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگی میں بے شمار نعمتیں، خوشیاں اور سکون بھی اسی رب کی عطا ہیں۔ ہم دکھ کو یاد رکھتے ہیں مگر شکر کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
میری ایک بہت قریبی دوست، ڈاکٹر طیبہ طارق صاحبہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ میں ہمیشہ انہیں یہی سمجھاتی تھی کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اگر کوئی دعا اس دنیا میں پوری نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں یا تو بہتر عطا فرماتے ہیں یا پھر آخرت میں اس کا عظیم اجر دیتے ہیں۔ اور اُس دن انسان خود کہے گا:
“کاش! میری کوئی دعا دنیا میں پوری ہی نہ ہوتی۔”
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔”
(سورۃ غافر 40:60)
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
“اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دیں کہ) میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔”
(سورۃ البقرہ 2:186)
اسی طرح فرمایا گیا:
“تم اپنے رب کو عاجزی اور چپکے چپکے پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
(سورۃ الاعراف 7:55)
اور ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
“اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتا۔”
(سورۃ الطلاق 65:2-3)
اگر ہم ان آیات پر دل سے غور کریں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ آسمانوں اور تمام جہانوں کا رب خود ہمیں پکار کر کہہ رہا ہے: تم دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ اس سے بڑی تسلی اور کیا ہو سکتی ہے؟ دعا صرف نماز یا سجدے تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر لمحے اپنے رب سے جڑے رہنے کا نام ہے۔ خوشی ہو یا غم، تنہائی ہو یا ہجوم، دعا ہر حالت میں انسان کا سہارا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ دل میں یقین اور رب پر مکمل توکل ہو۔
آخرکار، دعا وہ آواز ہے جو زمین سے اٹھتی ہے، مگر اس کا جواب آسمانوں سے آتا ہے۔
آج میں اپنی زندگی کے جس مقام پر بھی ہوں، وہ سب دعاؤں کی بدولت ہے۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میں یہاں تک پہنچوں گی مگر میرے رب نے میری اُن دعاؤں کو بھی سن لیا جو شاید مجھے خود بھی مکمل یقین کے ساتھ نہیں مانگنی آتی تھیں۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow