تحریر: محمد اختر انجم (ڈیرہ غازی خان)
تاریخ کے کسی موڑ پر جب انسانیت کا حساب ہوگا تو سندھ کی مٹی سے ایک سوال ضرور پوچھا جائے گا:
”تمھارے سینے پر ایک ایسا شخص بھی سویا تھا جس کے دماغ میں پانچ زبانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا تھا، جس کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ نسلوں کی پیاس بجھاتے تھے، پھر وہ شخص ٹھٹہ کی گلیوں اور سجاول کے بس اسٹاپ پر کچی زمین پر کیوں پڑا رہا؟“
وہ تصویر، جو آج کل سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے، محض ایک بوڑھے، نحیف اور خستہ حال انسان کی تصویر نہیں؛ یہ ہمارے ادبی اور سماجی ضمیر کی شکستہ پیشانی ہے۔ یہ اردو اور سندھی ادب کے معروف ناول ”رولو“ کے خالق کی بے بسی کا نوحہ ہے۔ یہ مشتاق احمد کاملانی ہیں، وہی کاملانی جنہوں نے ”گونگی بارش“ جیسا تخلیقی شاہ کار لکھا، مگر آج ان کی اپنی بستی کے لوگ ان کی سسکیوں کے سامنے بہرے ہو چکے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے! وہ شخص جس نے سندھ یونیورسٹی کے کوریڈورز میں اپنی ذہانت کے جھنڈے گاڑے، جسے انگریزی، فارسی، اردو اور پنجابی پر ایسا عبور حاصل تھا کہ بڑے بڑے اہلِ علم حیران رہ جاتے تھے، آج اس کے پاس سر چھپانے کو چھت نہیں۔ سنا ہے اس کے گھر پر قبضہ کر لیا گیا۔ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں غنڈوں کے پاس محلات ہیں اور دانشور کے نصیب میں فٹ پاتھ کی دھول؟
کاملانی صاحب نے ایک بار کہا تھا:
”اگر خدا نے تمہارے منہ میں زبان رکھی ہے اور تم اسے سچ کہنے کے لیے استعمال نہیں کرتے تو ایک احسان کرو، اسے کٹوا لو۔“
آج ان کی یہ تصویر ہماری زبانوں کے لیے ایک آئینہ بن چکی ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو ادیب کے مرنے کے بعد اس کے نام پر ایوارڈز بانٹتے ہیں، اس کے فن پر مقالے لکھتے ہیں اور اس کی یاد میں شمعیں روشن کرتے ہیں؛ مگر جب وہ زندہ ہوتا ہے تو ہم اسے ”دیوانہ“ کہہ کر راستہ بدل لیتے ہیں۔ ہمیں اس کی بڑھی ہوئی داڑھی تو دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے اندر بسا ہوا علم کا سمندر دکھائی نہیں دیتا، جو اب آہستہ آہستہ خشک ہو رہا ہے۔
ان کے چہرے کی وہ تلخ مسکراہٹ دراصل ہم سب پر ایک طنز ہے۔ وہ ہنس رہے ہیں اس نظام پر جہاں کتابیں فٹ پاتھ پر بکتی ہیں اور جوتے شیشے کے شوکیس میں سجائے جاتے ہیں۔ وہ ہنس رہے ہیں ان حکمرانوں پر جن کی ترجیحات میں قلم، کتاب اور دانش کا کوئی خانہ ہی نہیں۔ میرے ہم وطنو! اگر آج مشتاق کاملانی کی غربت اور بے بسی پر ہماری آنکھیں نم نہیں ہوتیں تو ہمیں اپنی بصارت پر ماتم کرنا چاہیے۔ اگر ہم اپنے محسنوں کو جیتے جی باعزت زندگی نہیں دے سکتے تو ہمیں خود کو مہذب قوم کہنے کا بھی کوئی حق نہیں۔ کاملانی صاحب ہارے نہیں، ہارے ہم سب ہیں۔ ہارا وہ نظام ہے جو سچ بولنے والے کو سڑک پر لے آتا ہے اور جھوٹ کی پرستش کرتا ہے۔ یاد رکھیے! جب کسی قوم کے دانش ور سڑکوں پر خوار ہونے لگیں تو سمجھ لیجیے کہ اس قوم کی بربادی کے فیصلے آسمانوں پر لکھے جا چکے ہیں۔ کاش! کوئی مسیحا جاگے، کاش! کوئی ضمیر زندہ ہو، اور اس سے پہلے کہ ”رولو“ کا خالق ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے، ہم اسے وہ عزت دے سکیں جس کا وہ واقعی حق دار ہے۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ قلم کار جب لکھ رہا ہوتا ہے تو ہم اس کی غلطیاں نکالتے ہیں، شاعر جب کلام سناتا ہے تو ہم اس کے وزن اور بحر کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، مگر جب وہ خاموش ہو جاتا ہے تو ہم اس کے ”فن کی بلندیوں“ پر مقالے لکھنے لگتے ہیں۔
کاش! ہم اس مردہ پرستی سے نکل کر زندہ لوگوں کی قدر کرنا سیکھ لیں۔ ورنہ آنے والی نسلیں صرف پچھتاوے کے کالم لکھیں گی، اور مشتاق کاملانی جیسے لوگ ہماری تاریخ کے ماتھے پر ایک بدنما سوال بن کر ہمیشہ چمکتے رہیں گے۔ کبھی کبھی خاموشی اور چند آنسو ان ہزاروں لفظوں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں جو ہم احتجاجاً لکھتے ہیں۔ دعا صرف اتنی ہے کہ ہم اُن لوگوں میں شامل نہ ہوں جو ”قدر“ کرنے میں ہمیشہ بہت دیر کر دیتے ہیں۔
Latest Posts
