تحریر:ڈاکٹر طالب حسین ہاشمی
تنویر سپرا (اصل نام: محمد حیات) اردو اور پنجابی شاعری کے اُن نمائندہ اور منفرد لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے زندگی کے کھردرے تجربات کو نہ صرف جھیلا بلکہ انہیں اپنی شاعری کا بنیادی حوالہ بھی بنایا۔وہ 1929ء میں ضلع جہلم کے گاؤں داراپور میں پیدا ہوئے۔ان کے والد غلام محمد سپرا ایک محنت کش انسان تھے اور یہی طبقاتی پس منظر تنویر سپرا کی فکر و فن کی بنیاد بنا۔ان کی زندگی کا ابتدائی دور معاشی تنگی اور وسائل کی کمی سے عبارت تھا، جس کے باعث وہ باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کر سکے، مگر یہ محرومی ان کے شوقِ علم کے آگے رکاوٹ نہ بن سکی۔کم عمری میں ہی روزگار کی تلاش انہیں کراچی لے گئی، جہاں انہوں نے بحری جہازوں پر رنگ و روغن کا کام کیا۔یہ کام محض مزدوری نہ تھا بلکہ زندگی کے سخت اور تلخ حقائق سے ان کا پہلا عملی تعارف بھی تھا۔ کچھ عرصہ درزی کے پیشے سے وابستہ رہے،پھر جہلم واپس آ کر دکانداری کی اور بعد ازاں لاہور میں صحافت کے میدان میں بھی قدم رکھا۔یہ تمام پیشے بظاہر مختلف تھے مگر ایک چیز ان سب میں مشترک تھی:محنت، جدوجہد اور مسلسل آگے بڑھنے کا عزم۔1959ء میں انہوں نے پاکستان ٹوبیکو کمپنی جہلم میں ملازمت اختیار کی،جہاں وہ ایک محنت کش کارکن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کا تخلیقی اور فکری سفر بھی جاری رہا۔
تنویر سپرا کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے رسمی تعلیم کی کمی کو خود مطالعہ،مشاہدہ اور ذاتی محنت سے پورا کیا۔انھوں نے ادیب عالم اور ادیب فاضل جیسے امتحانات پاس کیے،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے اندر سیکھنے کا جذبہ کس قدر مضبوط تھا۔یہی مطالعہ اور مشاہدہ بعد میں ان کی شاعری کی فکری گہرائی اور معنوی وسعت کا سبب بنا۔
انہوں نے 1963-1964ء کے دوران شاعری کا آغاز کیا،مگر ادبی دنیا میں ان کا باقاعدہ تعارف 1969ء میں اس وقت ہوا جب ان کا کلام معروف ادبی جریدے فنون میں شائع ہوا۔یہ اشاعت ان کے لیے سنگِ میل ثابت ہوئی۔ان کی شاعری میں کوئی بناوٹ، تصنع یا لفظی بازی گری نہیں بلکہ ایک سادہ، سچّا اور بے ساختہ اظہار ملتا ہے۔وہ زندگی کو جس طرح جیتے تھے، اسی طرح اسے بیان بھی کرتے تھے۔ ان کے ہاں محنت کش انسان کی محرومیاں، سماجی ناانصافیاں، طبقاتی فرق، اور انسانی وقار کی جدوجہد نہایت شدت اور خلوص کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔
ان کا نمایاں مجموعۂ کلام “لفظ کھردرے” 1980ء میں شائع ہوا، جو ان کی شعری شناخت کا سب سے مضبوط حوالہ ہے۔ اس مجموعے میں شامل اردو اور پنجابی کلام ان کے فکری اور فنی سفر کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔ “لفظ کھردرے” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک عہد، ایک طبقے اور ایک حساس دل کی داستان ہے، جس میں زندگی کی سختی، سچائی اور تلخی پوری شدت کے ساتھ محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان کے اشعار میں وہی کھردرا پن ہے جو ان کی زندگی کا حصہ تھا، اور یہی ان کی شاعری کو ایک منفرد اور قابلِ شناخت لہجہ عطا کرتا ہے۔
ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 1988ء میں انہیں وزیر اعظم Benazir Bhutto کی جانب سے نیشنل بک کونسل آف پاکستان کا عوامی ادبی جمہوری انعام دیا گیا۔یہ اعزاز اس بات کی علامت تھا کہ ایک مزدور پس منظر سے آنے والا شاعر بھی اپنے فن کی بدولت قومی سطح پر پہچان حاصل کر سکتا ہے۔
تنویر سپرا 13 دسمبر 1993ء کو اسلام آباد میں وفات پا گئے اور اپنے آبائی علاقے ضلع جہلم میں سپردِ خاک ہوئے۔ ان کی وفات کے ساتھ ایک ایسا آواز خاموش ہو گئی جو ہمیشہ عام انسان کے دکھوں، امیدوں اور جدوجہد کی نمائندگی کرتی رہی۔
تنویر سپرا کی شاعری کا سب سے بڑا وصف اس کی سچائی اور خلوص ہے۔وہ کسی مصنوعی فلسفے یا پیچیدہ اسلوب کے قائل نہیں تھے بلکہ انہوں نے براہِ راست زندگی سے سیکھا اور اسی کو بیان کیا۔ان کے ہاں لفظوں کی چمک دمک نہیں بلکہ تجربے کی حرارت ہے، جو قاری کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتی۔ ان کی شاعری ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ادب صرف تفریح یا جمالیات کا نام نہیں بلکہ یہ زندگی کے اصل مسائل اور انسانی احساسات کی ترجمانی بھی ہے۔یوں تنویر سپرا کی زندگی اور فن دونوں اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ عظمت کا تعلق وسائل سے نہیں بلکہ عزم، محنت اور خلوص سے ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے حالات کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ اپنی طاقت بنایا اور اسی طاقت کے ذریعے اردو اور پنجابی شاعری میں ایک ایسا لہجہ پیدا کیا جو آج بھی زندہ اور توانا ہے۔
Latest Posts
