سبز پاکستان وقت کی ضرورت ہے

کالم نگار: شبنم رانا ہڈالی
پاکستان کی سرسبز و شاداب دھرتی قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے لیکن دورِ حاضر میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی، بے ہنگم شہری آبادی اور جنگلات کی کٹائی نے اس حسن کو خراب کر دیا ہے۔ آج سبز پاکستان کا نظریہ محض ایک خوشنما نعرہ نہیں بلکہ ہماری قومی بقا، معاشی استحکام اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ اگر آج ہم نے اپنی زمین کو ہرا بھرا نہ بنایا تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ہم ایک ایسی جغرافیائی پٹی میں واقع ہیں جہاں درجہ حرارت میں معمولی اضافہ بھی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ شمال میں ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دریاؤں میں طغیانی اور میدانی علاقوں میں تباہ کن سیلاب آتے ہیں۔ دوسری جانب، موسمِ گرما کی طوالت اور گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت نے انسانی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے۔ ان تمام مسائل کا واحد اور موثر حل شجرکاری اور جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہے۔ درخت قدرت کے وہ سپاہی ہیں جو زمین کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھتے ہیں اور فضا میں موجود زہریلی گیسوں کو جذب کر کے ہمیں زندگی بخش آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔
”سبز پاکستان“ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تیزی سے کٹتے ہوئے جنگلات ہیں۔ ترقی کے نام پر ہم نے نہ صرف دیہی علاقوں بلکہ شہروں کے قدیم درختوں کو بھی بے دردی سے کاٹ دیا ہے۔ مکانات اور کارخانوں کی تعمیر کے لیے زرخیز زمینوں کو کنکریٹ کے جنگلات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہمارے بڑے شہر، خاص طور پر لاہور، دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہونے لگے ہیں۔ ”سموگ“ کی صورت میں جو زہریلی دھند ہر سال ہمارے نظامِ زندگی کو مفلوج کرتی ہے، وہ دراصل درختوں کی کمی اور فضائی آلودگی کا شاخسانہ ہے۔ ایک سبز پاکستان ہی ہمیں اس دم گھٹتی فضا سے نجات دلا سکتا ہے۔
زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور زراعت کا تمام تر دارومدار موافق موسموں اور پانی کی دستیابی پر ہے۔ درخت زمین کے کٹاؤ کو روکتے ہیں اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب پہاڑوں پر درخت نہیں ہوتے تو بارش کا پانی تیزی سے بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے اور مٹی کو بہا کر لے جاتا ہے، جس سے ڈیموں میں ریت بھر جاتی ہے اور بجلی کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ سبز پاکستان کے وژن کے تحت اگر ہم پہاڑی اور میدانی علاقوں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کریں، تو نہ صرف زراعت کو فروغ ملے گا بلکہ کسان خوشحال ہوگا اور ملک معاشی طور پر خود کفیل ہو سکے گا۔
اس مقصد کے حصول کے لیے صرف حکومتی پالیسیاں کافی نہیں ہیں بلکہ اسے ایک عوامی تحریک بنانا ہوگا۔ تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ ہر طالب علم، ہر سرکاری ملازم اور ہر شہری کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ایک پودا لگانا صدقہ جاریہ اور قومی فریضہ ہے۔ ہمیں ”ایک فرد، ایک پودا“ کی مہم کو گھر گھر پہنچانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ، صرف پودا لگانا کافی نہیں بلکہ اس کی پرورش اور حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے جب تک وہ ایک توانا درخت نہ بن جائے۔
سبز پاکستان کا تصور صرف درختوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں ماحول دوست طرزِ زندگی بھی شامل ہے۔ ہمیں پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنا ہوگا جو ہماری زمین اور پانی کو زہر آلود کر رہا ہے۔ شمسی توانائی جیسے متبادل اور صاف ستھرے ذرائع کو اپنانا ہوگا تاکہ ایندھن کے دھوئیں سے نجات مل سکے۔ پانی کی ایک ایک بوند کو بچانا اور کوڑے کرکٹ کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگانا بھی اس مہم کا لازمی حصہ ہے۔ جب ہم اپنی انفرادی عادات کو بدلیں گے، تب ہی اجتماعی طور پر ایک بڑا فرق پڑے گا۔
آخر میں، یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ زمین ہمیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں نہیں ملی بلکہ یہ ہمارے پاس آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی دھرتی کو بنجر چھوڑ دیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ سبز پاکستان ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر میں ہماری زندگی، صحت اور ترقی پوشیدہ ہے۔ فطرت کی طرف واپسی ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک پرامن، پاکیزہ اور خوشحال پاکستان تعمیر کر سکتے ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی دھرتی کو دوبارہ گلزار بنائیں گے اور اس سرسبز و شاداب پاکستان کا تحفہ اپنی آنے والی نسلوں کو دیں گے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow